نوازشریف کے بیان کی مکمل انکوائری ہونی چاہئے اور اس کے علاوہ مزید غداران وطن کو بھی سخت سے سخت سزا دینی چاہئے-پی ٹی آئی سپین

بارسلونا( پ ر) پاکستان تحریک انصاف سپین نے نواز شریف کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ “ممبئی حملوں میں پاکستان میں متحرک عسکریت پسند تنظیمیں ملوث تھیں، یہ لوگ ممبئی میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں،  مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں”
نواز شریف نے مزید کہا کہ ممبئی حملوں کے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کے حوالے سے اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ہماری عدالتوں میں ممبئی حملوں کے ملزمان کا ٹرائل اب تک کیوں مکمل نہ ہوا؟
بھارتی میڈیا نے اس بیان کے بعد آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ آج بھارت کی فتح ہوئی ہے-پاکستان جو پہلے سے ہی ن لیگ کی نااہل حکومت جس میں وہ وزیر خارجہ تک نہیں رکھ سکے جو پاکستان کے موقف کو عالمی دنیا تک لے جاتا بیرونی طاقتوں کے دباو کا شکار رہا ہے اور آج کے اس بیان نے ان تمام طاقتوں کو مزید مضبوطی سے پاکستان کے خلاف اپنا موقف پیش کرنے کی وجہ دی ہے-نواز شریف کا پاکستان مخالف بیانیہ کس کو خوش کرنے کیلئے ہے؟ کیا یہ وہی ایجنڈا ہےجس کیلئے بلیک لسٹ بھارتی صحافی انٹرویو کرنے پاکستان آرہے تھے۔ پاکستان مخالف ایجنڈے کیلئے نا اہل وزیر اعظم نے  ڈان لیکس کے بعد ایک بار پھرسرل المیڈا اور ڈان کا استعمال کیا ہے، آخر کار نواز شریف پاکستان دشمنی سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ کسی بھارتی عہدیدار نے کشمیر یا بلوچستان میں بھارتی مداخلت پر کبھی کچھ نہ کہا۔
نوازشریف نے کبھی بھی بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو سےمتعلق کچھ نہیں کہا نواز شریف نے 2016میں یو این تقریر میں بھی کلبھوشن یادیو کا نام تک نہ لیا، نریندرمودی سے ذاتی دوستی کی نواز شریف آج پاکستان مخالف بیانات دے کر دوستی کا حق ادا کر رہا ہے-جو شخص پاکستان کا 3 بار وزیراعظم رہ چکا ہو اس کو جب اپنی کرسی ہاتھ سے جاتی نظر آ رہئ ہے تو وہ ملک سے غداری پر اتر چکا ہے-اسی نااہل شخص جس کی وجہ سے کارگل کی جیتی ہوئی جنگ ہم نے ہاری اور کتنا جانی نقصان ہمیں اٹھانا پڑا وہ بھی اسی دوستی کا نتیجہ تھا جو یہ بھارت سے نبھاتا آ رہا ہے-ہم پی ٹی آئی سپین کی طرف سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی مکمل انکوائری ہونی چاہئے اور اس کے علاوہ مزید غداران وطن کو بھی سخت سے سخت سزا دینی چاہئے-