18 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ,اسپین میں مظاہرے پھوٹ پڑے

میڈرڈ: اسپین میں 18 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ کرنے والے 5 ملزمان کو عدالت کی جانب سے بری کرنے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

فرانسیس خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدالت نے ملزمان کو گینگ ریپ کے الزام میں بری لیکن جنسی طور پر ہراساں کرنے پر 9 سال کی قید سنائی تھی۔پولیس کے مطابق مبینہ طور پر گینگ ریپ کا واقع ہسپانوی شہر پامیلونا میں پیش آیا تھا اور گزشتہ روز ہسپانوی عدالت نے مقدمے میں نامزد 5 ملزمان کو بری کردیا تھا جس کے خلاف 32 سے 35 ہزار مظاہرین نے احتجاج میں حصہ لیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ اسپیشن کی حکومت نے بیان جاری کیا کہ وہ ریپ کے قوانین کا ازسرنو جائزہ لے گئی۔

دوران سماعت جج نے کہا کہ ‘اس واقعے میں جنسی طور پر حملے یا ریپ کیے جانے کے شواہد نہیں ملے‘۔ججز نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ‘جس وقت نوجوان لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تو متاثرہ لڑکی نے اس کے خلاف مزاحمت بھی نہیں کی’۔
مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ‘یہ جنسی ہراساں نہیں بلکہ ریپ تھا’۔

پولیس کے مطابق مظاہرے کے دوران کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا تاہم عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج گزشتہ تین روز سے جاری ہے۔

واضح رہے کہ 7 جولائی 2016 کو 27 سے 29 سال کی عمر کے 5 دوستوں نے پامیلونا کے ایک اپارٹمنٹ کے پاس ایک 18 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا تھا اور اپنے اسمارٹ فون سے ویڈیو بنا کر واٹس اپ پر گروپ میں شیئر کی تھی۔

دوسری جانب اسپین میں ایک آن لائن پٹیشن میں جج کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس نے ملزمان کو گینگ ریپ کے الزام سے بری قرار دیا، آن لائن پٹیشن پر 10 لاکھ 12 ہزار افراد دستخط کرچکے ہیں۔فیصلے کے فوری بعد بارسلونا، میڈرڈ اور دیگر شہریوں میں مظاہرے شروع ہوئے۔

واضح رہے کہ پانچوں ملزمان نے مبینہ گینگ ریپ کی ویڈیو بنا کر ‘دی پیک’ کہہ کر اپنے حلقہ احباب کو فخرایہ انداز میں پیش کی تھی۔

خیال رہے یہ واقعہ سان فیرمین فیسٹیول کے دنوں میں پیش آیا جس میں لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں۔