ناول ہوم فائر کے لیے 2018 کا ویمن پرائز فار فکشن جیت لیا

پاکستانی نژاد برطانوی مصنفہ کاملہ شمسی نے اپنے ساتویں تحریر کردہ ناول ہوم فائر کے لیے 2018 کا ویمن پرائز فار فکشن جیت لیا ہے۔یہ کاملہ کا ساتواں ناول ہے اور یہ تیسری بار ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی مصنفہ کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔کاملہ شمسی یہ ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔ اس سے قبل انہیں بیلز پرائز اور اورنج پرائز کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
انہوں نے 9/11 کے سانحے کے بعد محبت، انتہا پسندی اور وفاداریوں میں تصادم جیسے موضوع کو اپنے ناول کا مرکز بنایا ہے۔ اس ناول کا مرکزی خیال سوفوکلیز کے یونانی المیے سے ماخذ ہے یا یوں کہا جائے کہ اس کی ایک نئی شکل ہے۔ اس میں تین برطانوی مسلمان بہن بھائیوں کی کہانی بیان کی ہے جن کی زندگی اس وقت ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے جب ان میں سے ایک، شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت اختیار کر لیتا ہے۔ کاملہ شمسی نے یہ ایوارڈ پانچ دیگر فائنلسٹوں کو مات دیتے ہوئے حاصل کیا۔ ان مصنفین میں امریکی مصنفہ جیسمین وارڈ بھی شامل ہیں جن کی کتاب کو خصوصی پزیرائی حاصل تھی۔ ایوارڈ دیے جانے کی تقریب میں ججوں میں شامل سارہ سینڈز کا کہنا تھا کہ پینل نے اس کتاب کو اس لیے چنا کیونکہ یہ ہمارے وقت کے بارے میں بات کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا ، ‘یہ ایک زبردست کتاب ہے اور ہم اسے پرجوش طریقے سےتجویز کرتے ہیں۔‘
ویمنز پرائز فور فکشن کو سنہ 1996ء میں دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور اس کے حقدار وہ مصنفین ٹہرتے ہیں جن کے بارے میں ججز سمجھتے ہیں کہ ان کا ناول انگریزی زبان میں اس سال کا سب سے بہترین ناول ہے۔یہ ایوارڈ جیتنے پر سوشل میڈیا پر کاملہ کو صرف پاکستان سے ہی نہیں بلکہ بین الااقوامی سطح سے بھی بے حد سراہا جا رہا ہے۔ پاکستانی صحافی مہر تارڑ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہتی ہیں کہ انہیں کاملہ کی کتاب بے حد پسند آئی ہے اور وہ کاملہ کے جیتنے پر بہت خوش ہیں۔’ہوم فائر‘ کاملہ کا لکھا ہوا ساتواں ناول ہے۔ اس سے قبل ’سٹی بائے دا سی‘، ’سالٹ اینڈ سیفرن‘، ’کارٹوگرافی‘، ’بروکن ورسز‘، ’برنٹ شیڈو‘ اور ’گاڈ ان ایوری اسٹون‘ نامی ناول شائع ہو چکے ہیں۔