چھ سو سے زائد مہاجرین کے بحری جہاز کو ویلینشیا میں لنگرانداز ہونے کی دعوت، وزیر اعظم پیدرو شانچیز

چھ سو سے زائد مہاجرین کو ریسکیو کر کے اطالوی ساحلوں پر لانے والے فرانسیسی امدادی تنظیم کے بحری جہاز کو روم حکومت نے لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اب ان مہاجرین کو اسپین پہنچایا جائے گا۔
اٹلی کی نئی عوامیت پسند حکومت نے مہاجرین سے متعلق سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے فرانسیسی امدادی تنظیم کے بحری جہاز کو اپنے ساحلوں پر لنگر انداز ہونے اور مہاجرین کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد یہ جہاز بین الاقوامی پانیوں میں کھڑا تھا۔اس بحری جہاز میں بحیرہ روم میں متعدد ریسکیو آپریشنز کے دوران بچائے گئے چھ سو انتیس مہاجرین سوار ہیں، جن میں کئی حاملہ خواتین اور سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم ’ایکواریئس‘ نامی اس امدادی بحری جہاز کو اٹلی اور مالٹا نے لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی تھی جس کی وجہ سے ڈرامائی صورت حال پیدا ہو گئی۔
ویک اینڈ پر پیش آنے والی اس صورت حال میں اسپین کے نئے سوشلسٹ وزیر اعظم پیدرو شانچیز نے ان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینے کی پیش کش کی تھی۔ ہسپانوی حکومت نے یہ بحری جہاز کو ویلینشیا میں لنگرانداز ہونے کی اجازت دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایسا کرنا اسپین کے لیے ’فرض‘ ہے۔ایس او ایس میڈیٹرینی نامی امدادی تنظیم نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا، ’’کچھ دیر میں ایک اطالوی بحری جہاز ایکواریئس میں اشیائے خورد و نوش پہنچائے گا۔ بعد ازاں ریسکیو کیے گئے تارکین وطن کو اطالوی بحری جہاز میں سوار کیا جائے گا جو انہیں مشرقی اسپین میں ویلینسیا کی بندرگاہ پہنچا دے گا۔‘‘
اسپین کے علاوہ ایک فرانسیسی جزیرے نے بھی ان مہاجرین کو پناہ دینے کی حامی بھری تھی۔ قبل ازیں ایس او ایس نے ہسپانوی پیش کش کے جواب میں کہا تھا کہ خراب موسم کے باعث شاید بحری جہاز کے لیے ویلینشیا تک کا سفر ممکن نہ ہو پائے۔دائیں بازو کی عوامیت پسند اطالوی حکومت نے پہلی مرتبہ مہاجرین کو اپنے ساحلوں پر اترنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے اس بارے میں اپنی سخت پالیسی کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم انسانی حقوق اور مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم افراد اور تنظیموں نے روم حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔