کونسے دس ممالک سیاحوں میں مشہور رہے؟

نمبر دس پر روس
سال 2015ء کے دوران 31.3 ملین سیاحوں نے لیو ٹولسٹائی اور دوستوئیفسکی جیسے معروف ادیبوں اور فلسفیوں کے ملک روس کا دورہ کیا۔ صرف ایک دورے میں اس بڑے ملک کودیکھا نہیں جا سکتا۔ ماسکو کا ریڈ اسکوائر، سینٹ پیٹرزبرگ کی وائٹ نائٹس اور ٹرانس سائبیریا ٹرین کے ذریعے سفر سیاحوں میں سب سے زیادہ مشہور ہے
نمبر نو: میکسیکو
32.1 ملین سیاحوں نے صرف دلفریب ساحلوں پر موج مستی کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ میکسیکو کے تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے بھی گزشتہ برس اس لاطینی امریکی ملک کا رخ کیا۔ یہ تصویر تولم میں مایا نامی کھنڈرات کی ہے۔ اس کے علاوہ بھی میکسیکو میں پراسرار عمارتوں کی کمی نہیں ہے۔ یہاں پر استوائی جنگلات بھی موجود ہیں۔ بہت سے سیاح صرف چٹ پٹے کھانوں کے لیے ہی میکسیکو کا رخ کرتے ہیں۔
برطانیہ کا نمبر آٹھ
دارالحکومت لندن میں ثقافتی سرگرمیوں کی کمی نہیں ہے۔ یہاں پر شیکسپیئر تھیٹر ہے، دوپہر میں لوگ باہر بیٹھ کر چائے پینا پسند کرتے ہیں اور پب یا شراب خانوں کا بھی ایک منفرد ہی انداز ہے۔ ان جیسے اور بھی بہت سے دیگر مقامات سے محضوض ہونے کے لیے 2015 ء میں34.3 ملین افراد برطانیہ گھومنے کے لیے گئے۔
جرمنی ساتویں نمبر پر
دنیا کا سب سے بڑا بیئر فیسٹول اکتوبر فیسٹ ہو یا پھر برلن میں ٹیکنو میوزک کی پارٹی، سیاح ہر موقع سے لطف اندوز ہونے کے لیے جرمنی کا رخ کرتے ہیں۔ جرمنی میں تاریخی مقامات کی کشش بھی لاکھوں سیاحوں کو کھینچ کر لے آتی ہے۔ کوئی تقریباً پینتیس ملین سیاح گزشتہ برس جرمنی آئے۔ دیوار برلن، میونخ، بلیک فارسٹ اور صوبہ باویریا میں قائم قلعہ نیو شوانشٹائن مشہور ترین سیاحتی مقامات ہیں۔
ترکی کا چھٹا نمبر
یورپ اور ایشیا کے مابین پل کا کردار ادا کرنے والا ترک شہر استنبول ایک منفرد ثقافتی تنوع کا حامل شہر ہے۔ یہاں کی بلیو موسک یا نیلی مسجد اور ہائیہ صوفیا بہت مشہور ہیں۔ 2015ء میں قریب 39.5 ملین افراد نے ترکی کا دورہ کیا۔ تاہم دہشت گردانہ حملوں اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اس برس سیاحوں کی تعداد کم رہنے کے خدشات ہے۔
نمبر پانچ: اٹلی
اٹلی کو نشاطِ ثانیہ اور رومی سلطنت کا مادر وطن کہا جاتا ہے۔ یہ پیزا، پاستا اور ایسپریسو (کوفی) کے ملک کے طور پر بھی شہرت رکھتا ہے۔ روم سے وینس اور سِسلی کے ساحلوں سے تسکانہ کے قدرتی مناظر تک اٹلی میں بے تحاشا مقامات ہیں، جو سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں۔ گزشتہ برس 50.7 ملین افراد اٹلی گھومنے کے لیے آئے۔
نمبر چار: چین
دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہونے کے ساتھ ساتھ چین دنیا کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بھی ہے۔ کوئی 56.9 ملین سیاح 2015ء کے دوران چین پہنچے۔ دیوار چین اور شاہراہ ریشم کے درمیان خوبصورت مناظر، قدیم ثقافتی مقامات اور انتہائی جدید فن تعمیر کے بیش بہا نمونے موجود ہیں۔
اسپین نمبر تین
اسپین کا نام سنتے ہی ذہن میں فلامینکو ڈانس اور فیئستا یعنی مختلف میلوں کی تصویریں گھومنے لگتی ہیں۔ ویلِنسیا میں ایک دوسرے پر ٹماٹروں کی بارش کرنے والے فیسٹیول’ٹوماٹینا‘ اور پامپلونا میں منائے جانے والے سان فیرمے فیسٹیول کا شمار مقبول ترین میلوں میں ہوتا ہے۔ فن کے شائقین پکاسو اور گاؤڈی کے فنی شاہکاروں کو دیکھنے کے لیے بھی اسپین کا رخ کرتے ہیں۔ اس ملک کو گزشتہ برس68.2 ملین سیاحوں نے دیکھا۔
امریکا نمبر دو پر
فلموں اور گانوں کی وجہ سے تقریباً پوری دنیا امریکی ثقافت سے آشنا ہو چکی ہے۔ گزشتہ برس ’وسیع امکانات کے اس ملک‘ کو دیکھنے کے لیے 77.5 ملین سیاح آئے۔ قدرتی مناظر کو پسند کرنے والے زیادہ تر سیاح طویل روڈ ٹرپ کرتے ہیں، پہاڑوں اور ریگستانی علاقوں کے علاوہ ساحلوں پر وقت گزراتے ہیں۔ اس کے علاوہ جدید ترین امریکی شہروں کی کشش بھی بہت سے سیاحوں کی اپنی جانب کھینچی ہے۔
اول نمبر پر فرانس
پیرس کے علاوہ فرانس کے خوبصورت محل، ساحلی علاقے، عجائب گھر اور کھانوں نے اسے سیاحوں میں سال 2015ء کا سب سے زیادہ مشہور ترین ملک بنایا۔ 84.5 ملین افراد فرانس دیکھنے کے لیے آئے۔ فرانس کے وہ علاقے بھی کافی مشہور ہیں، جہاں وائن تیار کی جاتی ہے۔ حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے فرانس میں سیاحت کی صنعت کافی حد تک متاثر ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود بھی یہ ملک سیاحوں کی جنت ہی بنا رہا۔
مصنف: عدنان اسحاق