الیکشن 2018: نئے پاکستان کے سفر میں ایک کروڑ ملازمتیں اور 50 لاکھ سستے مکانات شامل

پاکستان تحریک انصاف کا ’نیا پاکستان کا سفر‘ ابھی جاری ہے، اس بات کا اندازہ جماعت کے اسی نام سے انتخابی منشور کے اعلان سے ہوتا ہے۔تحریک انصاف کے سنہ 2013 اور سنہ 2018 کے منشور کے جائزے سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عوامی ضروریات سے متعلق مشکل ترین اہداف مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ کیسے ’تبدیلی‘ کی داعی اس جماعت نے کیا کچھ خاموشی سے حذف بھی کر دیا ہے۔
پارٹی منشور میں تبدیلی کا عنصر لہٰذا کافی حاوی ہے۔
ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک پاکستان تحریک انصاف سب سے آخر میں اپنے انتخابی منشور کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ بظاہر عمران خان امیدواروں کو ٹکٹوں کی تقسیم سے فارغ ہو کر، جسے انھوں نے ایک وقت میں ’عذاب‘ بھی قرار دیا تھا اس اہم دستاویز پر توجہ دی ہے۔گذشتہ پانچ سالوں میں خیبر پختونخوا میں اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کے سامنے کے باوجود نئے منشور میں پی ٹی آئی نے خود اپنے لیے بظاہر زیادہ مشکل چیلنج مقرر کیے جن میں بیرونی قرضوں میں کمی، ایک کروڑ ملازمتوں کا پیدا کرنا اور 50 لاکھ سستے مکانات کی تعمیر شامل ہے۔اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں انتخابی منشور 2018 کی رونمائی کی تقریب سے خطاب میں عمران خان نے آغاز میں ہی خیبر پختوا حکومت کی دو تین بڑی کامیابیاں یاد دلا کر جارحانہ کھیل کا آغاز کیا اور مخالف صحافیوں کو تنقید کا موقع ہی نہیں دیا۔
گذشتہ پانچ سالوں میں خیبر پختونخوا میں اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کے سامنے کے باوجود نئے منشور میں پی ٹی آئی نے خود اپنے لیے بظاہر زیادہ مشکل چیلنج مقرر کیے
پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی طرز پر ’غیر سیاسی‘ پولیس کا ماڈل دیگر صوبوں میں بھی متعارف کروائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خیبرپختونخوا پولیس کو غیر سیاسی کرنے کی کوشش کی اور صوبے میں دہشت گردی میں واضح کمی آئی، جو بقول ان کے اس مثالی پولیس کی بدولت ممکن ہوسکا۔ تاہم انھوں نے دہشت گردی کے خاتمے میں فوج کے کردار کا ذکر نہیں کیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ آنے والی حکومت کو بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایسے میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ’خالہ جی کا گھر نہیں ہوگا۔‘ لیکن ان کا فارمولہ بھی آسان ہے یعنی 50 لاکھ مکانات کی تعمیر شروع کریں اس سے روزگار بھی پیدا ہوگا اور صعنتیں بھی چل پڑیں گی۔ اس کے لیے رقم کہاں سے آئے گی اس کی تاہم عمران خان نے وضاحت نہیں کی۔
پچھلےمنشور میں پی ٹی آئی نے پارٹی انتخابات سب سے بڑی مشکل قرار دی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ نچلی سطح سے چیئرمین کے عہدے تک جماعت کے اراکین پارٹی الیکنش میں منتخب ہوں گے۔ یہ ہدف پارٹی پانچ سالوں میں حاصل نہ کرسکی اور اس نئے منشور میں اس بات کا اس لیے اب کوئی ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا ہے۔ایک اور ذکر جو گذشتہ منشور میں تھا اور اس میں غائب ہے وہ تھا کہ ’تمام ریاستی عناصر کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے اور سویلین بالادستی ہوگی۔‘ اس مرتبہ ایسے کوئی الفاظ استعمال میں نہیں لائے گئے ہیں تاہم عمران خان نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہ وہ ریاستی اداروں کو مضبوط کریں گے اور بیوروکریسی سے سیاست کا خاتمہ کیا جائے گا۔
ماضی کے منشور میں پی ٹی آئی نے واضح الفاظ میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ دفاعی اخراجات کو متوازن بنائے گی اور اس پر پارلیمان میں بحث بھی ہوا کرے گی۔ اس مرتبہ یہ بھی منشور سے ندارد ہے۔میڈیا پالیسی میں وزارت اطلاعات کے مکمل خاتمے کی ماضی میں بات کی تھی جو اب نئے منشور میں نہیں ہے۔ صرف سرکاری اشتہارات کو میڈیا کو دبانے کے لیے استعمال نہ کرنے کا وعدہ ہے۔ یعنی اس سفید ہاتھی کو بھر بچا لیا گیا ہے۔ بی بی سی کے طرز پر پاکستانی ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان کو تاہم خودمختاری دینے کا وعدہ ضرور ہے۔ پمرا کو بھی آزاد کرنے کا اعلان ہے۔
دیگر جماعتوں کے طرح جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا کا اعلان بھی منشور میں شامل ہے
لیکن نئے منشور کی ایک بات جو اگر جماعت حکومت میں آنے کے بعد حاصل کرلیتی ہے تو پھر یہ مکمل داد کی مستحق ہوگی اور وہ ہے کہ میڈیا مالکان کو صحافیوں کو مناسب تنخواہیں دینے کے علاوہ ان کی انشورنس، خطرناک علاقوں میں فرائض کی محفوظ انجام دہی کے لیے تربیت شامل پابند بنایا جائے گا۔دیگر کئی جماعتوں کے طرح جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا کا اعلان بھی منشور میں شامل ہے۔عمران خان اگرچہ اسے تسلیم نہیں کریں گے لیکن 2013 کے منشور میں ملک میں بجلی کے سنگین بحران پر قابو پانے کے لیے اس وقت ہنگامی صورتحال نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جو اب نئے منشور میں شامل نہیں ہے۔ یہ مسلم لیگ (ن) کی بجلی کی قلت پر قدرے قابو پانے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔