حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نہج البلاغہ سے علم وحکمت کے موتی… تحقیق و تحریر قمرفاروق

13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو خانہ کعبہ میں پیدا ہونے والے حضرت علی حیدر کرار جرات وبہادری اور شجاعت میں تو درجہ کمال حاصل تھا لیکن علم ودانائی میں بھی نقطہ داں تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ الفاظ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں«۔ کبھی یہ کہا کہ »میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔تو آپ واقعی علم کے شہر کا دروازہ ہیں۔
آپ کے علم وحکمت کے موتی بے شمار کتابوں میں بکھرے ہوئے ہیں،لیکن حضرت علی بن ابو طالب کرم اللہ وجہہ کے خطبات اور خطوط کا ایک مجموعہ نہج البلاغہ ہے جسے تیسری صدی ہجری میں سید شریف رضی نے مرتب کیا۔ اس کتاب کا مقام عربی ادب اور صحافت و بلاغت میں بہت بلند ہے۔
نہج البلاغہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے 241 خطبات، 79 خطوط اور 489 مختلف چھوٹی تقریریں شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اپنی خلافت کے زمانے میں مسجد کوفہ میں دیے جانے والے خطبات ہیں۔ خطبات کے بنیادی موضوعات توحید، قیامت کی نشانیاں، دنیا کی پیدائش، حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اور امام مہدی علیہ السلام کا ظہور وغیرہ ہیں۔
علم وحکمت کے یہ موتی آج بھی نوع انسانیت کے لئے جواہرات سے کم نہیں ہیں۔ آج بھی اگر ایک انسان صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے اور معاشرہ میں ایک مفید شہری کے طور پر زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اسے علم کے دروازے میں سے گزرنا پڑھے گا
چند ایک عقل پارے
یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو )ان کے لیے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو
ہر آنے والے کے لیے پلٹنا ہے اور جب پلٹ گیا تو جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
جو اقتدار حاصل کرلیتا ہے جانبدار ی کرنے ہی لگتا ہے۔
سر برآوردہ ہونے کا ذریعہ سینہ کی وسعت ہے۔
ضد اور ہٹ دھرمی صحیح رائے کو دور کردیتی ہے۔
جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا ,اس نے اپنے کو سبک کیا اور جس نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلت پر آمادہ ہوگیا ,اور جس نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا ,اس نے خود اپنی بے وقعتی کا سامان کر لیا .
عقلمند کا سینہ اس کے بھیدوں کا مخزن ہوتا ہے اور کشادہ روئی محبت و دوستی کا پھندا ہے اور تحمل و برد باری عیبوں کا مدفن ہے . (یا اس فقرہ کے بجائے حضرت نے یہ فرمایا کہ )صلح صفائی عیبوں کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے .
جب دنیا (اپنی نعمتوں کو لے کر)کسی کی طرف بڑھتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے عاریت دے دیتی ہے .اور جب اس سے رخ موڑ لیتی ,تو خود اس کی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے .
سب معا ملے تقدیر کے آگے سر نگوں ہیں یہاں تک کہ کبھی تدبیر کے نتیجہ میں موت ہوجاتی ہے .
بامروت لوگو ں کی لغزشوں سے درگزر کرو .(کیونکہ )ان میں سے جو بھی لغزش کھا کر گرتا ہے تو اللہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھالیتا ہے .
خوف کا نتیجہ ناکامی اور شرم کانتیجہ محرومی ہے اور فرصت کی گھڑیاں (تیزرو) ابر کی طرح گزر جاتی ہیں .لہٰذا بھلائی کے ملے ہوئے موقعوں کو غنیمت جانو.
جسے اس کے اعمال پیچھے ہٹا دیں اسے حسب و نسب آگے نہیں بڑھا سکتا .
عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے .
جب عقل بڑھتی ہے ,تو باتیں کم ہو جاتی ہیں .
جو لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھالیتے ہیں تو خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کردیتا ہے۔

علی بن ابی طالب کو 19 رمضان40ھ ( 660ء ) کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن علیہ السلام و حضرت حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔