دہی کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر اورامراضِ قلب سے بچانے میں مددگار

واشنگٹن: ماہرین نے ایک بہت بڑے سروے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ دہی کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر اور دل کے امراض سے بچاتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر، فالج اور امراضِ قلب کی بڑی وجہ ہے، اسی بنا پر اس کیفیت کو ’خاموش قاتل‘ کہا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب آبادی ہائی بلڈ پریشر کی شکار ہے تاہم دہی کا استعمال اس مرض کو قابو میں رکھتا ہے اور یوں دل کے متعدد امراض کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔
اس ضمن میں نرسز ہیلتھ اسٹڈی کی گئی جس میں 30 سے 35 برس کی 55 ہزار ایسی خواتین کو شامل کیا گیا جنہیں بلند فشارِ خون کا عارضہ لاحق تھا جب کہ ساتھ ہی 40 سے 75 سال کے 18 ہزار مردوں کو بھی شامل کیا گیا اور کئی سال تک ان ہزاروں مردوزن کا جائزہ لیا گیا۔
1980 سے شروع کیے گئے اس سروے میں شرکا سے مختلف وقفوں میں 61 سوالات کیے گئے۔ اس دوران شرکا سے فالج، دل کے امراض اور دیگر کیفیات کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ ان میں سے جنہوں نے دہی کا باقاعدہ استعمال کیا تھا ان میں دل کے دورے کا خطرہ 30 فیصد تک کم دیکھا گیا جب کہ خواتین میں یہ شرح 19 فیصد تھی۔
اس سروے میں 3 ہزار 300 خواتین اور 2 ہزار 148 مردوں کو دل، قلبی رگوں یا فالج وغیرہ کا حملہ ہوا۔ سروے کے پورے عرصے میں جنہوں نے ہفتے میں دو مرتبہ دہی کھایا تھا ان میں یہ خطرات 20 فیصد تک کم دیکھے گئے۔ ماہرین کے مطابق اس اہم مطالعے سے دہی کی افادیت سامنے آئی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے اہم رکن جسٹن بیونڈیا کا کہنا ہے کہ اس سے قبل قیاس کیا جاتا رہا تھا کہ دہی بلڈ پریشر معمول پر رکھتا ہے تاہم اب ہزاروں افراد پر کئے گئے 30 سالہ مطالعے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ دہی جسم پر مفید اثرات مرتب کرتا ہے کیونکہ بلڈ پریشر میں مبتلا افراد پر دہی کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بلڈ پریشر میں دہی کا استعمال بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔