یہودی، مسلمان اور عیسائیوں کیلئے مشترکہ عبادت گاہ کی تعمیر

جرمن دارالحکومت برلن کے وسط میں سینٹ پیٹرز اسکوائر نامی جگہ پر ایک عمارت تعمیر کی جائے گی، جو آئندہ چند برسوں میں مکمل ہو جائے گی۔ فی الحال مستقبل کے اس سہ فریقی عبادت خانے کی عمارت والی جگہ خالی ہے اور وہاں صرف ریت اور چند پتھر ہی دیکھے جا سکتے ہیں تاہم یہ عمارت ممکنہ طور پر 2018ء میں مکمل ہو جائے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ اس عمارت کو نہ تو صرف کوئی مسجد کہا جا سکتا ہے، نہ محض گرجا گھر اور نہ ہی صرف کوئی یہودی عبادت خانہ۔ برلن سے نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ عمارت بیک وقت تین الہامی مذاہب کے پیروکاروں کا عبادت خانہ ہو گی اور بظاہر کسی بھی زبان میں ایسا کوئی لفظ موجود ہی نہیں جو کسی ایسی عمارت کی تعریف کر سکے جہاں مسلمان، مسیحی اور یہودی مل کر عبادت کرتے ہوں۔
اس تعمیراتی منصوبے کے بنیادی محرکین کے بقول یہ عمارت دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی واحد عبادت گاہ ہو گی جو تینوں مذاہب میں سے صرف کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کے لیے مخصوص نہیں ہو گی۔ اسی لیے اس مشترکہ عبادت گاہ کو اب تک ’ایوانِ عبادت و تعلیم‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ جرمنی میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی میں سب سے زیادہ تعداد ترک نژاد مسلمانوں کی ہے۔
منصوبے کی تکمیل پر 44 ملین یورو لاگت آئے گی۔ اس پروجیکٹ کو ایک فیصلے کی صورت میں حتمی شکل دینے سے پہلے اس پر برسوں تک غور و فکر کیا گیا۔ اس کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی مہم شروع کی گئی۔ منصوبے کا مقصد نہ صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ کثیر المذہبی مکالمت کتنی اہم ہے۔
منصوبے پر کام کرنے والی تنظیم کے بورڈ آف گورنرز میں شامل مسیحیوں کے پروٹسٹنٹ کلیسا کے دو نمائندوں میں سے ایک، رولانڈ اشٹولٹے کے مطابق وہ اور ان کے ساتھی اس نتیجے پر پہنچے کہ برلن کے عام شہریوں میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مابین پرامن بقائے باہمی کے حوالے سے پائی جانے والی خواہشات کی نفی کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے اس منصوبے کی خاطر ایک ایسی جگہ منتخب کی گئی، جو پہلے ہی مدتوں سے بہت زیادہ مذہبی اہمیت کی حامل ہے۔
برلن کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں 2007ء میں ماہرین آثار قدیمہ کی طرف سے کی جانے والی کھدائی کے دوران پتہ چلا تھا کہ اس جگہ پر قرون وسطیٰ سے لے کر 1960ء میں سابقہ مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ ریاست کے دور تک مختلف ادوار میں مسیحیوں کے سینٹ پیٹرز چرچ کے نام سے چار مختلف گرجا گھر قائم رہ چکے تھے۔
رولانڈ اشٹولٹے کے بقول برلن کی پروٹسٹنٹ برادری اس جگہ پر دوبارہ اپنا کوئی نیا چرچ قائم کرنے کی بجائے اسے اس طرح استعمال میں لانا چاہتی تھی کہ وہ برلن شہر کی کثیر المذہبی شناخت کا مظہر بھی ہو۔ 2010ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک وفاقی صوبے کے طور پر برلن کی 3.4 ملین کی آبادی میں پروٹسٹنٹ مسیحیوں کا تناسب قریب 19 فیصد بنتا ہے۔ مسلمانوں کی آبادی 8.1 فیصد ہے جبکہ یہودیوں کا تناسب ایک فیصد سے کچھ کم ہے۔ برلن کے 60 فیصد سے زائد شہریوں کے مطابق وہ عملی طور پر کسی بھی مذہب کے پیروکار نہیں ہیں۔
اس منصوبے میں شامل مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے ترک نژاد امام مسجد کا نام قادر سانچی ہے اور ان کا تعلق برلن کے مسلمانوں کی ایک تنظیم، فورم برائے بین الثقافتی مکالمت سے ہے۔ قادر سانچی کے بقول فرینکفرٹ کے نواحی شہر ڈارمشٹٹ میں ایک ہی چھت کے نیچے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مسیحیوں کے دو مختلف چرچ دیکھتے ہی انہیں خیال آیا تھا کہ ایسا کوئی مرکز بھی قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں تینوں کے عبادت خانے قائم ہوں۔
اس مرکز‍ کے لیے وِلفریڈ کُوہن نامی ماہر تعمیرات کے تیار کردہ جس نقشے کو منظور کیا گیا ہے، اس کے مطابق تینوں مذاہب کے عبادت خانے ایک ہی منزل پر ہوں گے اور انہیں رقبے کے لحاظ سے بالکل برابر جگہ دی جائے گی۔ وِلفریڈ کُوہن کے بقول تینوں عبادت خانے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوں گے اور ایسا نہیں ہو گا کہ مسلمان، مسیحی اور یہودی ایک ہی جگہ مل کر عبادت کر رہے ہوں۔