سفر حجازسے محبت سمیٹ لایا۔۔ڈاکٹرقمرفاروق..قسط 2

مسجد الجن کی زیارت

الحرمین الشریفین کی زیارت کا شرف حاصل کرنے والے ‘مسجد الجن’ کی زیارت بھی کرتے ہیں مکہ مکرمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے جڑی بے شمار جگہیں ہیں جن کی زیارت کر کے ایک مسلمان اپنے دل کی تڑپ کو کم کرتا ہے جو محبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وجہ سے دلوں کو متحرک کئے ہوئے ہیں
ابھی مارچ کے دو دن باقی ہیں لیکن گرمی جون اور جولائی کی طرح ہے صبح جب مسجد الجن کی زیارت کے لئے نکلے تو سورج اپنے جوبن پر تھا اور درجہ حرارت 38تھا جو بعد میں اور زیادہ ہو گیا
گاڑی مسجد الجن کی جانب رواں دواں تھی کہ ذہن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور مبارک میں ہونے والی اس گفتگو کی جانب تھا جس میں جنوں کی ایک جماعت نے اسلام قبول کیا اور قرآن پڑھا
مسجد الجن، مسجد حرام کی شمال کی جانب تین کلومیٹر کی مسافت پر واقع تاریخ اسلام کی عظیم یادگارسجھی جاتی ہے۔ کتب تاریخ میں اس کی شہرت کے اور بھی کئی واقعات ملتے ہیں تاہم اس کی سب بڑی وجہ شہرت یہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جنات کی ایک جماعت کا قبول اسلام کا واقعہ ہے
آپ سے قران پاک سنا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سوالوں کے جواب دیے۔
مستند تاریخی مصادر اور کتب سِیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار آپ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود کو ہمراہ لیے رات کے وقت اس جگہپہنچے۔ آپ نے عبداللہ بن مسعود کو ایک خاص مقام سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا تاکہ کہیں جنات انہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ پھر آپ کی ملاقات جنات کے ایک گروپ سے ہوئی، جنہوں اسلام قبول کیا اور آپ سے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔ قرآن پاک کی سورہ الجن وہیں اور اسی واقعے کے تناظر میں نازل ہوئی۔
بعد ازاں اسی مناسبت سے وہاں ایک وسیع وعریض مسجد تعمیر کی گئی، جسے ‘مسجد الجن’ کا نام دیا گیا۔ مرور زمانہ کے ساتھ مسجد کی تعمیر و مرمت کے دورن اس کے ڈیزائن بدلتے رہے ہیں مگر اس کے قیام کا واقعہ آج تک مسلمانوں کے دلوں میں تازہ ہے۔
مکہ مکرمہ کی تاریخی اور ابدی شہرت کی حامل مساجد میں ‘مسجد الجن’ کو بھی لازوال مقبولیت ملی ہے۔

میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جسے بوسہ دیا وہ حجر اسود

حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ حجر عربی میں پتھر کو کہتے ہیں اور اسود سیاہ اور کالے رنگ کے لیے بولا جاتا ہے۔ حجر اسود وہ سیاہ پتھر ہے جو کعبہ کے جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے۔ اس وقت یہ تین بڑے اور مختلف شکلوں کے کئی چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے اندازہ ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں جن کے گرد چاندی کا گول چکر بنا ہوا ہے۔ جو مسلمان حج یاعمرہ کرنے جاتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔
حجر اسود کا استلام یہ ہے کہ اسے ہاتھ سے چھوا جائے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کا بوسہ لیا اورامت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اسے چومتی ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حجراسود کے پاس تشریف لائے اوراسے بوسہ دے کرکہنے لگے : مجھے یہ علم ہے کہ توایک پتھر ہے نہ تونفع دے سکتا اورنہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے ، اگرمیں نینبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تومیں بھی تجھے نہ چومتا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1250 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1720 ) ۔
محبت رسول صلی اللہ الہ وعلیہ وسلم کا تقاضا ہے اور رب کریم کا کرم ہے کہ اس نے مجھے اپنے گھر کی زیارت کرائی ، دل مچل مچل جاتا ہے جب آپ سفر مدینہ و مکہ گھر سے نکلتے ہیں شوق محبت والفت بڑھتا ہی جاتا ہے جب تک آنکھیں کعبہ کو دیکھ نہ لیں جب خانہ کعبہ نظروں کے سامنے آتا ہے تو آنسوں کی جھڑی لگ جاتی ہے اور روح جیسے آسودہ حال ہوگئی ہو جیسے اپنے کے پاس پہنچ گئی ہو اک اطمینان ساآجاتا ہے۔آپ خانہ خدا میں ہوتے ہیں تو ایک ہی خواہش بار بار انگڑائی لیتی ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دے لوں ، نماز ظہر کے بعد جب سورج مکمل سر پر تھا اور خوب چمک رہاتھا لوگ پسینے سے شرابور تھے سوچا کہ حجراسود کو بوسہ دے لوں ابھی رش بہت کم ہے
بھیڑ کم ہونے کے باوجود بھی اتنے افراد موجود تھے کہ آدھا گھنٹہ صرف ہوا دھکم پیل میں میں بھی حجر اسود کو بوسہ دینے میں کامیاب ہوگیا ۔حجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے جب اپنا چہرہ اس کے اندر لے کر گیا تو حجر اسود نے مسکرانا شروع کردیا اور سر گوشی کے انداز میں کہا کہ میں تو دیوار میں لگا ایک پتھر ہوں اور شاید کج فہموں کے مطابق بھربھرابھی ہو رہا ہوں ایسا نہیں ہے ،میں جیسا تھا ویسا ہوں اور ایسا ہی رہوں گا ۔اور نہ میں دیوار میں لگے باقی پتھروں کی طرح کا ہوں میں جنت سے آیا ہوں ،میں دودھ کی مانند سفید تھا لیکن آپ انسانوں کے گناہوں کو چوس چوس کر سیا ہ ہو گیا ہوں ۔
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( حجراسود جنت سے آیا تودودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنو آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیاہے ) ۔
سنن ترمذی حدیث نمبر ( 877 ) مسنداحمد حدیث نمبر ( 2792 )
میں حجر اسود کا مسکرانا اور سرگوشی کو سمجھ گیا،میں صرف اتنا ہی کہہ سکا کہ اللہ تعالی ان تمام لوگوں کو جو حجر اسود کوایک پتھرکہتے ہیں ان کو ہدایت عطا فرماے آمین کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی نہیں جو ہدایت دے اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کومخاطب کرتے ہوئے قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ اے محمد تمہارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے ہدایت دینا میرے اختیار میں ہے۔اے اللہ انکو ہدایت عطا فرما،آمین