پامپلونا میں سالانہ بُل ریسنگ فیسٹیول کا آغاز

ہسپانوی علاقے پامپلونا میں سالانہ بُل ریسنگ فیسٹیول کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس میلے کے دوران جنسی حملوں کے انسداد کے لیے خصوصی موبائل فون ایپس بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔
جمعہ چھ جولائی کو خصوصی فائرورکس کے بعد پامپلونا کے رنگا رنگ بُل فیسٹیول کا آغاز ہو گیا ہے۔ اِس میلے سے قبل کی جانے والی آتش بازی کو ’چُوپینازو‘ کہا جاتا ہے۔ افتتاحی تقریب کی شروعات ذہنی بیماری ’ڈاؤن سنڈروم‘ کے دو نوجوان مریضوں نے ڈھول بجاتے ہوئے ’چوپینازو‘ آتش بازی کے راکٹوں کو آگ لگا کر کی۔شمالی ہسپانوی شہر پامپلونا کے ٹاؤن ہال کے سامنے واقع مرکزی چوک میں بُل ریسنگ فیسٹیول کے شائقین کا ٹھاٹھیں مارتے ہجوم کے سامنے افتتاحی تقریب کو مکمل کیا گیا۔ آتش بازی کے دوران لوگ فرطِ جذبات سے چیخیں مارنے کے علاوہ شور شرابے کے ساتھ ساتھ سیٹیاں بھی بجاتے رہے۔ اس تقریب کے دوران حاضرین نے ہسپانوی اور باسک زبانوں میں فیسٹیول کو قائم و دائم رکھنے کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔
اس نو روزہ میلے کی افتتاحی تقریب میں شریک بیشتر شائقین نے فیسٹیول کا روایتی سرخ رنگ کا اسکارف اور سفید لباس پہن رکھا تھا۔ شائقین موج مستی کے سلسلے کے دوران ایک دوسرے پر شراب بھی نچھاور کرتے ہوئے ایک دوسرے کے سفید لباسوں کو رنگین کرتے رہے۔دوسری جانب مقامی انتظامیہ نے اس فیسٹیول کے دوران جنسی استحصال کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی ایپ بھی متعارف کرائی ہے۔ یہ خصوصی ڈیجیٹل ایپ گزشتہ برس کے ایک مقدمے ’وولف پیک‘ کے تناظر میں شروع کی گئی ہے۔ اس مقدمے میں ملوث افراد کو عدالت نے بری کر دیا ہے۔
اس بریت کے خلاف خاص طور پر خواتین نے بل ریسنگ فیسٹول کے دوران احتجاجی مظاہروں کے سلسلے کو جاری رکھنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔ اسی فیسٹیول میں جنسی استحصال کا واقعہ سن 2016 میں رونما ہوا تھا اور جس میں ’وولف پیک‘ نامی ایک گروہ کے پانچ مردوں نے ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔اسی فیسٹول کے دوران ایک تحریک کو بھی شروع کیا گیا ہے اور اِس کا مقصد پامپلونا فیسٹول کو جنسی استحصال سے پاک کرنا ہے۔ یہ تحریک شہر کی بلدیاتی کونسل کی ایک رکن اتسیار گومیز نے شروع کی ہے۔ گومیز کا کہنا ہے کہ یہ ایک محفوظ شہر ہے اور اس رنگا رنگ ثقافتی فیسٹول کو جاری رکھنا بھی اہم ہے