ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی مختصر داستان..کرنل(ر) اشفاق حسین

رشید احمد صدیقی نے مزاح پیدا کرنے کی جو بہت سی ترکیبیں بتائی ہیں، ان میں ایک تحریفِ لفظی بھی ہے، یعنی کسی تحریر کے متن کا کوئی لفظ ایسے تبدیل کرنا کہ وہ اپنے اصل سنجیدہ مطلب کی بجائے ،شگفتگی سے کھل جائے اور پڑھنے والے کے لبوں پر مُسکان پھیلتی چلی جائے۔ مشتاق احمد یوسفی تحریف ِلفظی سے مزاح پیدا کرنے کے فن میں یکتا ہیں ،بلکہ انہیں اس فن کا ماہر اعظم کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ وہ اپنی تحریروں میں جابجا اس فن کا استعمال تو کرتے ہیں، ان کی ایک بھری پُری کتاب کا عنوان ہی تحریف ِلفظی ہے۔ سرگذشت کا مطلب ہوتا ہے خود پر گزرنے والی کوئی کہانی، کوئی واقعہ، کوئی واردات ،لیکن انہوں نے کتا ب کا نام ’’ زر گذشت‘‘رکھا ۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایک بینک کی ملازمت سے کیا اور ساری عمر اِسی میں گزار دی۔ بینک میں چونکہ نوٹ ہی گنے جاتے ہیں، نوٹ ہی کمائے جاتے ہیں ،نوٹ دُگنے کرنے کا کاروبار ہوتا ہے تو اس سلسلے میں ہونے والی تمام وارداتوں کو، جو ہے تو ان کی آپ بیتی ہے،لیکن انھوں نے اسے سرگذشت کی بجائے زرگذشت کا نام دیا۔

اس کے پہلے باب کاعنوان بھی تحریف ِلفظی ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی کی مسدس حالی کا پہلا شعرتھا۔۔۔۔

سبق یہ تھا پہلا کتاب ِہدیٰ کا

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

یوسفی صاحب نے پہلے مصرعے میں تحریف کرتے ہوئے لکھا،

سبق یہ تھا پہلا کتاب رِبا کا

ربا ،عربی زبان میں سود کو کہتے ہیں اور یہ باب سود کے پیشے سے منسلک والے پہلے دن کی روداد ہے۔ وہ کھوکھر ا پار مونا بائو کے راستے پاکستان وارد ہوئے تھے۔ کراچی میں ان کی پہلی صبح تھی۔ تلاشِ معاش کے سلسلے میں وہ میکلورڈ روڈ پر واقع ایک بینک کے ہیڈ آفس پہنچے۔ ایک پرچی پر اپنا نام لکھ کر بینک کے جنرل منیجر مسٹر ڈبلیو جی ایم اینڈرس کو بھجوایا۔ پرچی پر اپنا نام باریک حروف میںاور جلی حروف میں لکھا، ’’فرستادہ۔۔۔مسڑ ایم اے اصفہانی، چیئرمین بینک نہرا‘‘ لکھتے ہیں کہ کہ سفارش میں لپٹی ہوئی یہ دھمکی ہمارے کام نہ آئی، اس لیے کہ ہمارے بعدآ ٓنے والے ملاقاتی ،جو ہمارے حسابوں سےہم سے زیادہ خوش پوش اور حیثیت دار نہ تھے باری باری شرفِ باریابی حاصل کرکے رخصت ہوگئے اور ہم سر جھکائے سوچتے ہی رہ گئے کہ میری بار کیوں دیر اتنی کردی۔

ڈیڑھ دو گھنٹے بینچ پر انتظارِ ساغر کھینچنے کے بعد جی میں آئی کہ لعنت بھیجو ایسی ذلت کی نوکری سے بے روزگاری بھلی۔ دیر ہے اندھیربھی ہوگا۔چل خسرو گھر اپنے سانج بھئی چوند لیں۔ مرزا غالب بھی تو فارسی مدرس کی سو روپے ماہوار اسامی کے لیے پالکی میں بیٹھ کر مسٹر ٹامسن کے پاس انٹرویو کے لیے گئے تھے،لیکن الٹے پھر آئے، اس لیے کہ وہ ان کی پیشوائی کو باہر نہیں آیا۔ کہاروں سے کہا کہ بس ہوچکی ملاقات۔ پالکی اُٹھائو، لیکن پھر اندر والا بوالا ہوش میں آئو۔ تم کہاں کے دانا ہو، کس ہنر میں یکتا ہو؟۔۔۔۔ تم کیا کرو گے؟ تم تو صرف نثر میں خوشامد کرنا جانتے ہو۔ پھر واپسی کے لیے باہر پالکی بھی تو نہیں ہے۔

بعد از انتظارِ بسیار، انہیں بُلایا گیا تو انگریز جنرل منیجر نے چٹ پر لکھی تحریر کے بارے میں ارشاد فرمایا، ’’ تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس بینک کو میں چلا رہا ہوں،مسڑ اصفہانی نہیں ۔‘‘

پھر پوچھا،’’ تم نے معاشیات پڑھی ہے؟‘‘

’’نو سر۔۔۔!‘‘

’’حساب میں بہت اچھے تھے؟‘‘

’’ نوسر! حساب میں ہمیشہ رعایتی نمبروں سے پاس ہوا ،حالانکہ انٹر میڈیٹ سے لے کر ایم اے تک ،فرسٹ ڈویژن، فرسٹ آیا۔‘‘

’’حساب میں فیل ہونے کے علاوہ تمھارے پاس اس پیشے کے لیے اور کیا کوالی فیکشین ہے؟‘‘

لکھتے ہیں،’’ انٹرویو کے سلسلے میں ایک عرصے پہلے ہم نے معلومات ِعامہ کے نامعقول سے نامعقول سوالوں کے جواب رٹ لیے تھے۔ مثلا ً کرکٹ کی گیندوں کا وزن، مکھی کی ٹانگوں اور بیل کے دانتوں کی تعداد۔ نپولین کا قد ، اگر بینک سے صرف 100روپے سات فیصد سود پر قرض لیے جائیں تو وہ کس طرح 250سال میں 2,217,902,400ہوجائیں گے۔ خالص سونا کتنے کیرٹ کا ہوتا ہے؟ بلی کی آنتوں کی لمبائی ، کتازبان کیوں باہر نکالے رکھتا ہے؟ انسان منہ کھولنے سے کیوں ڈرتا ہے؟ اچھا خاصا(RSاور S) لکھ کر اُنہیں حرفِ غلط کی طرح کاٹا کیوں جاتا ہے۔

تخلص پر ڈوئی کیوں بنائی جاتی ہے؟ شیکسپیر کے ہاں شادی کے کتنے ماہ بعد بچہ تولد ہوا؟ بانس پولا کیوں ہوتا ہے؟‘‘

ساری کی ساری تیاری دھری کی دھری رہ گئی جب ان سے سوال ہوا،’’ اچھا یہ بتائو کہ جس سن میں تم پیدا ہوئے تھے ، اُس سال اور کون سا بین الاقوامی سانحہ ہوا تھا؟‘‘

پھر درخواست میں سن ِپیدائش دیکھ کراندوہ گیں لہجے میں کہا،’’ بائی دی وے۔ جس سال تم پیدا ہوئے تھے، اسی سال میرے باپ کا انتقال ہوا، بڑا منحوس تھا وہ سال۔‘‘

پھر پوچھا،’’ تم یہ پیشہ کیوں اختیار کرنا چاہتے ہو؟ کوئی معقول وجہ؟‘‘

ذہن پر بہتیرا زور دیا۔ وہ اگر معقول کی پخ نہ لگاتا تو ہم ایک ہزار ایک وجوہات گنوا سکتے تھے۔۔۔۔

مختصر یہ کہ انہیں بینک میں ملازم رکھ لیا گیا۔ لکھتے ہیں،’’ اس ایجاب و قبول پر 23سال گزر گئے اور ان برسوں میں دنیا نے کیا کچھ نہیں دیا، لیکن اپنا قرض ،جو اپنے آپ پر تھا ، وہ آج تک نہ اُتر سکا۔ حساب کتاب سے دلی نفرت تھی ۔وہی آخر کو ٹہرا فن ہمارا۔ اس سے زیادہ بدنصیبی اور کیا ہوگی کہ آدمی ایک غلط پیشہ اپنائے اور اس میں کامیاب ہوتا چلا جائے۔۔۔ روپیہ اور اس سے متعلق تمام تر کاروبار میں کامیابی کی اولین شرط یہ ہے کہ آدمی ہر چیز سے ناتا توڑ کر اسی کا ہورہے۔۔۔۔ دولت،سیاست، عورت اور عبادت ، کامل یکسوئی، مکمل خود گزاشتگی، سرتاپا سپردگی چاہتی ہیں۔ ذرا دھیان بھٹکا اور منزل کھوٹی ہوئی۔

ان کی پہلی کتاب’’ چراغ تلے‘‘ تھی، جو 1971ء میں شائع ہوئی۔ پہلے باب میں انہوں نے اپنا تعارف بھی کروایا ہے۔

’’ نام: سرِورق پر ملاخطہ فرمائیے۔

خاندان: ’’سو پشت سے ہےپیشہء آباء ،سپہ گری ‘‘کے سوا سب کچھ رہاہے۔

پہچان: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب وہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتمام محبت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔

پسند: پھولوں میں رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوئوں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے۔

کتاب مختلف موضوعات پر مشتمل ہے۔ درمیان میں انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف تجربات بھی بیان کیے ہیں۔

’’جنون ِ لطیفہ‘‘ والے باب میں ایک خانساماں کے بارے میں لکھتے ہیں،’’ کچھ دن ہوئے ایک مڈل فیل خانساماں ملازمت کی تلاش میں آنکلا اور آتے ہی ہمارا نام اور پیشہ پوچھا۔ پھر سابق خانسامائوں کے پتے دریافت کیے ،نیز یہ کہ آخری خانساماں نے ملازمت کیوں چھوڑی تھی۔ باتوں باتوں میں انہوں نے یہ عندیہ بھی لینے کی کوشش کی کہ ہم ہفتے میں کتنی دفعہ باہر مدعو ہوتے ہیں اور باورچی خانے میں چینی کے برتنوں کے ٹوٹنے کی آواز سے ہمارے اعصاب اور اخلاق پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔کافی تردد کے بعد ہمیں یوں محسوس ہونے لگا جیسے وہ ہم میں، وہی خوبیاں تلاش کر رہے ہیں، جو ہم ان میں ڈھونڈ رہے تھے۔ یہ آنکھ مچولی ختم ہوئی اور کام کے اوقات کا سوال آیا تو ہم نے کہا کہ اُصولاً ہمیں محنتی آدمی پسند ہیں۔ خود بیگم صاحبہ صبح پانچ بجے سے رات کے دس بجے تک گھر کے کام میں جٹی رہتی ہیں۔ کہنے لگے،ـ’’ صاحب! ان کی بات چھوڑیے۔ وہ گھر کی مالکہ ہیں۔ میںتو نوکر ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ وضاحت بھی کر دی کہ برتن نہیں مانجھوں گا۔ جھاڑو نہیں دوں گا۔ایش ٹرے صاف نہیں کروں گا۔میز نہیں لگائوں گا۔ دعوتوں میں ہاتھ نہیں دھلائوں گا۔

ہم نے گھبرا کر پوچھا،’’ پھر کیا کرو گے؟‘‘

’’ یہ تو آپ بتائیے۔ کام آپ نے لینا ہے۔ میںتو تابع دار ہوں۔‘‘

کراچی کے موسم کے بارے میں لکھتے ہیں،’’ پسینہ ہے کہ کسی طرح خشک نہیں ہوتا۔ جی چاہتا ہے کہ بلائنگ پلیپر کا لباس بنوالیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی ستر کشا آب و ہوا میں کپڑے موسم سے بچائو کے لیے نہیں بلکہ صرف قانون سے بچنے کے لیے پہنے جاتے ہیں۔ عام طور سے فیشن موسم کی رعایت سے بدلتے رہتے ہیں۔چنانچہ آپ نے ملاخطہ فرمایا ہوگا کہ دوسرے شہروں میں اونچے گھرانوں کی فیشن پرست خواتین اہم تقریبوں میں خاص طور سے کپڑے پہن کر جاتی ہیں،یہاں اُتار کر جاتی ہیں۔‘‘

ان کی دوسری کتاب’’ خاکم بدہن‘‘ 1969ء میں شائع ہوئی۔ اس میں جو مضامین شامل ہیں، ان کے آخر میں مختلف تاریخیں درج ہیں۔ مثلاً پہلا مضمون ہے۔’’صبغے اینڈ سنز‘‘ اس پر جنوری 1962ء کی تاریخ درج ہے۔ اس کے بعد والے پر 1963 اور کچھ پر تین سالوں کی تاریخ ہے، جیسے 1965ء تا1968ء ۔ انہوں نے ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ وہ ایک موضوع منتخب کرنے کے بعد برسوں اس پر سوچتے رہتے ہیں اور وقتا فوقتا کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں۔ غالباً یہ تاریخیں ان کی اسی کوشش کا مظہر ہیں۔

اس کتاب میں انہوں نے نئے لکھنے والوں کے لیے بڑے پتے کی بات کی ہے۔لکھتے ہیں،’’ مزاح نگار کے لیے نصیحت، فصیحت اور فرمائش حرام ہیں۔۔۔۔ یوں تو مزاح ، مذہب اور الکحل ہر چیز میں باآسانی حل ہوجاتے ہیں، بالخصوص اردو ادب میں، لیکن مزاح کے اپنے تقاضے، اپنے ادب آداب ہیں۔ شرطِ اول یہ کہ برہمی، بیزاری اور کدوت دل میں راہ نہ پائے، ورنہ یہ بومرنگ پلٹ کر خود شکاری کاکام تمام کردیتا ہے۔ مزاتو جب ہے کہ آگ بھی لگے اور کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے کہ ،’’ یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے۔‘‘ مزاح نگار اس وقت تک تبسم ِزیر ِلب کا سزاوار نہیں، جب تک اس نے دنیا اور اہل دنیا سے رج کے پیار نہ کیاہو۔ ان سے، ان کی بے لہری و کم نگاہی سے، ان کی سرخوشی وہشیاری سے، ان کی تر دامنی اور تقدس سے۔

تیسری کتا ب’’ زر گزشت‘‘ انہوں نے1972ء میں مکمل کر لی تھی، لیکن چار سال اس کی نظر ثانی میں لگا دیے اور وہ 1976ء میں شائع ہوئی۔ اس کا تفصیلی ذکر ہم شروع میں کر چکے ہیں ،چنانچہ چلتے ہیں ان کی چوتھی کتاب’’ آبِ گم‘‘ کی طرف یہ 1989ء میں شائع ہوئی۔ اصل میں یہ پانچ خاکے ہیں۔ بہت سے لوگ خاکہ نگاری سے مراد، خاکہ اڑانا ہی سمجھتے ہیں، یعنی جس کا خاکہ لکھنا ہے، اُس کا مذاق ہی اُڑانا ہے۔ سید ضمیر جعفری نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ یوسفی اپنے کھیت میں نفرت، کدورت یا دشمنی کا بیج بوتا ہی نہیں۔ رشید احمد صدیقی نے لکھا،’’ ظرافت کے فن اور اس کے صحیفہء اخلاق کا یوسفی کے ہاں بڑا قابلِ تعریف رکھ رکھائو ملتا ہے۔‘‘ تو اس کتاب میں جو خاکے لکھے گئے ہیں، ان میں شستگی ہے،شائستگی ہے اور مزاح کا جوہر الفاظ میں یوں پیوست ہے جیسے انگھوٹھی میں جڑا نگینہ ، گلاب کی پتیوں میں خوشبو، یا حسین گالوں پر دمکتی تمتماہٹ۔’’ حویلی‘‘ کی کہانی ایک متروکہ ڈھنڈار حویلی اور اس کے مغلوب الغضب مالک کے گرد گھومتی ہے۔ ’’اسکول ماسٹر کا خواب‘‘ ایک دکھی، ایک گھوڑے، حجام، اور منشی سے متعلق ہے۔’’شہر دو قصہ‘‘ ایک چھوٹے سے کمرے اور اس میں پچھتر سال گزار دینے والے ایک سنکی آدمی کی کہانی ہے۔’’دھیرج گنج کا پہلا یادگار مشاعرہ‘‘ ایک قدیم قصباتی اسکول میںایک ٹیچر کی تعیناتی سے شروع ہوتا ہے اور ایک مشاعرے پر ختم ہوتا ہے، جوا سکول میں زیر تعلیم یتیم بچوں کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے برپا کیا گیا تھا۔ ’’ کار، کابلی والا اور الہٰ دین بے چراغ‘‘ ایک کھٹارہ کار، ناخواندہ پٹھان، آڑھتی اور ایک شیخی خور اور پہاڑی ڈرائیور کا ایک طویل خاکہ ہے۔

کتاب کے دیباچے میںانہوں نے ان اصحاب کا تفصیل سے ذکر کیا ہے ،جو یوسفی صاحب کی کتابوں پر نظر ثانی کرتے رہے اور زبان کی غلطیوں پر فرمائش کرتے رہے۔ زبان کی نزاکتوں اور نفاستوں سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ خاصے کی چیز ہے۔ ان کی شریک ِحیات ادریس فاطمہ ان کی کتابوں میں غلطیوں کی نشاندہی کرتی رہی تھیں۔ اس کتاب میں انہوں نے کوئی غلطی نہیں نکالی۔ یوسفی صاحب نے ان سے کہا،’’ راجستھانی لہجہ اور محاورہ کسی طرح میرا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ بہت دھوتا ہوں پر چنری کے رنگ چھٹائے نہیں چھوٹتے۔ حیرت ہے اس دفعہ تم نے زبان کی ایک بھی غلطی نہیں نکالی۔‘‘

کہنے لگیں،’’ پڑھائی ختم ہوتے ہی علی گڑھ سے اس گھر۔۔۔گڑھی میں آگئی۔ 43برس ہوگئے۔ اب مجھے کچھ یاد نہیں کہ میری زبان کیا تھی اور تمھاری بولی کیا۔ اب توجوسنتی ہوں ،سبھی درست معلوم ہوتا ہے۔‘‘

ایک دوسرے کی چھاپ، تلک سب چھین کر اپنا لینے اور دریائے سندھ اور دلوںکا ٹھنڈا میٹھاپانی پینے کے بعد تو یہی کچھ ہونا تھا اور جوکچھ ہوا، بہت خوب ہوا۔

سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے ہجرت کرنے اور نئے وطن کی محبتوں میںسرشار ہونے کی اس سے بہتر اور کیا مثال ہوسکتی ہے۔

یوسفی صاحب کا لہجہ راجستھانی تھا لیکن انہوں نے نئے وطن میں پنجابی بھی سیکھی، پشتو بھی اور کراچی میں بولی جانے والی، بولیاں بھی۔انہوں نے ان زبانوں کے فقرے اتنی چابکدستی سے اپنی تحریروں میں سموئے ہیں کہ انہیں چار چاند لگ گئے ہیں۔