پاکستان کا نوجوان باشعور ہو رہا ہے,کتاب دوستی.. ڈاکٹرقمرفاروق

پاکستان کا نوجوان باشعور ہو رہا ہے

میں پاکستان کا حامی ہوں پاکستان کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتا ہوں میں علی ریحان کے کئے ایک محفوظ پاکستان کی تمنا کرتا ہوں ،میں کسی سیاسی جماعت کا حامی نہیں ہوں کیونکہ سیاسی جماعتوں کے رہنما پاکستان کی نہیں اپنی حالت بدلنے کے لئے کوشاں ہیں ۔
کل آسٹریاکے شہر ویانا میں ایک سیاسی جماعت کی اوورسیز کانفرنس تھی کانفرنس کیسی تھی کامیاب ہوئی یا ناکام ہوئی اس کےاغراض ومقاصد کیا تھے یہ الگ موضوع ہے
میں نے وہاں کیا دیکھا اور کیا جذبہ تھا اسے الفاظ دینے کی کوشش کروں گا ۔
کوئی قوم اس وقت تک قوم نہیں بن سکتی جب تک اس کا نوجوان متحرک نہ ہو ،
کوئی قوم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک اس کا نوجوان ایک قدم آگے نہیں بڑھتا۔
کوئی قوم اس وقت تک اپنے رہنما نہیں بنا سکتی جب تک اس کا نوجوان سیاسی شعور کا مظاہرہ نہ کرے۔
وہ ملک ترقی نہیں کرتا جس کا نوجوان اپنے قدموں پر نہ کھڑا ہو
وہ ملک زوال پذیر ہے جس کا نوجوان خود کو غیر محفوظ اور ملک سے باہر نکلنے کا خواہش مند ہو
ان تمام چیزوں کی پاکستان میں کمی بھی ہے اور اشدضرورت بھی اور اس کمی اورضرورت کو نوجوان ہی پورا کر سکتے ہیں ۔ویانا اوورسیز کانفرنس گو ان نوجوانوں کا اکٹھ تھا جو اپنے بہترین توانیاں اور بہترین دن اپنے ملک سے باہر گزار کر اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں لیکن ایک چیز دوسروں سے ممتاز کرتی ہے کہ یہ نوجوان اپنے پاکستان کو بھی انہی ممالک کی فہرست میں دیکھنا چاہتا ہےاور اس کوشش میں ہے کہ وہ کسی طریقہ سے پاکستان کے نظام کو تبدیل کر دے ۔
امید کی ایک کرن جو پورے معاشرے کو روشن کر دے گی نظر آ رہی ہے۔اوورسیز کانفرنس میں حوصلہ افزاء بات تھی کہ دنیا بھر سے نوجوان اس میں شریک ہوئے ننانوے فیصد حاضری تیس سے پنتالیس سال کے نوجوان تھے جن میں شعور کی پختگی اور وطن سے محبت بدرجہ اتم موجود پائی جاتی ہے۔یہی وہ نوجوان ہیں جو دنیا بھر میں پاکستان کے لئے کام کر رہے ہیں اور ایک سوچ رکھتے ہیں کہ ہمارا پاکستان بھی پہلی دنیا کی طرح نظر آئےکیا وجہ ہے کہ چار موسم کے ساتھ دنیاکی اکثر نعمتیں ملک میں ہونے کے باوجود ملک آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے جا رہا ہے۔
کسی بھی ملک کا حاکم وقت اگر بزنس مین ہو گا تو وہ پہلے اپنے بزنس کو بڑھاوا دے گا پھر ملک کے بارے میں کوئی کام ہوگا اور یہی بدقسمتی ستر سال سے پاکستان کا پیچھا کر رہی ہے۔تمام حکمرانوں نےملک کو اپنے کاروبار کے لئے استعمال کیا اپنا کاروبار ملک کے لئے نہیں کیا۔
اوورسیز کانفرنس کا نوجوان بددیانتی اور خیانت کے خلاف ہے ہر بات کو میرٹ پرپرکھنے کی بات کر رہا ہے ان کے اپنے پائے کے رہنما موجود تھے لیکن ان کے سامنے بھی حق اور سچ کی آواز کے علاوہ جو ملک کے لئے بہتر ہے اس پر بات کی اور یہی کردار پاکستان کی کامیابی کی دلیل ہے۔
اوورسیز کانفرنس کی ایک بات جو نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزا تھی وہ نوجوان پارلیمنٹرین مراد سعید تھا جسے دیکھ کر ہر نوجوان کے دل میں خواہش نے انگڑائی لی کہ وہ بھی ملک وقوم کی خدمت میں آگے آسکتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ملک کے اندر اور پارٹی کے اندر جمہوریت اور میرٹ کی بالادستی ہو گی ۔

کتاب دوستی

کتاب دوست قوموں نے ترقی کی ہے اور جب تک مسلمان کتاب کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کئے رہے دنیا ان کے سامنے سرنگوں رہی ،بغداد کی بیت الحکمت ہو یا اندلس کے کتب خانے مسلمانوں کا فخر رہے۔
گذشتہ سال میں بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں تھا جس ہوٹل میں تھا اس کی لابی میں ایک دیوار کے ساتھ کتابوں کا ریک دیکھا بہت ساری پرانی انداز کی کتابیں وہاں موجود نظر آئیں ۔کتاب سے محبت اس ریک کے ہاس لے گئی دیکھا تو حیران رہ گیا کہ وہ کتابوں کا ریک نہیں بلکہ تصویر تھی جو حقیقت کے بالکل قریب تھی۔
آج آسڑیا کے دارالحکومت ویانا میں ہوں ائیر پورٹ پر ایک کافی شاپ پر بیٹھا تھا تو سامنے کتابوں اور اخبارات کے سٹنیڈ پر نظر پڑی ۔اخبارات کا سٹینڈ اصل تھا لیکن کتابوں والا ریک ایک تصویر تھی جسے دیکھ کر مجھے برسلز کا ہوٹل یاد آگیا۔
جد ید ترقی کے دور میں بھی جب سب کچھ کمپیوٹر کی سکرین پر موجود ہے لیکن یورپ میں کتاب بینی بھی جاری ہے۔یورپ کے کسی بھی ملک میں آپ جائیں لوگ آپ کو ٹرین ،بس، جہاز اور میٹرو وغیرہ میں کتاب پڑھتے نظر آئیں گے۔ اور اسی طرح ٹیلی ویژن ،انٹرنیٹ اور ویب سائٹس کی منٹ منٹ پر اپ ڈیٹ کے باوجود اخبار پڑھنے کا رجحان بھی موجود ہے اور اکثریت اخبار خرید کر پڑھتے ہیں ۔
2008 کی بات ہے میں بارسلونا میں ایک پاکستانی کی دکان پر گیا اور اسے اردو کا اخبار دیا تو اس نے کینے سے انکار کر دیا جب میں نے کہا کہ مفت دے رہا ہوں تو اس نے تب بھی نہیں لیا ۔یہ ایک بندے کی بات نہیں ہمارا مجموعی رویہ ایسا ہے۔ہم میں کتاب بینی کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے ۔
یورپ میں دیگر مصوری کی اصناف کے ساتھ ساتھ کتاب کو بھی مصوری میں شامل رکھا ہے اور کتاب دوستی کو اپنی عوام میں فروغ دے رہے ہیں
اسی کتاب دوستی کا سب سے بڑا مظاہرہ اسپین کے شہر بارسلونا میں 23اپریل کو ہوتا ہے جسے کتاب اور پھول کا تہوار کا نام دیا گیا ہے۔اس روز شہر بھر میں کتابوں کے اسٹال لگائے جاتے ہیں خواتین مردوں کو کتاب اور مرد خواتین کو پھول کا تحفہ دیتے ہیں اس طرح پورا سال کتاب کی خوشبو محسوس ہوتی رہتی ہے۔
آو کتاب دوستی کو فروغ دیں اور باشعور ہونے کا عملی مظاہرہ کریں