سویڈن۔مہاجر بچے بالغ ہونے کی عمر تک اسکول میں تعلیم مکمل کر سکیں گے

سویڈش حکومت نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مہاجر بچے بالغ ہونے کی عمر تک اسکول میں تعلیم مکمل کر سکیں گے اور اس دوران ملک میں قیام بھی کر سکیں گے۔ تاہم یہ قانون سویڈن کی سیاست میں اختلافات کو ہوا دے سکتا ہے۔مہاجرین کے حوالے سے خبریں فراہم کرنے والے یورپی ادارے انفو مائیگرنٹس کے مطابق سویڈش پارلیمان کی جانب سے حال ہی میں منظور کیا جانے والا یہ قانونی بِل نابالغ تارکین وطن کو ہائی اسکول تک تعلیم مکمل کرنے کے عرصے تک ملک میں قیام کرنے کی اجازت دے گا۔
سویڈن کی حکومت کی جانب سے یہ اقدام اُس وقت اٹھایا گیا ہے جب ملکی ایجنسی برائے مہاجرین بعض کم عمر مہاجرین کی پناہ کی در‌خواستوں پر اُن کے بالغ ہونے سے قبل عمل درآمد نہیں کر سکی۔
سویڈن میں تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں پر عمل درآمد ہونے میں اوسطاﹰ ایک سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ کچھ مہاجرین ایسے بھی ہوتے ہیں جو اسی ایک برس کی مدت میں بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں یعنی اٹھارہ سال کے ہو جاتے ہیں۔
سویڈن کی پارلیمنٹ میں یہ قانونی مسودہ ایک سو چھیاسٹھ ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ بِل کی مخالفت میں ایک سو چونتیس ووٹ آئے جبکہ اڑتالیس اراکین پارلیمان نے اپنی رائے محفوظ رکھی۔سویڈن میں سوشل ڈیموکریٹس اور گرینز نے اس بِل کی حمایت کی تھی جبکہ اعتدال پسندوں اور ’سویڈن ڈیموکریٹس‘ نے اس کی مخالفت کی تھی۔
گرینز جماعت کی رکن ماریا فرم نے ٹی ٹی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہمیں سیاسی ذمہ داری لینا ہو گی۔ پناہ کے متلاشی افراد کو اس وجہ سے مشکل میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ سویڈش حکام اُن کی درخواستوں پر بروقت عمل نہیں کر سکے تھے۔‘‘
تاہم اس قانون نے سویڈن میں عام انتخابات سے محض تین ماہ قبل سینٹر رائٹ اتحاد کے مابین پیدا ہونے والی خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔ آئندہ الیکشن میں مہاجرت ہی سب سے زیادہ زیر بحث موضوع رہے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سویڈن میں سن 2012 سے لے کر اب تک پناہ کی چار لاکھ کے قریب درخواستیں درج ہوئی ہیں۔