ذیابیطُس سے آخر کیسے بچا جائے؟

ذیابیطُس ایک پیچیدہ مرض ہے اور یہ کئی دیگر بیماریوں کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ اس کی ایک قسم ’ذیابیطُس ٹائپ ٹو‘ سے بچاؤ آسان ہے۔ بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے صحت مند رہا جا سکتا ہے۔
موٹاپے سے نجات
وزن کی زیادتی یقینی طور پر ایک خطرناک علامت ہے۔ اگر آپ کا وزن بہت زیادہ ہے تو پھر آپ ذیابیطس کی راہ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہلکی پھلی ورزش، جاگنگ، یا پیدل چلنے سے اپنے وزن کو کم کریں۔سارا دن صوفے پر بیٹھے رہ کر چپس کھاتے رہنا کسی بھی طور پر صحت مندانہ عادت نہیں ہے۔ ایسی عادتوں سے ذیابیطُس کی ٹائپ ٹُو یا diabetes mellitus کا لاحق ہو جانا یقینی ہو جاتا ہے۔ اس تناظر میں تیس سے ساٹھ منٹ تک کی روزانہ ورزش انتہائی مفید ہو سکتی ہے۔
صحت بخش خوراک
صحت بخش خوراک کا استعمال صحت مندی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ صحت بخش خوراک میں چپس، چاکلیٹ، پیزا، کیک اور ایسی دوسری اشیا شمار نہیں کی جاتیں، جنہیں ’جنگ فوڈ‘ کہا جاتا ہے۔ایسی اشیا کو ’کیلوریز بم‘ قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ صرف ایک منٹ کے لیے انسانی منہ میں رہتی ہیں لیکن ان سے بننے والی چربی ساری عمر ساتھ نہیں چھوڑتی۔ صحت مند خوراک میں سبزیاں اور فروٹ شمار کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح گھی میں تلی ہوئی اور زیادہ چربی والی اشیا سے بھی پرہیز ضروری ہے۔
پکوانوں میں صحت بخش اجزاء کا استعمال
کھانا پکاتے ہوئے صحت مندانہ طریقہ یعنی کم گھی کا استعمال ایک مناسب انداز ہے۔ مچھلی یا گوشت کے ٹکڑوں کو تیل میں فرائی کرنے کے بجائے اسٹیم کے ذریعے پکائیں۔ جتنی چربی یا گھی انسانی بدن کے اندر جائے گا، اتنا ہی خطرناک ہو گا۔اسی طرح مشروبات سے بھی گریز کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک گیس والی بوتل میں چھتیس چینی کے کیوبز کے برابر شکر ہوتی ہے۔ کسی مشروب کی طلب کے وقت پانی یا چائے کا استعمال بہتر ہوتا ہے، بس اس کے لیے عادت بنانی پڑتی ہے۔
الکوحل سے اجتناب یا انتہائی کم استعمال
الکوحل یا شراب پینے سے بھی وزن بڑھتا ہے۔ نصف لٹر بیئر میں دو سو کیلوریز ہوتی ہیں۔ نصف لٹر شراب یا وائن میں تین سو کیلوریز ہوتی ہیں۔شراب کی جگہ ’سمُودی‘ کا استعمال ایک صحت مند رویہ خیال کیا جاتا ہے۔ زیادہ وزن رکھتے ہوئے شراب کے استعمال سے خون میں شکر کی مقدا بڑھ جاتی ہے۔ احتیاط لازم ہے۔
کافی بہترین مشروب
کافی بڑے شوق سے استعمال کریں۔ طبی ریسرچر نے پتا چلایا ہے کہ کافی میں ایسا مواد ہوتا ہے انسانی بدن میں چینی کے میٹابولزم کے کنٹرول کا باعث بنتا ہے۔ایک عام آدمی کافی کے چھ کپ روزانہ کی بنیاد پر پی سکتا ہے۔ اس کے لیے کافی کی مشین تک جانا بہتر ہوتا ہے۔ اس طرح ہلکی پھلکی چہل قدمی بھی ہوجاتی ہے۔ کیفین سے انسانی ذہن کا اسٹریس لیول بھی کم ہو جاتا ہے۔
بہتر نیند
نیند سے بہتر کوئی دوا نہیں۔ صحت مند لوگ بہتر نیند کے حامل ہوتے ہیں۔ بہتر نیند کے ساتھ ورزش ایک طرح سے سونے پر سہاگے کے مساوی قرار دی جاتی ہے۔ نیند کے دوران بھی بدن کی کیلوریز استعمال ہوتی ہیں اور چربیلے مادے ٹوٹتے ہیں۔
اچھی نیند کئی بیماریوں کے رسک کو کم کر دیتی ہے۔ آپ تمام غیر صحت بخش اشیا یعنی چاکلیٹ، پیزا، کیک، چپس وغیرہ کو نیند میں سوتے ہوئے دیکھیں، اس سے کیلوریز پیدا نہیں ہوں گی۔