اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ بچوں کی آنکھوں کو خشک کررہے ہیں

برمنگھم: ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون کی اسکرین کو مسلسل تکتے رہنے کی وجہ سے اب چھوٹے بچے خشک آنکھوں کے مرض کا شکار ہورہے ہیں جو پہلے کبھی صرف عمررسیدہ افراد کی بیماری ہوا کرتا تھا۔ایسٹن یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ چھوٹے بچے پلک جھپکائے بغیر گھنٹوں اسمارٹ فون اور ٹیبلٹس کو تکتے رہتے جس کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں نمی ختم ہورہی ہے اور آنکھ فوری طور پر خشک ہورہی ہے۔ یہ کیفیت آگے چل کر بہت تکلیف دہ ہوجاتی ہے اور اس کے لیے ماہرِ چشم آنکھوں میں ڈالنے کے قطرے تجویز کرتے ہیں۔خشک آنکھوں کی کیفیت شدت اختیار کرجائے تو نظر میں دھندلاہٹ کی وجہ بنتی ہے اور آنکھ کے دیگر سنگین مسائل بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔ خشک آنکھوں والے مریض جب سو کر اٹھتے ہیں تو ان کی آنکھیں چپک جاتی ہیں۔ اسی لیے اب ایسٹن یونیورسٹی کے ماہرین ایک ایسی ایپ تیار کررہے ہیں جو وقفے وقفے سے اسمارٹ فون استعمال کرنے والے کی آنکھوں کا معائنہ کرتی رہے گی اور آنکھوں کے اس مرض کی صورت میں انہیں خبردار کرے گی۔
ایسٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق عام ڈاکٹروں کے پاس آنکھوں کی خشکی معلوم کرنے والے مناسب آلات کا فقدان ہوتا ہے اور اسی لیے یہ ایپ تیار کی گئی ہے۔ ہر روز ہماری آنکھوں کے پپوٹے آنکھوں کو نمی اور غذائیت والا پانی پہنچانے کے لیے جو سفر طے کرتے ہیں ، اگر اسے ناپا جائے تو اس کی لمبائی ایک فٹبال گراؤنڈ کے برابر ہوتی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 8 برس تک بچے کی آنکھ کئی تبدیلیوں سے گزر کر نمو پاتی ہے اور اس دور میں پیدا ہونے والی کوئی بھی خرابی آنکھ میں دیرینہ نقصان کی وجہ بن سکتی ہے۔