ایران: اعلانیہ طور پر حجاب اتارنے والی خاتون کو دو سال کی جیل

ایران میں وزارت انصاف کے زیر انتظام “میزان” ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ ملک میں حجاب کے لازمی ہونے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلانیہ طور پر اپنا حجاب اتارنے والی خاتون شہری کو 24 ماہ جیل کی سزا سنا دی گئی ہے۔ خاتون تین ماہ بعد پے رول پر رہائی کی اہل ہو گی۔فیصلہ سنانے والے تہران کے چیف پراسیکوٹر عباس جعفری دولت آبادی نے خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ استغاثہ خاتون کے خلاف پورے دو سال کی جیل کا مطالبہ کرے گی۔
واضح رہے کہ ایران میں بالوں کو بِنا ڈھانپے اعلانیہ طور پر نمودار ہونے والی خواتین کو عام طور سے دو ماہ یا اس سے کم عرصے کی جیل اور 25 ڈالر کے مساوی جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔دسمبر 2017ء کے اختتام سے اب تک اعلانیہ طور پر حجاب اتارنے والی 30 سے زیادہ خواتین کو گرفتار کیا گیا۔ حکام نے ان میں اکثر کو رہا کر دیا ہے تاہم انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔ دارالحکومت تہران کے بعض علاقوں میں خواتین گاڑی چلا رہی ہوتی ہیں تو ان کے سر کا اسکارف کندھوں پر پڑا ہوتا ہے۔چیف پراسیکوٹر کے مطابق یہ رویہ ناقابل قبول ہے اور انہوں نے اصولی طور پر ایسی گاڑیوں کو ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے جن کو چلانے والی خواتین حجاب پہننے سے انکار کرتی ہیں۔