سرکاری دستاویزات میں جعل سازی، غیر قانونی بچوں کی اسمگلنگ۔۔ پہلے مقدمے کی سماعت میڈرڈ میں شروع ہونے جا رہی ہے

ایک سابق ڈاکٹر پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر نومولود بچوں کو چوری کرتے ہوئے انہیں دیگر خواتین کو بیچ دیا کرتے تھے۔ اندازوں کے مطابق اس عمل سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے تھے۔اس مقدمے کی سماعت کا آغاز آئندہ منگل کے روز ہسپانوی شہر میڈرڈ میں کیا جا رہا ہے۔ پچاسی سالہ ایڈوآرڈو ویلا ماضی میں میڈرڈ ہی کے سان رامون ہسپتال میں بچوں کی پیدائش کے دوران مددگار کے طور پر ملازمت کرتے تھے۔ اسپین میں ’چوری شدہ بچوں‘ کے اسکینڈل میں ملوث وہ پہلے شخص ہوں گے، جنہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسپین میں فرانکو آمریت کے دوران پیش آنے والے ان واقعات کا انکشاف سن دو ہزار میں ہوا تھا۔
ویلا پر الزامات ہیں کہ انہوں نے سن 1969 میں اِنس ماڈریگال نامی نومولود بچی کی چوری میں مدد فراہم کی تھی۔ اب اس بچی کی عمر انچاس برس ہو چکی ہے۔ ان خاتون نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈوآرڈو ویلا نے اس کے برتھ سرٹیفیکیٹ میں ردوبدل کرتے ہوئے اس کے اصل والدین کی بجائے لے پالک ماں کا نام لکھ دیا تھا۔ اِنس ماڈریگال کی لے پالک والدہ بھی وفات پا چکی ہیں۔اِنس ماڈریگال جب اٹھارہ برس کی ہوئی تھیں، تو ان کی لے پالک والدہ نے اسے بتا دیا تھا کہ وہ اس کی اصل والدہ نہیں ہیں۔ پھر ماڈریگال نے سن 2010 میں ’چوری شدہ‘ بچوں کے حوالے سے ایک آرٹیکل پڑھا۔ یہ اسی ہسپتال کے بارے میں تھا، جس میں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسپین میں ڈکٹیٹر شپ کے آخری برسوں، ساٹھ اور ستر کی دہائی، میں بچوں کی اسمگلنگ عروج پر تھی۔
ماڈریگال کا نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میں نے سوچا، او میرے خدایا، یہ میرا ہی کیس نہ ہو۔‘‘ اس کے بعد ماڈریگال نے مزید تحقیق کی، جس سے پتا چلا کہ اس کے برتھ سرٹیفیکیٹ میں تبدیلیاں لائی گئی تھیں پچاسی سالہ ایڈوآرڈو ویلا پر سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کرنے، غیر قانونی بچوں کی اسمگلنگ اور بچوں کے برتھ سرٹیفیکیٹ میں تبدیلیاں لانے ایسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ملزم کے وکیل نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔