پلاسہ جایئمے میں قندوز،کشمیر اورفلسطین کے بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف امن کی خواہش تنظیم کا احتجاجی اور تعزیتی پروگرام

بارسلونا(دوست نیوز)گزشتہ دنوں افغان فضائیہ نے ایک مدرسے پر بمباری کی جس کے نتیجہ میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور 150 زخمی ہوئے۔جن میں سے بیشتر مدرسے میں زیرِ تعلیم بچے تھے۔قندوز،کشمیر اورفلسطین کے بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف سماجی تنظیم’’ امن کی خواہش ‘‘نے بارسلونا میں صدر ہاوس اور بلدیہ کے سامنے بھر پور مظاہرہ کیا۔مظاہرہ میں لوگوں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر معصوم بچوں پر ہونے والے ظلم کو نمایا ں کیا گیا تھا۔ گو مظاہرہ میں لوگ کم تھے لیکن وہاں پر گزرنے والے دنیا بھر کے سیاح رک کر دیکھتے رہے اس طرح مظلوم افراد کی آواز دنیا بھر میں سنی گئی۔
مظاہرہ سے مختلف مکتب ہائے فکر کے لوگوں نے خطاب بھی کیا جس میں انہو ں نے کہا کہ امریکہ کا اب افغانستان میں رکنے اور ظلم کا بازار گرم رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اسے وہاں سے فورا نکل جانا چاہیئے۔ اقوام متحدہ کب تک خواب خرگوش میں رہے گا اسے معصوم بچے اور بے گناہ افراد کے قتل عام پر کوئی دکھ نہیں ہوتا اس کا ضمیر کیوں نہیں جاگتا۔کیا یہ مسلمان کا خون ہے۔اس وجہ سے دنیا کے منصف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر قندوز، کشمیر،فلسطین اور شام میں ہونے والے ظلم وزیادتی اور شہید ہونے والے افراد کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا اور دعا کی گئی جس میں امت مسلمہ کی سربلندی اور مظلوموں کی داد رسی کی اللہ کریم سے التجا کی گئی۔
مظاہرہ کا انتظام کرنے والی سماجی تنظیم ’’امن کی خواہش ‘‘ کے صدر چوہدری محمد افضال نے قرار داد پیش کی جس میں انہوں نے معصوم اور بے گناہ شہریوں‌کی ہلاکت پر اظہار مذمت کیا اور حکومت پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنے کی پرزور اپیل کی۔