Saturday, April 21, 2018
Home > تارکینِ وطن کی خبریں > جرمنی: خنجر کے کئی وار تارک وطن نے سابقہ بیوی اور دو سالہ بیٹی قتل کر دی

جرمنی: خنجر کے کئی وار تارک وطن نے سابقہ بیوی اور دو سالہ بیٹی قتل کر دی

جرمن شہر ہیمبرگ کے ایک اسٹیشن پر افریقی ملک نائجر سے تعلق رکھنے والے ایک تارک وطن نے اپنی سابق بیوی اور ایک سال عمر کی بیٹی کو قتل کر دیا۔ دونوں کو قتل کرنے کے الزام میں تینتیس سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ واقعہ جمعرات بارہ اپریل کی صبح جرمن شہر ہیمبرگ کے ایک ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا۔ جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق افریقی ملک نائجر سے تعلق رکھنے والے تینتیس سالہ شخص نے اپنی سابق بیوی اور بیٹی کو خنجر کے کئی وار کر کے زخمی کر دیا اور بعد ازاں خود ہی ایمرجنسی سروس نمبر پر فون کر کے ان کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی دی تھی۔جمعرات کی صبح دس بج کر پچاس منٹ پر واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں لیکن اس وقت تک دو یا تین سال عمر کی بیٹی ہلاک ہو چکی تھی جب کہ شدید زخمی خاتون کو بچانے کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔ہیمبرگ پولیس کے ترجمان ٹیمو زیل کے مطابق پولیس نے اس قاتلانہ حملے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کرنے والے اس شخص کو جائے واردات سے کچھ ہی فاصلے سے گرفتار کر لیا تھا۔ زیل کا مزید کہنا تھا، ’’اس حادثے کی کئی جزیات ابھی تک واضح نہیں ہو پائیں۔‘‘

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق پولیس کو ٹرین اسٹیشن کے قریب ہی ایک کوڑا دان سے خنجر بھی مل گیا ہے۔ واقعے کے بعد اسٹیشن خالی کروا لیا گیا تھا۔ مشتبہ قاتل کی گرفتاری کے لیے ٹریفک بھی بند کر دی گئی تھی اور پولیس نے اسے ڈھونڈنے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیا۔

پولیس ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اس حملے کے وقت اسٹیشن پر کئی افراد موجود تھے اور عینی شاہدوں کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں۔

جرمنی میں حالیہ عرصے کے دوران خنجر سے کیے جانے والے حملوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہیمبرگ شہر ہی میں ایک پاکستانی تارک وطن نے اپنی دو سالہ بیٹی کو چاقوؤں سے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ جب کہ وفاقی دارالحکومت برلن سمیت کئی دیگر شہروں میں بھی ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل ہی میں جرمنی میں چاقو زنی کے جان لیوا واقعات کے بعد پولیس ملازمین کی یونین نے ملکی پارلیمان سے اپیل کی تھی کہ وہ اس جرم کو قتل کی کوشش کے زمرے میں لانے کی اجازت دے۔ فی الحال یہ جرم جسمانی نقصان پہنچانے کے زمرے میں آتا ہے۔