سان فیرمین فیسٹیول، بل رننگ کے شوقین افراد کا میلہ

سان فیرمین فیسٹیول، بل رننگ کے شوقین افراد کا میلہ
جنونی دوڑ
یہ بات اہم ہے کہ اس روایتی مگر جنونی دوڑ میں بھینسوں کو چھونے پر پابندی عائد ہوتی ہے اور بس جھانسا دے کر بچنا ہوتا ہے۔
روایتی میلہ
سان فیرمین کے روایتی ہسپانوی میلے میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔
خصوصی لباس
ان بھینسوں کے آگے دوڑنے والے روایتی سفید لباس اور سرخ رنگ کی شالیں لیے ہوتے ہیں۔ ان بھینسوں کی ٹکروں اور ٹاپوں سے بچتے، ایک دوسرے سے ٹکراتے یہ دوڑنے والے اس سنسنی خیزی کا مزہ لیتے ہیں۔
جان کا خطرہ
1911ء سے سان فیرمین فیسٹیول کے حوالے سے اعداد و شمار جمع کرنے شروع کیے گئے ہیں اور اس کے مطابق اب تک 15افراد بُل رننگ میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
مذہبی تہوار
اصل میں سان فیرمین ایک مذہبی تہوار تھا، جو گزشتہ کچھ برسوں سے ایک میلے کی سی صورت اختیار کر گیا ہے۔
سان فیرمین پر ناول
اس فیسٹیول کی شہرت میں ایرنسٹ ہیمنگوے کے ناول ’’The Sun Also Rises ‘‘ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
قسمت کا دھنی
امریکی ریاست نیوجرسی سے اپنے بھائی اور 18 سالہ بیٹے کے ساتھ اس دوڑ میں حصہ لینے اسپین پہنچنے والے مِلیگان کا کہنا ہے، ’ایک بھینسے نے مجھے پیٹھ میں ٹکر ماری اور پھر مجھ پر سے کودتا آگے بڑھ گیا۔ اس تمام وقت میں میرا بیٹا مجھ سے چند قدم آگے آگے دوڑ رہا تھا۔‘
سنسی اور لطف
پامپلونا شہر کی گلیوں میں بھینسوں کے آگے آگے دوڑ کر ’سنسنی کا لطف‘ لینا ایک قدیم ہسپانوی میلہ ہے۔ حکام کے مطابق اس مرتبہ اس میلے میں بھینسوں کی ٹکروں سے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔
بُل رنگ
اس دوڑ کے لیے شہر میں ایک خصوصی بُل رنگ تعمیر کیا جاتا ہے تاکہ بیل اور سانڈ صرف ایک خاص راستے میں ہی دوڑ سکیں اور آبادی میں داخل نہ ہو سکیں۔ اس راستے کا اختتام ایک بل فائٹنگ ایرینا میں ہوتا ہے۔
نتیجہ بُل کی موت
شہر کی گلیوں سے دوڑتے ہوئے یہ بھینسے بل فائٹنگ ایرینا جا پہنجتے ہیں۔ اس اسٹیڈیم میں ایک بل فائٹر موجود ہوتا ہے اوراس لڑائی کا نتیجہ ان بھینسوں کی یقینی موت کی صورت میں نکلتا ہے۔