سوئٹزرلینڈ انسانی قدروں کا امین ملک،ڈاکٹرقمرفاروق۔۔قسط نمبر1

چند ماہ قبل حکومت سویٹزر لینڈ نے ایک اعلان کیا کہ ہر شہری کو اس کی بنیادی ضروریات بغیر کسی کام کے مہیا کی جائیں اور تقریبا 32سو فرانک انہیں گھر بیٹھے دئیے جائیں ،اس عمل پر عام شہریوں سے رائے کی گئی تو اسی فیصد عوام نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ہر شہری کو اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنےکے لئے کام کرنا ضروری ہے اور کوئی بھی شہری جو کام کرتا ہے وہ آسانی سے اپنی بنیادی ضروریات زندگی پورا کر رہا ہے اس طرح حکومت نے اسکیم روک دی ۔اس اسکیم کو اگر غورسے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ایک حکومت کس طرح اپنے شہریوں کا خیال کر رہی ہے اور بقول اعتزاز احسن
ریاست ہوگی ماں کے جیسی
سوئٹزر لینڈ نے ماں بن کر دکھا دیالیکن اولاد بھی ایسی فرمانبردار کہ اس نے ماں پر بوجھ بننے کی بجائے اپنے زور بازو کو آزمانے میں عافیت جانی اولاد بھی اپنی ماں کا ویسے ہی خیال کر رہی ہے جیسے ماں اپنی محبت لوٹا رہی ہے۔
سوئٹزر لینڈ کے باسیوں کے بارے میں یہ سنا ہے کہ وہ اپنی محنت پر یقین رکھتی ہے کسی سے دو نمبری فراڈ یا چوری سے کوسوں دور ہے ۔اپنے معاوضہ کے علاوہ زائد کی جانب دھیان یا لالچ اس کے خمیر میں نہیں ہے ۔
سوئٹزر لینڈ میں تین دن کے قیام میں میزبان چوہدری محمد اکبر نے بتایا کہ میں نے ویب سائٹ پر ایک کیمرہ دیکھا جو برائے فروخت تھا کیمرہ مجھے پسند آیا لیکن میں یہ نہ جان سکا کہ یہ ڈیجیٹل ہے کہ فلم والا کیمرہ دراصل پرانے ماڈل کا تھا جس میں فلم ڈالی جاتی ہے۔میں نے وہ کیمرہ خرید لیا جب ڈاک کے ذریعے مجھے ملا تو میں دیکھ کر حیران ہو گیا کہ یہ تو میرے ساتھ فراڈ ہو گیا میں نے تو ڈیجیتل کیمرہ دیکھ کر خریدا لیکن نکلا فلم والا اکبر صاحب نے بتایا کہ میں نے دئیے گئیے نمبر پر فون کیا اور کہا کہ آپ نے میرے ساتھ فراڈ کیا ہے آپ کا وہ کیمرہ نہیں ہے جو آپ نے ویب پر ڈالا ہے تو اس نے کہا کہ وہی ہے اور میں نے ساتھ بڑے الفاظ میں لکھا تھا کہ یہ کیمرہ فلم والا ہے اکبر صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے ویب سائٹ پر دوبارہ دیکھا تو واقعی وہاں پر لکھا ہوا تھا جسے میں دیکھ نہ سکا ۔لیکن اس کے باوجود ویب سائٹ پر کیمرہ لگانے والے شخص نے کہا کہ اگر آپ کو پسند نہیں آیا اور آپ خیال کرتے ہیں کہ میرے ساتھ فراڈ ہو گیا ہے تو آپ ڈاک کا خرچہ برداشت کر کے کیمرہ مجھے واپس بھیج دیں
چوہدری اکبر نے کہا کہ چونکہ میری غلطی تھی اس لئے میں نے معذرت کی اور کیمرہ پسند نہ ہونے کے باوجود رکھ لیا۔

تھامس پاکستان کے بارے میں کیا سوچتا ہے

‎75سالہ تھامس جو چوہدری اکبر کے ساتھ ہی ان کے گھر میں رہتا ہے اور یہ تعلق کم وبیش پچیس سال کا ہے ۔تھامس کئی بار پاکستان جا چکا ہے اب چونکہ حالات اچھے نہ ہو نے کی وجہ سے وہ کئی سال سے پاکستان نہیں گیا لیکن ہاکستان کو بہت مس کرتا ہے،اسے یاد ہے جب وہ پہلی بار پاکستان کے شہر گوجرہ گیا تو وہاں پر لوگوں کو باہر سڑکوں پرُچار پائیاں ڈالے گپیں لگاتے اورسوتے دیکھا تھامس کا کہنا تھا کہ میں نے سوچا کہ پاکستان کی عوام کتنی غریب ہے کہ ان کے ہاس رہنے کے لئے چھت بھی نہیں ہے لیکن بہت جلد یہ گمان ہوا ہو گیا جب میں نے ان لوگوں کے بڑے بڑے گھر دیکھے یہاں پر صرف انسان ہی نہیں بلکہ گائے بھینس اور بکریاں بھی گھروں کے اندر موجود ہیں تھامس نے کہاکہ مجھے یہ ماحول اور معاشرت بہت پسند آئی کہ سارا دن کام کاج کے بعد لوگ کس طرح ایک ساتھ بیٹھ کر دکھ سکھ کی باتیں کرتے ہیں اور یہ اپنائیت کیسی ہے کہ کوئی انسان ایسے معاشرہ میں تنہائی کا شکار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی شخص غربت کے ہاتھوں مر سکتا ہے۔
تھامس نے کہا کہ پھر پاکستان کو دہشت گردی کی نظر لگ گئی اور لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی نہیں بلکہ کمروں تک محدود ہوگئے اور معاشرتی قدریں سمٹ گئیں
تھامس اپنے جھریوں والے چہرے پر گہری سوچ کو نمایاں کرتے ہوئے کہنے لگا کہ اب تو ہاکستان بہت بدل گیا ہو گا ؟اور پھر گہری سوچ میں چلا گیا ،کافی دیر خاموش رہنے کے بعد سیاسی حالات پر چونکا دینے والی بات کی اور کہا کہ جب پاکستان میں کوئی لیڈر عدالت جاتا ہے تو باہر نکل کر وکٹری کا نشان بنانے کی مجھے سمجھ نہیں آئی حالانکہ وہ عدالت کو فتح کرنے نہیں بلکہ اپنے کسی جرم کی بنا پر وہاں جاتا ہے۔تھامس نے کہا کہ مجھے بھٹو پسند تھا لیکن آصف علی زرداری کے طرز سیاست اور ان ہر لگنے والے الزامات نے مجھے بھٹو سے بھی برگشتہ کر دیا ۔
تھامس نے کہا کہ پاکستان ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے اور پاکستانی جو باہر بیٹھے ہیں واپس اپنے وطن جا سکتے ہیں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے صرف پاکستان میں انصاف اور میرٹ کی بالادستی ہو جائے اس نے کہاکہ آج یورپ اور سوئٹزر لینڈ ترقی یافتہ نظر آتے ہیں تو اس کی بڑی وجہ میرٹ اور انصاف کی فراہمی ہے دوسرا حکمران کا اپنے ملک وقوم کا سوچنا ہے اور جو حکمران اپنی قوم سے محبت کرتا ہے وہ اس کے مسائل کو بھی کم کرنے کی کوشش کرتاہے اور اس کی یہ محبت وطن کو سربلند اورقوم کو غیرت مند بنا دیتی ہے۔

ریاست ہوگی ماں کے جیسی تو ماں اپنی اولاد کا کس طرح سوچتی ہے

آپ نے اکثر گاوں دیہاتوں میں دیکھا ہوگا کہ ایک مرغی اپنے بچوں کے ساتھ کس انداز سے چلتی ہے اور یونہی خطرہ محسوس کرتی ہے تو اپنے تمام بچوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے۔بچوں کی حفاظت کے لئے وہ ہر اس دشمن سے کڑ بھی جاتی ہے جس میں چاہے جان چلی جائے۔
سوئٹزر لینڈ بھی ایک ماں کی طرح ایک مرغی کی طرح اپنے بچوں اپنی قوم کی حفاظت میں ہر قدم اٹھا رہی ہے۔
آپ نے سنا ہو گا دنیا میں جب ایٹمی جنگ ہو گی اور تمام چیزیں فنا ہو جائیں گی اس وقت آرف چار طرح کے جاندار بچ سکیں گے
ایک وہ انسان جو خلا میں ہو گا
دوسرا کاکروچ
تیسرا دنیا کے طاقتور حکمران جنہوں نے اپنے لئے ایٹمی بینکر بنائے ہوئے ہیں اور
چوتھا سوئٹرز لینڈ کی عوام
سوئٹزر لینڈ کی عوام کیسے بچے گی بڑا دلچسپ سوال ہے تو بڑا دلچسپ جواب بھی ہے
سئٹرز لینڈ ی ہر تیسری بلڈنگ کے نیچے ایٹمی تابکاری سے بچنے کے لئے بینکر بنائے گئے ہیں جو قریبی عمارتوں سے لوگ اس میں چلے جائیں گے ،ان بینکرز میں روز مرہ کی ضروریات زندگی کی اشیاء موجود ہیں جو اس بینکرز میں موجود انسانوں کے لئے کافی مہینوں کے لئے ہیں ۔ ہر شہری کو میڈیسن مہیا کی جاتی ہے کہ جب بھی ایسی صورتحال پیا ہو جائے آپ کے گھر کے تمام افراد ایک ایک گولی کھائیں اور ان بینکرز میں چلے جائیں ۔یہ بینکرز سوئٹرز لینڈ کی عوام کے علاوہ بارہ فیصد زائد کی گنجائش رکھتے ہیں ،اور یہ میڈیسن ہر سال مہیا کی جاتی ہے پہلے والی لے کر ڈسپوزل کر دی جاتی ہے اور نئی دے دی جاتی ہے۔اسی طرح بینکرز میں موجود غذائی اشیا ء میں مقررہ مدت کے بعد تبدیل کر دی جاتی ہیں اور یہ عمل کئی سالوں سے جاری ہے۔
سوئٹزر لینڈ چونکہ جھیلوں کا ملک ہے یہاں پر سینکڑوں قدرتی اورمصنوعی جھیلیں ہیں جو پہاڑوں پر پڑنے والی برف کے پانی کو سنھبالتی ہیں اس کے علاوہ کئی ایک ڈیم ہیں ایک ڈیم تو جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر دونوں ممالک کی ملکیت میں ہے اور اس کے نیچے ایک بڑا شہر بھی آباد ہے،کہتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ ڈیم تباہ ہوتا ہے تو اس شہر کے باسیوں کے پاس صرف پانچ منٹ ہو نگے نکلنے کے لئے اور بھی شہر ہیں جن کے پاس پانچ منٹ کی بھی مہلت نہیں ہے۔تو حکومت کیا کر رہی ہے یہ سوچنے والی بات ہے لیکن جو ریاست ماں کا کردار ادا کر رہی ہو تو وہ اپنی اولاد کو بچانے کے لئے ہر ممکن اقدام کرتی رہتی ہے ۔سب سے بنیادی بات جو ہر انسان کرسکتا ہے وہ تیراکی ہے،حکومت کی جانب سے ہر بچے اور بچی کو اسکول میں تیراکی کی کلاسیں لینا لازمی ہیں اور کسی بھی عذر کو تسلیم نہیں کیا جاتا یہی وجہ ہے کہ سوئٹزر لینڈ کے ہر بچے کو تیرنا آتا ہے۔
یورپ کے دل میں رہنے والا سوئٹزرلینڈ انتہائی پرامن ملک ہے۔جو کسی کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتا اور نہ ہی کسی کی لڑائی میں حصہ دار بنتا ہے۔اس کے ہمسائیہ میں اٹلی،جرمنی ،فرانس دنیا کی کسی نہ کسی جنگ کے حصہ دار ہیں یا اتحادی ہیں لیکن سوئٹزر لینڈ ایسی کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی سرحدوں کا محافظ بھی ہے اور وطن عزیز کو دشمن سے بچانے کے لئے بھی ہر ممکن اقدام کرتا ہے۔جس کی بڑی مثال سوئٹزر لینڈ کے ہر شہری پر فرض ہے کہ وہ فوجی تربیت لے جو کئی ہفتوں کی ہے اور شہریوں کو تاکید کی جاتی ہے کہ جب مشکل وقت آئے تو اپنے قریبی ترین آفس کو اپنی حاضری یقینی بنائیں۔
گذشتہ 32سال سے یورخ میں مقیم چوہدری اکبر کا کہنا ہے کہ حکومت نے مجھے بندوق دے رکھی ہے جو ہر سال گولیاں بھی مہیا کرتی ہے ۔
باقی آئندہ
جاری ہے۔۔۔۔۔۔