علامہ ڈاکٹر محمد اسد مرحوم کی قبر مبارک کی خستہ حالی پاکستانیوں کی اپنے اکابرین سے بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔سہیل مقصود وڑائچ

غرناطہ(دوست نیوز)غرناطہ ہسپانیہ کے جنوب میں ایک تاریخی شہر کا نام ہے۔ اس کی وجہ شہرت یہاں مسلمانوں کے دور کا محل الحمرا ہے۔ 1492 تک غرناطہ سپین میں آخری اسلامی ریاست کا مرکز تھا۔ غرناطہ ایک بہت خوبصورت شہر ہے۔ اس کی خوبصورتی کو ایک جدید ہسپانوی شاعر اقاذہ نے یوں بیان کیا ہے:
دنیا میں اس سے بڑی اور کوئی بدقسمتی نہیں ہو سکتی
کہ انسان غرناطہ میں ہـو اور اندھا ہـو
اور اسی غرناطہ کے مسلم قبرستان میں پاکستان کا پہلا باضابطہ شہری علامہ محمد اسدمرحوم کی قبر مبارک بھی ہے۔غرناطہ کی پہاڑی پر یہ چھوٹا سا مسلم قبرستان جو کم وبیش ایک صدی پر محیط ہے موجود ہے جس کی نگرانی آج بھی غرناطہ میں موجود مسلمان کر رہے ہیں ۔ اس قبرستان سے نیچے اتریں تو ساتھ عیسائی قبرستان ہے جو اپنے رقبہ کی بنیاد پر اس چھوٹے مسلم قبرستان کی نسبت کئی گنا بڑا ہے۔ غرناطہ کا مسلم قبرستان دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے علامہ ڈاکٹر محمد اسد کی وجہ سے ایک پہچان رکھتا ہے۔
علامہ محمد اسد پیدائشی یہودی تھے جو آسٹریا کے ایک اچھے خاصے مذہبی یہودی خاندان میں بطور Leopold Weiss پیدا ہوئے، تعلیم پائی ، پھر روزگار کے سلسلوں میں یروشلم جاپہنچے۔ جہاں ان کا پہلی مرتبہ عربوں، مسلمانوں اور صیہونیوں سے واسطہ پڑا۔ بعد ازاں وہ مسلمان ہوگئے ۔ اور ان کی بقیہ زندگی مسلمان ممالک اور مسلمانوں کے درمیان اور اسلام کے لیے گزری ۔ علامہ محمد اسد یوروپین بدو، جس نے ایک عمر عرب، مشرق وسطیٰ اور برصغیر پاک و ہند میں گزاری، پاکستان کا پہلا باضابطہ شہری یوں قرار پایا کہ پاکستان کا پہلا پاسپورٹ جس کا نمبر 000001 تھا، 15 ستمبر 1947ء کو اسد سلیم کے نام سے جاری ہوا۔جس پر انہیں ،، سٹیزن آف پاکستان،، قرار دیا گیا۔
محمد اسد کی خدمات کے عوض آسٹریا حکام نے ویانا میں ایک میدان ان کے نام سے منسوب کر دیا۔ اگرچہ محمد اسد ایک اسلامی سکالر بن کر ابھرے تاہم انہون نے قیام پاکستان میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔
آسٹریا کے دارلحکومت ویانا میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے عین سامنے واقع ایک میدان کو یہودیت سے اسلام قبول کرنے والےمعروف سکالرمحمد اسد کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد اسلام اور مغرب کے مابین مکالمت کو فروغ دینا اور دونوں اقوام کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ یوں نہ صرف آسٹریا بلکہ مغربی یورپ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ٹریفک ایریاکو کسی مسلمان شخصیت سے منسوب کیا گیا ہو۔
محمد اسد 1955ء میں نیویارک چھوڑ کر اسپین میں رہائش پزیر ہوئے۔ 17 سال کی کاوشوں کے بعد 80 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے خواب “قرآن پاک کی انگریزی ترجمہ و تفسیر” کو تکمیل تک پہنچایا۔ وہ 23 فروری 1992ء کو اسپین میں ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔
علامہ ڈاکٹر محمد اسد کی وفات کے 15 سال بعد 2007 میں پاکستان پوسٹ نے ان کے نام کا یاد گاری ٹکٹ جاری کیا۔پاکستان اور جنوبی ایشائ کے مسلمانوں کے لئے لازوال خدمات سرانجام دینے والے علامہ ڈاکٹر محمد اسد مرحوم کی قبر مبارک کی خستہ حالی امت مسلمہ خاص طور پر پاکستانیوں کی اپنے اکابرین سے بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میڈرڈ اسپین میں پاکستان کا سفارت خانہ ہونے کے باوجود قبر مبارک پر چار سنگ مرمر کے خوبصورت پتھر بھی نہ لگوا سکنے پر ہم اپنے قومی ہیرو سے شرمندہ ہیں۔ غرناطہ میں مقیم پاکستانی سہیل مقصود وڑائچ نے کہا کہ میڈرڈ میں پاکستان کا سفارت خانہ ہونے کے باوجود انہوں نے اس جانب کوئی توجہ نہیں کی۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اپنے اس قومی ہیرو کی قبر کو ان کے شایان شان بنائے تاکہ جو لوگ یہاں پر فاتحہ خوانی کے لئے آتے ہیں انہیں اس بات کا احساس ہو کہ واقعی پاکستان اپنے ہیروز کی قدر کرتا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ شاید پاکستانی اتنا نہیں جانتے جتنا یہاں کے مقامی لوگ علامہ اسد کے بارے میں جانتے ہیں۔چوہدری سہیل مقصود وڑائچ نے پیشکش کی کہ اگر حکومت پاکستان ہمارا سفارت خانہ قانونی معاملات میں مدد دے تو میں اس پر اٹھنے والے اخراجات برادشت کرنے کو تیار ہوں ۔