اس سال اب تکچھبيس ہزار تارکين وطن سياسی پناہ کے ليے يورپ پہنچ گئے

اس سال اب تک لگ بھگ چھبيس ہزار تارکين وطن سياسی پناہ کے ليے يورپ پہنچ چکے ہيں جبکہ پناہ کے سفر ميں اموات اور گمشدگيوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
سمندری راستوں سے يونان آمد ميں اضافہ
سال رواں ميں اب تک 25,660 مہاجرين سياسی پناہ کے ليے مختلف سمندری راستوں سے يورپ پہنچ چکے ہيں۔ سب سے زيادہ مہاجرين کی آمد يونان ميں ريکارڈ کی گئی، جہاں يکم جنوری سے لے کر مئی کے نصف تک تقريباً 9,750 مہاجرين پہنچے۔ اسی عرصے کے دوران بحيرہ روم سے گزر کر اٹلی پہنچنے والے تارکين وطن کی تعداد 9,738 رہی جبکہ اسپين ميں 7,480 مہاجرين کی آمد ريکارڈ کی گئی۔
ہلاکتوں و گمشدگيوں کا سلسلہ جاری
اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين يو اين ايچ سی آر کے اندازوں کے مطابق سال رواں ميں اب تک لاپتہ يا ہلاک ہونے والے تارکين وطن کی تعداد 609 ہے۔ اس سے قبل 2017ء ميں 3,139 پناہ گزين، سن 2016 ميں 5,096، سن 2015 ميں 3,771 اور سن 2014 ميں 3,538 پناہ گزين ہلاک يا لاپتہ ہوئے تھے۔
شامی اب بھی سرفہرست
رواں سال کے پہلے چار ماہ ميں سمندری راستوں سے يورپ پہنچنے والوں ميں 4,151 شامی، 2,185 عراقی، 1,910 تيونس کے، اريٹريا کے 1,810، گنی کے 1,204, اور آئيوری کوسٹ کے 1,011 مہاجرين بھی شامل ہيں۔ سب سے زيادہ تعداد ميں اب بھی شامی مہاجرين ہی سمندری راستوں سے يورپ کا رخ کر رہے ہيں۔
اکثريت اب بھی مردوں کی
جنوری تا اپريل کے وسط تک يورپ پہنچنے والے مجموعی تارکين وطن ميں 59.6 فيصد مرد، 15.7 فيصد عورتيں اور 24.7 فيصد بچے ہيں۔
سب سے زيادہ درخواستيں جرمنی ميں
سال کے پہلے چار ماہ ميں سب سے زيادہ سياسی پناہ کی درخواستيں جرمنی ميں جمع کرائی گئيں۔ اس دوران مجموعی طور پر 63,972 درخواستيں جمع کرائی گئيں، جن ميں سے 56,127 افراد نے پہلی مرتبہ درخواستيں ديں جبکہ 7,845 نے فيصلوں پر نظر ثانی نے ليے دوسری مرتبہ درخواستيں ديں۔
درخواستوں کا سلسلہ بھی جاری
سياسی پناہ کے اعتبار سے جرمنی کے علاوہ تارکين وطن کی پسنديدہ ترين منزليں فرانس، اٹلی، يونان، آسٹريا اور ہالينڈ کی رياستيں رہيں۔