اقوام متحدہ کا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سن 2016 سے اب تک بھارتی فوج نے کشمیر میں طاقت کا بے جا استعمال کیا جس کے باعث متعدد کشمیری شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ لہٰذا انسانی حقوق کی ان مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق اپنی پہلی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے عام کشمیریوں کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ادارے نے اسلام آباد حکومت سے بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے پر امن کارکنوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے ’غلط استعمال‘ سے باز رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا فوکس جولائی 2016ء سے اپریل 2018ء کے دوران بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اس دوران 145 عام شہری مارے گئے جب کہ اسی عرصے کے دوران مسلح گروپوں کی جانب سے بھی بیس کے قریب عام شہریوں کو قتل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، ’’2016ء میں شروع ہونے والے مظاہروں کے رد عمل میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے طاقت کا بے جا استعمال کیا جو غیر قانونی ہلاکتوں اور بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو زخمی کرنے کی وجہ بنا۔‘‘اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ برداشت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جموں اور کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس کی وجہ 1990ء میں بنایا گیا وہ قانون ہے جو ایسے اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اپنے بیان میں زید رعد الحسین نے ہیومن رائٹس کونسل سے کہا کہ وہ تمام طرح کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک انکوائری کمیشن تشکیل دے۔ ہیومن رائٹس کونسل کا تین ہفتے دورانیے کا اجلاس جنیوا میں جاری ہے اور اس کا آغاز پیر 11 جون کو ہوا تھا۔ زید رعد الحسین نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ وادی کشمیر اور جموں کے علاقے میں مبینہ اجتماعی قبروں کی بھی تحقیقات کی جائیں۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں خلاف ورزیوں کی نوعیت اور شدت مختلف درجے کی ہیں۔ رپورٹ میں وابستگی اور اظہار کی آزادی پر پابندیوں کی مذمت بھی کی گئی ہے۔