علم و دانش کا عظیم پیکر۔۔پروفیسر محمد شریف کنجاہی۔ ۔تحریر۔ ۔جواد چیمہ

1579813_206584282880989_1650290196_nمیں آپ کے سامنے جس عظیم شخصیت کا ذکر گوش گزار کرنے جا رہا ہوں وہ ہستی ایک عظیم معلم، مصنف، شاعر، مترجم اور دانشوار ہے۔ میرئے الفاظ اس قابل نہیں اور نہ ہی میرئے ناقص علم میں اتنی پختگی ہے کہ میرا قلم اس بلند پایہ شخصیت کے متعلق تحریر کر نے کے لئے سطح کاغذپر رواں ہو سکے۔لیکن میں پھر بھی اس عظیم ہستی کے بارئے میں کچھ نہ کچھ تحریر کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔
پر وفیسر محمد شریف جن کو لوگ شریف کنجاہی کے نام سے جانتے ہیں 1915 میں ضلع گجرات کے قصبہ کنجاہ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد محترم ایک معلم تھے، آپ نے 1930 میں کنجاہ ہائی سکول سے میٹرک اور 1933 میں گورنمنٹ کالج جہلم سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔زمانہ طالب علمی سے ہی آپ کو شعر وسخن سے گہرا لگاؤ تھا، آپ نے اپنی شاعری کا آغازانگریز تسلط کے خلاف اپنی انقلابی شاعری سے کیا، اِسی انقلابی شاعری کی وجہ سے انگریز دور میں آپ کو گورنمنٹ جاب کے لئے پولیس کلیرنس سرٹیفکیٹ جاری نہ کیا گیا،
آپ 1943 میں منشی فاضل اور بی ائے کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے بطور پرایؤیٹ طالب علم پاس کرنے کے بعد شعبہ تدریس سے وابستہ ہو گئے اورمختلف مقامات پر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔1954 میں آپ نے اردواور1956 میں فارسی کی ڈگری حاصل کی۔

1959 میں گورنمنٹ کالج کمپبالپور میں پنجابی زبان کیلیکچرار تعنیات ہوئے اس کے بعدآپکا تبادلہ گورنمنٹ کالج جہلم میں ہوا جہاں آپ اپنی ریٹائرمنٹ تک اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

1970 میں آپکو پنجاب یونیورسٹی میں نئے شروع کئے جانے والے شعبہ پنجابی کا ممبر بنایا گیا، 1973 سے 1980 تک آپ پنجاب یونیورسٹی میں بحیثیتِ استاد، مصنف، شاعر اور دانش وار خدمات سر انجام دیتے رہے۔

شریف کنجاہی صاحب کا شمار جدید پنجابی بانیوں میں ہوتا ہے۔آپ نے اردو، فارسی اور پنجابی زبان میں شاعری کی، قرآن پاک کا پنجابی ترجمعہ کرنے کا شرف بھی شریف کنجاہی صاحب کو حاصل ہے۔ آپکی پہلی پنجابی شاعری کی کتاب ’’جگراتے‘‘ 1958 میں مشرقی پنجاب میں شائع ہوئی یہ کتاب37 نظموں کامجموعہ ہے اس کے بعد ان کی دوسری کتاب ’’ارک ہوندی لُو ‘‘1995میں شائع ہوئی۔آپ کی وفات 20 جنوری 2007 ہوئی۔ اور آپکو کنجاہ کے ایک عظیم شاعر غنیمت کنجاہی کے ساتھ سپر دئے خاک کیا گیا۔ دنیا جہاں جہاں اہل ادب اور پنجابی زبان سے پیار کرنے والے لوگ رہیں گے وہاں ہاں آپکی خدمات ہمیشہ سراہاجاتا رہے گا۔اور آپکا نام رہتی دنیا تک قائم و دائم رہئے گا، میری دعا ہے کہ اللہ سبحان تعالٰی آپکو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے۔آمین
وارث شاہ او سدا ی جیو ندئے نیں
جناں کیتیاں نیک کمائیاں نیں