راجہ نامدار اقبال خان اسپین میں پاکستان کا فخر,۔۔ڈاکٹرقمرفاروق

راجہ نامدار اقبال خان اسپین میں پاکستان کا فخر

علم کے حصول کے لئے یورپ کا خواب دیکھنے والوں نے پاکستان کا نام سر بلند کیا ہے آزاد جموں کشمیر کے “کھوئی رٹہ” سے تعلق رکھنے والے راجہ محمد اقبال خان دودہائی قبل اسپین میں رہائش پذیر ہوئے محنت مزدوری سے اپنی اور اپنے بچوں کی پرورش میں کوئی کمی نہ چھوڑی تعلیم وتربیت کے لئے والدین سب سے زیادہ حساس دل رکھتے ہیں اور اسی احساس نے راجہ محمد اقبال خان نے حالات کو بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کو بھی اسپین بلا لیا۔راجہ اقبال خان جن سے میری کئی ایک ملاقاتیں ہوئیں ایک نفیس انسان تھے اللہ تعالی ان کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین آج یوم اقبال تھا تو راجہ اقبال خان کی بھی یاد آئی کیونکہ راجہ اقبال خان علامہ اقبال کے حافظ تھے اور محفل کو علامہ اقبال کے افکار سے جما دیتے تھے ۔ راجہ اقبال خان کو یاد رکھنے کا بھی ایک حوالہ علامہ محمد اقبال بھی ہیں ۔
راجہ اقبال خان مرحوم نے محنت اور رزق حلال سے نہ صرف بچوں کی پرورش کی بلکہ اپنی اولاد کو تعلیم بھی دلائی۔جس کی سب سے بڑی مثال ان کے فرزند ارجمند راجہ نامدار اقبال خان ہیں جنہوں نے اسپین میں اعلی تعلیم حاصل کی اور ایڈووکیٹ کی ڈگری اعلی پوزیشن میں حاصل کی ان کی تعلیمی قابلیت کو دیکھتے ہوئے اسپین حکومت نے یورپی یونین کے ایک اصطلاحاتی پروگرام جس میں یورپ میں پنشن کے نظام میں اصطلاحات میں بھیجا۔آج یورپ بھر میں پنشن اصلاحات رائج ہیں ان میں ایک ہو نہار پاکستانی ایڈووکیٹ راجہ نامدار اقبال خان کی محنت ،ذہانت شامل ہے۔
راجہ نامدار اقبال خان کا تعلیمی کییرئر بہت اچھا رہا اسکول کالج کی تعلیم اسپین کے شہر جرونہ سے حاصل کی ،جرونہ شہر کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے ایک کتاب Fronteres a mig Camí (آدھے راستے کی سرحدیں)شائع کی ہے جو 23اپریل کے کاتالونیا کے معروف تہوار سانت جوردی کے موقع پر اسٹالوں پر رکھی جائے گی ۔یہ کتاب کاتالونیامیں باہر سے آئے ہوئے تارکین وطن جنھوں نے یہاں تعلیم کے ذریعے اپنا مقام بنایا۔ راجہ نامدار اقبال خان ان طلبا میں سے ایک ہیں۔ بانیولیس کونسل نے اُن کا نام اور تعارف کتاب Fronteres a mig Camí (آدھے راستے کی سرحدیں)میں شامل کیا ہے۔یہ راجہ نامدار اقبال خان کی تعلیمی کارکردگی اور مقامی معاشرے میں ہم آہنگی کو دیکھتے ہوئے شامل کیا گیا ۔راجہ نامدار اقبال خان کا نام اس کتاب کے ذریعے اسپین میں ایک تارک وطن کی تعلیمی کارکردگی کے حوالہ سے امر ہو گیا ہے۔تاریخ میں ایک حوالہ بن گیا ہے۔راجہ نامدار اقبال خان نے اپنے والد محترم راجہ اقبال خان کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنا دیا۔آج ان کے والد مرحوم کی روح بھی خوش ہو گئی ہو گی کہ میں نے زندگی میں جس مقصد کے حصول کے لئے محنت کی آج میرے لخت جگر نے اس خواب کو تکمیل دے دی ہے۔
راجہ نامدار اقبال خان نے نہ صرف کشمیر بلکہ پاکستان کے ہر نوجوان کے لئے راستہ کھول دیا ہے کہ آپ کہیں بھی رہیں حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں اگر مقصد عظیم ہو تو اس کو حاصل کرنے میں صرف ہمت اور حوصلہ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالی نے یہ خاصیت ہر ذی روح میں رکھی ہے بس اسے بروئے کار لانا ہوتا ہے۔