پاکستان انسانی اسمگلنگ روکے نہیں تو امداد روک دی جائے گی

ٹرمپ انتظامیہ نے اسلام آباد کو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان سے انسانوں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے تو امریکا پاکستان کو دی جانے والی سویلین امداد بند کر دے گا۔

واشنگٹن کی جانب سے اس نئی تنبیہ کے بعد پاکستان اور امریکا کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں برس جنوری میں پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف ناکافی اقدامات کا الزام عائد کر کے پاکستان کو فراہم کی جانے والی دو بلین ڈالر کی امریکی عسکری امداد روک چکے ہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق اگر امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کو عالمی سطح پر انسانوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا تو پاکستان کو فراہم کی جانے والی 265 ملین ڈالر کی سویلین امداد کا بیشتر حصہ روک لیا جائے گا۔
پاکستانی معیشت کے تناظر میں اس امدادی رقم کی زیادہ اہمیت نہیں ہے لیکن اگر امریکا نے اس فہرست میں شمولیت کے بعد آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت دیگر عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کو قرضوں کی فراہمی کی بھی مخالفت کر دی تو ایسی صورت میں اسلام آباد کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔

وفاقی امریکی قانون کے تحت اگر انسانوں کی اسمگلنگ روکنے یا ختم کرنے سے متعلق کسی ملک کا ریکارڈ خراب ہو تو ایسی صورت میں امریکا کو اس ملک کے خلاف مذکورہ پابندیاں لگانا ہوتی ہیں۔ تاہم اگر صدر ٹرمپ چاہیں تو وہ ایسے ممالک کو ان پابندیوں سے کلی یا جزوی طور پر استثنٰی بھی دے سکتے ہیں۔ گزشتہ برس کی انسانی اسمگلنگ کے بارے میں امریکی بلیک لسٹ میں شامل ممالک کو صدر ٹرمپ بھی سابق امریکی صدور کی طرح جزوی استثنٰی دیتے رہے ہیں۔

پاک امریکا سفارتی تعلقات میں کشیدگی کے تناظر میں تاہم صدر ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان پر مزید دباؤ بڑھانے کے لیے اس بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد پاکستان کو جزوی یا مکمل استثنیٰ نہ دینے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب یہ بات بھی اہم ہے کہ عام طور پر امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ انسانوں کی اسمگنگ اور سکیورٹی خدشات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فہرست تیار کرتا ہے تاہم انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس فہرست کی تیاری میں بھی معاشی اور سیاسی پہلو پیش نظر رکھنے پر تنقید کر رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا ہے اسلام آباد حکومت ملک سے انسانوں کی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ’سنجیدہ کوششیں‘ کر رہی ہے اور امریکا کو پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس مسئلے کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن پاکستان تک یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اس فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ صرف اور صرف اسلام آباد کے انسانوں کی اسمگلنگ کے بارے میں ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں اگر پاکستان انسانوں کی اسمگلنگ کے خاتمے کے ’ٹھوس اور مخلصانہ اقدامات‘ کرے تو وہ اسے اس بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔