سپین کے’’اصغرخان کیس‘‘کا فیصلہ،وزیراعظم حکومت سے باہر… تحریر: مرزا ندیم بیگ

سپین کی سیاسی تاریخ کے اہم ترین عدالتی فیصلے نے ملک کی تمام تر صورتحال کو یکسربدل کر رکھ دیا ہے،یہ فیصلہ ’’گاروتل کیس‘‘ کا فیصلہ ہےجسے ہم سمجھنے کیلئے سپین کا ’’اصغرخان کیس‘‘بھی کہہ سکتے ہیں۔گاروتل کیس کے فیصلے میں برسراقتدار پارٹی پارتیدو پاپولر(پی پی)کے ممبران کوسرکاری طور پر ملنے والے پارٹی فنڈزمیں خردبرداور بعض کاروباری شخصیات سے بطور رشوت پبلک کنٹریکٹس وصول کرنے جیسے کرپشن کے الزامات کا سامنا تھااور بعدازاں عدالتی تحقیقات میں وہ الزامات ثابت ہوگئے اور کرپشن میں ملوث افراد کو سزائیں بھی سنادی گئیں۔
اس صورتحال میں اپوزیشن نے وزیراعظم ماریا راخوئی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا مگر انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کیا تو پھر اپوزیشن نے ان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا۔اس تحریک کی حمایت میں پارتیدوپاپولر(پی پی)کی سب سے بڑی حمایتی جماعت ’’سیوتادانس‘‘بھی شامل تھی اور جمعہ کے روز ہونیوالی  ووٹنگ میں 180 ممبران پارلیمان نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں ووٹ دیئے جبکہ 169 ووٹ مخالفت میں آئے۔ صرف ایک ممبر پارلیمان نے اس ووٹںگ میں حصہ نہیں لیا۔لیفٹ  کی جماعت ’’سوشلسٹ پارٹی‘‘ کے لیڈر پیدروسانچز کو سابق وزیراعظم ماریانو راخوئی کی جگہ  نیا وزیراعظم منتخب کرلیا گیا ہے۔پیدروسانچز  ہی ماریانوراخوئی  کے خلاف عدم اعتماد کے محرک بنے تھے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سپین کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار کسی منتخب وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں اپنے منصب سے دستبردار ہونا پڑا ہے۔قدامت پسند جماعت کے ماریانو راخوئی کی سیاسی جماعت کو طویل عرصے سے کرپشن کے بدنام ترین   سکینڈل کا سامنا تھا۔
یہاں اس بات کا تذکرہ نہ کرنا بھی نامناسب ہو گا کہ جب2011 میں ماریانو راخوئی نے اقتدار سنھالا تھا تو اس وقت سپین اقتصادی مسائل اور بدترین معاشی بحران کا شکار تھا اور بین الاقوامی مہاجن ادارے’’بدترین شرائط والےبیل آوٹ پیکج ‘‘دینے کیلئے آمادہ نظر آتے تھے مگر ماریانو راخوئی نے کسی بیل آوٹ پیکج کی آفرز کو ٹھکرادیا اور سپین کومعاشی طور پر بدحال یونان بنانے سے بچانے میں مثبت کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ملک کو کساد بازاری سے نکالنے کی خاطر ان کی حکومت نے سخت بچتی اقدامات متعارف کرائے تھے مگر ان سخت بچتی اقدامات نے ملک کو اپنے پاوں پر کھڑا کردیا۔ ناقدین کے مطابق ماریانوراخوئی کی سخت گیرمعاشی پالیسیوں کے باعث سپین  میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا تھا گو کسی بڑے مقصد کیلئے قربانی دینا پڑتی ہے مگراس قربانی کے نتیجے میں  انہوں نے ملک کو ایک معاشی بنیاد فراہم کی اور ملک کی اقتصادیات کو اپنے پاوں پر کھڑا کردیا۔
سپین کے معاشی بحران کا آغاز موجودہ وزیراعظم پیدروسانچز کی پارٹی ’’سوشلسٹ‘‘کے دوراقتدار میں ہواتھا جب ملک کے وزیراعظم سپاتیرو تھے لہذا تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں ملنے والی حکومت کے بارے میں یہ مت سمجھا جائے کہ ’’سوشلسٹ پارٹی‘‘کی ملک میں بیحد مقبول ہے بلکہ اب موجودہ وزیراعظم پیدروسانچز کو ملک کی اقتصادی صورتحال کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی کرنا ہونگے جن سے وہ اپنی پارٹی کو عوام کی مقبول ترین پارٹی بناسکیں ۔موجودہ صورتحال میں سوشلسٹ پارٹی کی 350کے ایوان میں صرف 84سیٹس ہیں۔
سانچز پیدرو کو جہاں اور بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہیں پر ان کی حکومت کو کاتالونیا کی آزادی کا سلگتا مسئلہ بھی ’’جہیز‘‘میں ملا ہے اور اس مسئلہ سے نمٹنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔سانچز پیدرو کے پیش رو ماریانوراخوئی تو کاتالان قیادت سے مذاکرات کرنے سے سرے سے انکاری تھے اب دیکھتے ہیں کہ سانچز پیدرو کیا رویہ اختیار کرتے ہیں جبکہ کاتالان صدر کیم تورا نے نئی وفاقی حکومت کو مذاکرات کی دعوت دیدی ہے۔اسکے علاوہ کاتالان تحریک کے سیاسی اسیروں  کی رہائی اور جلاوطنوں کی ملک واپسی کا مسئلہ بھی حل طلب ہے۔
یہاں ایک اور امر قابل ذکر ہے کہ ماریانو راخوئی کی حکومت کے دھڑن تختے کا باعث بننے والے’’گاروتل کیس‘‘میں 29افراد کو سزائیں ہوئی ہیں اور یہ سزائیں اس قدر طویل ہیں کہ جس کا اندازہ اس امرسے کیا جاسکتا ہے کہ سپین سمیت یورپ میں قتل کے مجرم کو پانچ سے سات سال میں رہائی نصیب ہوجاتی ہے مگر کرپشن کیس میں بعض افراد کو تیس سال سے بھی زائد عرصے کی سزائیں سنائیں گئی ہیں اور جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ قدامت پسند پارٹی کو عدالت کی جانب سے حکم ملا ہے کہ 245,000 یورو کی وہ رقم بھی دے جو اس نے تاجروں سے بطور رشوت وصول کی تھی۔بہرحال ابھی نئی حکومت کیلئے ابتدائی دن ہیں اور چیلنجز ہیں کہ منہ کھولے کھڑے ہیں۔