فکرآزاد کے اسیر

اس بار لندن دنیا نیوز کی تیسری سالگرہ کے حوالہ سے جانا ہوا دنیا نیوز یو کے یورپ کی نشریات نے برطانیہ اور یورپ میں جس تیزی سے مقبولیت حاصل کی بلاشبہ دنیا میڈیا گروپ کے چئیرمین میاں عامر محمود کے ویژن اور اس ویژن کو عملی جامہ نمائندگان بین الاقوامی کے سربراہ اظہر جاوید نے پہنایا قابل تعریف ہے،اور اظہر جاوید کے کام کا منہ بولتا ثبوت یہ تین سال ہیں جس میں انہوں نے دنیا نیوز یوکے یورپ کو مقابلہ کی دوڑ میں پہلے نمبروں پر لا کھڑا کیا ،یہ صرف کہنے اور لکھنے کی بات نہیں ہے یہ پہلے سے موجود اور ناظرین کے دلوں میں گھر کئے ہوئے نیوز چینل کی موجودگی میں کر دکھایا ہے۔
سیر کا موڈ بنا تو ایک لمبی ڈرائیو پر نکلے ایک دوست کو فون کیا کہ ہم آپ کی جانب آرہے ہیں،ایک گھنٹہ کی ڈرائیو اور ہلکی ہلکی سارادن رہنے والی بارش نے یہاں سردی میں زیادتی کی وہیں بادلوں کی سورج کے ساتھ آنکھ مچولی بھی رہی،سفر کا سارا راستہ میدانی تھا سرسوں کے کھیت سے زمین پیلے رنگ کا خوشنما نظارہ پیش کر رہی تھی تو کہیں سبزہ نے اپنا رنگ جمایا ہوا تھا خوبصورت موسم کے ساتھ خوبصورت رنگ دل کو لبھاتے رہے۔راستہ میں براسبیل ابوالکلام آزاد رح کا ذکر چھڑ گیا۔ بر صغیر کا وہ بطل جلیل جسے اردو زبان کا باپ کہا جاتا ہے اور مقرر ایسا کہ جب بولتے تو پرندے ٹھر جاتے اور انسان ہمہ تن گوش کی کیفیت سے آگے نکل جاتے۔اللہ تعالی نے ناصرف مذہب وادب بلکہ سیاست پر بھی ملکہ عطا کیا تھا متحدہ ہندوستان میں ابوالکلام آزاد کا طوطی بولتا تھا۔
آج بھی ابولکلام آزاد اپنےافکار ،تفسیر قرآن ،ہندوستان کی تاریخ ،غبار خاطر کی صورت زندہ ہے اور دماغوں کو آسودگی فراہم کر رہا ہے۔
برصغیر میں کئی عالمی حیثیت کی شخصیات ہیں جن کوزمانہ کے عالی دماغوں نے اپنی سمجھ اور ذہانت کا خراج پیش کیا ہے جن میں قائد اعظم محمدعلی جناح،ابوالکلام آزاد ،علامہ محمد اقبال اور اسد اللہ غالب شامل ہیں۔یہ وہ عالی دماغ ہیں جنہوں نے اپنے دور میں انسان کی فلاح اور دنیا کی بہتری میں کار ہائے نمایاں سر انجام دئیے ہیں او بعد کی نسلوں نے ان کی زندگیوں پر تحقیقی کام کیا اور کھوج لگانے کی کوشش کی ہے کہ یہ لوگ کیا سوچتے تھے اور کیسے اتنا وقت استعمال کرتے تھے اور نئے پہلووں پر انُکی رائے باقیوں سے کیوں الگ ہوتی تھی،اسی کھوج میں لایئبریریاں بھری پڑی ہیں اور ایک ایک شخصیت پر سینکڑوں کتب اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات موجود ہیں ۔
بات ابولکلام آزاد کے افکار پر ہو رہی تھی تو میرے دوست نے کہا کہ ابوالکلام آزاد سے تو ہم بھی متاثر ہیں بلکہ متاثرین میں سے ہیں اس بات کےبعد مزید کھل کر بات چیت کی گئی جس میں ابوالکلام آزاد کانظریہ ہندوستان،تفسیر قرآن مجید اور غبار خاطر سے ہوتی ہوئی ان کی صحافتی خدمات تک پہنچ گئی۔
اس دوران میرے دوست نے کہا کہ پاکستان میں میرا بھائی ہے وہ نھی ابوالکلام آزاد کا شیدائی ہے اس سے بات کرتے ہیں ۔فون کیا تو ان سے رابطہ ہو گیا علیک سلیک کے بعد بات ابوالکلام آزاد پر جا ٹھہری۔دوست نے کہا کہ بھائی آپ نے “دانش آزاد “ کتاب کا مطالعہ کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ کیاہے اور کیا ہی اچھی کتاب ہے اور میرے ذخیرہ کتب میں موجود ہے تو میرےدوست نے کہا کہ آپ اس کتاب کے لکھاری کو جانتے ہیں تو اس نے کہا کہ نہیں دوست نے کہا کہ آپ سے ان کی بات کروا دوں تو وہ خوش ہو کر کہنے لگے کہ ضرور تو میرے دوست نے اپنے بھائی سے کہا کہ بھائی ڈاکٹر قمرفاروق میرے ساتھ ہیں اور یہ کتاب ان کی لکھی ہوئی ہے آپ سے بات کراتا ہوں ۔
ابوالکلام آزاد کی شخصیت اور ان کی علمی وادبی سرگرمیوں پر کافی وقت بات ہوئی اس دوران ایسا محسوس ہوا جیسے ایک قبیلے کے بچھڑے لوگ مل گئے ہوں ۔بلکہ “فکر آزاد کے آسیر “مل گئے۔