شعیب سلطان خان؛ جنوبی ایشیا میں دیہی ترقی کا مسیحا

پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا میں جب بھی دیہی ترقی کا ذکر کیا جاتا ہے تو شعیب سلطان خان کا نام سامنے آتا ہے۔
انہوں نے دیہی ترقی کا جو ماڈل متعارف کرایا اسے اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں نے ایک مستند معیار کے طور پر تسلیم کیا، انھیں دیہی ترقی کے ایک ’گرو‘ کا درجہ دیا جاتا ہے، اسکے پس منظر میں ان کی برسوں کی محنت اور ندرت خیال شامل ہے۔ پچیس برس سول سروس میں ڈپٹی کمشنر، پھرکمشنر جیسے عہدوں پر فائز رہنے کے دوران شعیب سلطان ہمیشہ غریب دیہاتیوں کی محرومیوں اور مصائب کی کسک دل میں محسوس کرتے اور عہد کرتا تھے کہ وہ ان کی حالت سنوارنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔اسی دوران میں ان کی پوسٹنگ رورل اکیڈمی پشاور میں ہوئی۔ یہ نکتہ آغاز تھا دیہی ترقی کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کا۔
دیہی ترقی کا ماڈل بنیادی طور پر شعیب سلطان کے استاداختر حمید خان ضلع کومیلا ،مشرقی پاکستان میں پیش کرچکے تھے، شاگرد نے اسے پشاور کے تھانہ داؤد زئی کے 70 سے زائد دیہاتوں میں پائیلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کر دیا۔ ماڈل کے بنیادی اجزاء کمیونٹی کی تنظیم، لیڈرکا انتخاب، ممبرز کی بچت، اجتماعی ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی، مناسب تکنیکی مہارت کی فراہمی اور وسائل تک رسائی تھیتاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور تعمیر و ترقی سے خاندانوں کی خوشحالی ممکن ہو۔ یہ ایک مشکل اور محنت طلب کام ضرور تھا لیکن لوگ عزم و حوصلے سے سرشار تھے۔ شعیب سلطان کو تائید اور اعانت ہمہ وقت میسر تھی۔
لوگوں کی دلچسپی اور بھرپور شرکت، نئے تجربے اور مشاہدے، ہنر سیکھنا اور استعمال میں لانا، اجتماعی مباحثوں میں حصہ لے کر خوب سے خوب ترکی جستجوحاصل منزل ٹھہری۔ اس طرح اداروں اور افراد میں تعاون کے رشتے مضبوط ہوئے۔ داؤدزئی پروجیکٹ نے خوب شہرت حاصل کی، ایک غیر ملکی یونیورسٹی نے اس پر ریسرچ پیپر شائع کیا۔ بین الاقوامی اداروں نے اس کے اچھوتے انداز اور کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا۔پروجیکٹ کے خدوخال پر انڈیا میں ویکاس پبلشرز نے شعیب سلطان کی کتاب ’’رورل ڈیولپمنٹ ان پاکستان‘‘ شائع کی۔ اس میں داؤدزئی پروجیکٹ پر سات ابواب میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اب اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکاہے۔
اقوام متحدہ نے شعیب سلطان کی خدمات مستعار لیں اور انھیں ناگویا جاپان میں بھجوایا جہاں انہوں نے اپنے تجربات اور مشاہدات کو وہاں کے تربیتی اداروں سے شئیر کیا۔ جاپان کے بعد ان کی اگلی منزل سری لنکا میں ’ماہ ویلی پروجیکٹ‘ تھا جو وہاں کی دیہاتی زندگی کا معیار بلند کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے نے شروع کیا تھا۔ سری لنکا کے معاشرتی حالات بھی بڑی حد تک پاکستان سے ملتے جلتے ہیں، وہاں دیہاتیوں کی تنظیمیں بناکر، انہیں مناسب تربیت دے کر تعمیر و ترقی کی بنیاد رکھی گئی۔ ’ماہ ویلی پروجیکٹ‘ کی کامیابیوں سے آگاہ ہوکر متعدد ترقیاتی اداروں کے نمائندے یہاں وزٹ کرتے۔عالمی پریس میں سری لنکا کے اس پراجیکٹ کو خوب پزیرائی ملی۔بہترین کارکردگی پر سری لنکا میں شعیب سلطان کے قیام میں توسیع کر دی گئی اور وہ 1982 تک وہاں رہے۔
پاکستان واپسی پر انہوں نے سول سروس سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور اپنے آپ سے عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی اپنے ملک کے غریب اور بے بس دیہاتی لوگوں کو محرومی اور افلاس سے نجات دلانے میں بروئے کار لائیں گے حالانکہ ان کے لیے ممکن تھا کہ وہ اسلام آباد کے خوبصورت سیکٹر ایف سکس میں واقع اپنے گھر میں آرام کرتے، شام کو سول سروس کے دوستوں کے ہمراہ مارگلہ کی پہاڑی پر سیر کرتے اور رات کو اسلام آباد کلب میں کھانا کھاتے لیکن دنیا میں کچھ کر گرزنے کا عزم رکھنے والوں کے اپنے خواب ہوتے ہیں۔
پرنس کریم آغا خان نے انہیں شمالی علاقوں کے عام لوگوں کی پسماندگی دور کرنے کا مشن سونپ دیا، یوں مدتوں سے ان کے دل میں جاگزیں خیال کی تکمیل کا وقت آپہنچا۔ دسمبر 1982ء کی ایک یخ بستہ رات کو جیپ کے ذریعے اسلام آباد سے گلگت کی جانب شعیب سلطان کے سفر کا آغاز ہوا اور یوں آغاخان رورل سپورٹ پروگرام( AKRSP ) کی تاریخ کا پہلا ورق لکھا گیا ، پھر یہ کامیابی کی داستان کا ایک روشن باب بن گیا۔ اس ایک لمحہ نے فکرو خیال میں نئے رنگ بھر دئیے۔ لگتا تھا کہ اس خطے کے بھاگ جاگ اٹھے ہیں۔ چار افراد نے چنار ان ہوٹل گلگت میں اس تاریخ ساز تنظیم کی بنیاد رکھی، اگلے بارہ برسوں کی کہانی مسلسل جدوجہد سے عبارت تھی۔
شعیب سلطان نے اپنی ٹیم کے ساتھ دیہات کے لوگوں کو تنظیم کے تصور سے آشنا کیا، مل بیٹھنے اور اجتماعی طور پر سوچنے، اپنی ترقی کے پروگرام خود بنانے کا سبق دیا، ان کے لئے مطلوبہ تربیت کا اہتمام کیا، وسائل اور اعانت فراہم کئے، لوگوں نے بھی ان پروگراموں میں اپنی بھر پور شرکت کو یقینی بنایا۔ یوں ترقی کے مراحل طے ہوتے گئے، منصوبے بتدریج مکمل ہونے لگے، روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے اور پھر معاشی اور معاشرتی تبدیلی کی راہ ہموار ہوئی۔ اس سارے عمل سے لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا، انھیںتعلیم اور صحت کی سہولیات ملیں، صاف پانی اور آبپاشی کی سہولتوں کی فراہمی حقیقت بنی ۔
شمالی علاقوں میں دیہی انقلاب کی ابتدا ہوئی،درجنوں دیہاتوں میں ترقیاتی سکیموں کا جال بچھ گیا۔ شعیب سلطان پہاڑوں، میدانوں میں ہر جگہ موجود ہوتے ، ان کی رہنمائی اور شاباش ہمہ وقت میسر تھی۔ اس پورے عمل سے تجارت، کاروبار، خود کفالت، چھوٹے پیمانے پر انڈسٹری اور زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، نئے شفاخانے اور تعلیمی ادارے قائم کئے گئے۔یوں معیار زندگی بڑھا ۔
آغاخان رورل سپورٹ پروگرام کا ترقیاتی ماڈل اس قدر موثر، مقبول اور کامیاب ہوا کہ1994 میں اقوام متحدہ کے ادارے UNDP نے شعیب سلطان سے کہا کہ وہ جنوبی ایشیا میں غربت کے خاتمے کے پروگرام میں کام کریں اور پرنس کریم آغا خان نے اس شرط کے ساتھ ان کو اجازت دی کہ وہ زندگی بھراے کے آر ایس پی کے خصوصی معاون کے طور پر اس کا حصہ رہیں گے۔ آغا خان رورل ڈیولپمنٹ کی رہنمائی کے بارہ برس جہاں شعیب سلطان کے لیے قابل اطمینان اور باعث فخر تھے، وہیں پر یہ تنظیم اب جنوبی ایشیا کے لیے ایک قابل قدر اور معروف ادارے کا روپ دھار چکی تھی۔
شعیب سلطان اب دیہی ترقی کی پہچان اور شناخت بن چکے ہیں ، عالمی ترقیاتی اداروں کے لیے وہ ایک مثال ہیں۔ اقوام متحدہ کا خیال تھا کہ ان کی خدمات اور حکمت عملی کو دوسرے ترقی پذیر ملکوں میں استعمال کیاجائے،1994 کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے انھیں انڈیا،بنگلہ دیش، مالدیپ اور نیپال میں بھیجا گیا کیونکہ غربت کے دکھ درد جنوبی ایشیا کے سارے ممالک میں ایک جیسے ہیں۔ انڈیا کے صوبہ اتر پردیش میں بھی شعیب سلطان نے بہت زیادہ کام کیا، وہاں کی حکومت اور اداروں نے ان سے مکمل تعاون کیا۔ کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے بھی ذاتی دلچسپی لی، کئی پروگراموں میں خود شرکت کی، وہاں کے وزیر اعلیٰ اور منتخب صوبائی نمائندوں نے بھی بھر پور سپورٹ فراہم کی، اب لاکھوں افراد ان کے تیارکردہ منصوبوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں، دیہی ترقی کا یہ پروگرام بھارت کے متعدد صوبوں میں شروع کیا جا چکا ہے۔
شعیب سلطان جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہر جگہ کام کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ وہ ایسے شخص ہیں جو اپنے آپ کو فائیو سٹار ہوٹل، ائیرپورٹ لابی، کسی دفتر کے کمرے، ہوائی جہاز میں، درختوں کی چھاوں تلے یا ٹین کی چادر سے بنے عارضی شیڈ کے نیچے کام کرنے کو یکساں تصور کرتے ہیں۔1992 میں حکومت پاکستان نے ان سے کہا کہ اپنے ملک میں رورل ڈیولپمنٹ کے حوالے سے ادارے قائم کرنے میں مدد کریں چنانچہ انہوں نے کئی اداروں کو مضبوط بنیادوں پر قائم کیا۔ وہ اس وقت بے شمار ملکی اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں اور منصوبوں میں اعزازی طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستان میں دیہی ترقی سے متعلقہ گیارہ اداروں کے نیٹ ورک ’آر ایس پی این‘ کے چئیرمین ہیں اور اس سیکٹر میں اپنے نصف صدی سے زائد تجربے کو استعمال کر رہے ہیں۔
شعیب سلطان کی ان عظیم خدمات کو ہر جگہ اور ہر فورم پر تسلیم کیا جاتا ہے، انھیں حکومت پاکستان ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور ستارہ ایثار پیش کر چکی ہے۔ دنیا سے ملنے والے ان گنت ایوارڈ اور اعزازات میں گلوبل 500، اشوکا فیلو، فلپائین کا رامن مگاسے ایوارڈ اور برطانیہ کا ورلڈ کنزرویشن میڈل بھی شامل ہے۔ شعیب سلطان خان کی ذاتی زندگی اور دیہی ترقی کے حوالے سے ان کی فقیدالمثال خدمات پر آسٹریلیا کے معروف صحافی اور مصنف نوئل کوسنز نے700 صفحات پر مشتمل ایک مستند اور تفصیلی کتاب Man in the Hat لکھی جو دلچسپ اور افسانوی انداز لیے ہوئے ہے۔ ان کی اپنی کتابA journey through grassroots development کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ Notes for reference میں مختلف النوع موضوعات پر بیشمار مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریریں موجود ہیں۔ شعیب سلطان خود انگریزی کے بہت اعلیٰ پائے کے لکھاری ہیں، انہوں نے جاپان اور سری لنکا میں اپنے قیام کے دوران اپنی بیگم صاحبہ کو جو خطوط لکھے وہ ادب، روایات اور لطیف جذبوں کا خوبصورت اظہار ہیں۔
شعیب سلطان خود ستائشی کوسوں دور، ہر لمحہ، ہر ساعت اپنے کام میں مگن اور منہمک رہتے ہیں۔ محروم اور افلاس زدہ طبقے کی خوشحالی کا خواب آنکھوں میں سجائے مسلسل مصروف عمل ہیں، میں نے جب ان کے استاد اختر حمید خان کا ذکر کیا توانھوں نے بڑ ے ادب و احترام سے کہا کہ ’’میں آج جو کچھ ہوں، یہ سارا کمال اوراعجاز ان کا ہے۔ وہ تو برگد کا اک چھناور درخت تھے، جس کے سائے سے ہر کوئی مستفید ہوتا تھا۔ انہوں نے دیہی ترقی کے نظریے کو اتنا آسان، عام فہم اور قابل عمل بنا دیا کہ بے آب و رنگ بستیوں کو سبزہ و گل میں تبدیل کر دیا۔ صدیوں سے غربت و افلاس اور محرومیوں کی چکی میں پستے لوگوں کو گلاب بھرے بہار کے موسموں سے آشنا کیا‘‘۔ دوسروں کو خوشیاں تقسیم کرنے والے، مقصد اور معنویت سے بھرپور زندگی گزارنے والے شعیب سلطان خان جیسے اہل دانش اور شوق و جنون کے ساتھ کام کرنے والے ہی تو ہمارے معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہیں اور یقیناً ایسا معاشرہ کبھی بنجر اور ویران نہیں ہو سکتا۔
اعجاز علی خان