Saturday, April 21, 2018
Home > یورپین خبریں > ملکہ الزبتھ دوئم کی رگوں میں مسلم خون دوڑ رہا ہے: مورخین کا دعوی

ملکہ الزبتھ دوئم کی رگوں میں مسلم خون دوڑ رہا ہے: مورخین کا دعوی

مغربی مؤرخین نے دعوٰی کیا ہے کہ ملکہ الزبتھ قرون وسطٰی کے ہسپانیہ کے ان مسلم حکمرانوں کی نسل سے ہیں جن کا شجرہ نسب حضوراکرمﷺ سے جا کر مل
مورخین بسااوقات ماضی کے بارے میں ایسے دعوے کر دیتے ہیں کہ ہر کوئی دنگ رہ جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی عجیب و غریب دعوٰی برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کے سلسلہ نسب کے حوالے سے کر دیا گیا ہے۔
خبر کے مطابق، مغربی مؤرخین نے دعوٰی کیا ہے کہ ملکہ الزبتھ قرون وسطٰی کے ہسپانیہ کے ان مسلم حکمرانوں کی نسل سے ہیں جن کا شجرہ نسب حضوراکرمﷺ سے جا کر مل جاتا ہے۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ قرون وسطٰی کے ہسپانیہ کے یہ حکمران امام حسنؓ کی نسل سے تھے جو حجاز مقدس سےا سپین منتقل ہوئے اور وہاں حکومت کی۔
ان میں ایک بادشاہ کا نام المعتمد ابن عباد بتایا جاتا ہے۔ اس کی ایک بیٹی شہزادی زیدا تھی جو والدین کے ساتھا سپین کے شہر سیوائیل میں رہتی تھی۔یہ 11ویں صدی عیسوی کا واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ شہزادی سیوائیل سے چلی گئی اور بعد ازاں اس نے عیسائیت قبول کر لی۔
مورخین کا دعوٰی ہے کہ ملکہ برطانیہ اسی شہزادی کی نسل سے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہا سپین کے قدیم ریکارڈ سے بھی مورخین کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے اور مصر کے سابق مفتی اعظم علی گوماءبھی اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ابتدائی طور پر یہ دعوٰی 1986ءمیں برطانوی ادارے ’برکز پیریج نے کیا تھا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو برطانوی شاہی خاندان کے شجرہ نسب کا ریکارڈ رکھنے کا ذمہ دار ہے۔سن 986 امیں اس انکشاف کے بعد ادارے نے اس دور کی برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچرکو لکھا تھا کہ وہ شاہی خاندان بالخصوص ملکہ کی سلامتی بڑھا دیں۔
برکز پیریج کے سربراہ نے وزیراعظم کو بھیجے گئے مراسلے میں لکھا تھا کہ برطانوی لوگ بہت کم جانتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کی رگوں میں مسلم خون دوڑ رہا ہے لیکن مذہبی رہنماءاس سے آگاہ ہیں ، انتہاءپسندوں سے ملکہ کو خطرہ ہو سکتا ہے لہذا ان کی حفاظت میں اضافہ کرنا لازمی ہے۔