(لا حا صل ) خاں صا حب مر ض سمجھ گے اب آ گے دیکھیں ،ضیغم سہیل وارثی

صر ف ، ایک نہیں ، سب چا ہتے ہیں ، کہ ، ہما ری قیا دت وہ کر ئے ، جس کی بات غر یب سے شروع ہو ،اور غریب پر ختم ہو ، خا ں صا حب کو کا میا بی ملی ،کچھ سو چتے تھے کہ خاں صا حب آ تے سا تھ سیاسی ایسی غلطیا ں کر یں گے جس سے لگے کہ جو شیلا انداز ہے ، مگر پہلے خطا ب میں ، عوام کی آ واز بنے ، اور لو گ کہہ اٹھے اس آواز کا انتظا ر تھا ، میر تقی میر نے کہا تھا کہ
دیر سے انتظا ر ہے اپنا ،
عام انتخا با ت کا سلسلہ مکمل ہو ا ، ایک پا رٹی کا میا ب ہو تی ہے ، پھر اس کی قیا دت اپنی کا میا بی کے بعد جو شیلے انداز میں عوام کے سا منے آ تی میڈ یا پر با ت چیت کر تے ہو ئے ، اس الیکشن میں بھی ، ایک سیاسی جما عت کا میا ب ہو ئی ، وہ جما عت تحر یک انصا ف ہے ، خاں صا حب کی کا فی سا لوں کی محنت کے بعد ان کو کا میا بی حاصل ہو ئی ، الیکشن کے دن کے بعد ، ہر طر ف سے انتظا ر تھا کہ خاں صا حب کب خطا ب کر یں ، اور اس کے بعد سیا سی ما حو ل کی سمجھ آ ئے ، یہ بھی کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ، جو بھی سیاسی جما عت کا قا ئد الیکشن میں کا میا بی کہ بعد جب میڈ یا سے با ت چیت کر تا تو اسی طر ح کے خیا لا ت کا اظہا ر کر تا ہے ،مگر خاں صا حب کی با قی عو ام کی طر ح مجھے جو با ت بہت اچھی لگی ، وہ یہ تھی کہ ، خاں صا حب نے کہا ، کہ ہم کے سا منے چین ہے ،وہاں کیسے تر قی ہو ئی ، وہاں کر پشن کیسے ختم ہو ئی ، وہ سب اقدا ما ت ہم کو کر نے ہو ں گے ، اور ہم اپنی ٹیم چین لے کر جا ئیں گے اور ان سے ہد ایت لیں گے ،کہ کن اقدا ما ت کی بنا ء پر ملک میں غر بت ختم ہو سکتی ، اور کر پشن کو کیسے کنٹر ول کر سکتے ہیں ، وہ سیا ست دان ہی کیا ، جو میڈ یا کے سا منے ایسے ایشو پر با ت نہ کر ئے جس کو عا م عوام پسند کر یں ، خاں صا حب نے پچھلے دور میں ایک صو بے میں حکو مت کی ، ان کی حکو مت یا ،خاں صا حب کے خیا لا ت سے وا ضع نظر آ تا رہا کہ خاں صا حب یو رپ اور تر قی یا فتہ ملک کی مثا ل کو دیکھتے اور چا ہتے کہ جو نظا م یو رپ میں ویسا قا نون ہما رے ہاں ، قا نون سب کے لیے برابر ہو نا چا ہیے ،یہی با ت ہما ری عوام بھی چا ہتی ہے کہ قا نون امیر غر یب سب کے لیے برا بر ہو نی چا ہیے ، خاں صا حب نے جو پہلا خطا ب کیا اس میں خاں صا حب کا بلکل سا دہ انداز عوا م کے دلو ں میں اور زیا دہ جگہ بنا گے ہیں ۔
سیا سی انداز تو سیا ست دان اپنا تے ہی ہیں ، اب دیکھتے ہیں کہ جو اس کی بار کا میا ب سیاسی جما عت اپنے کیے ہو ئے وعد ے اور اپنے اعلانا ت کو مکمل کر تی ہے یا صر ف ادھو ری با تیں ہی رہ جا ئیں گئیں ، خا ں صا حب کی حکو مت کو بھی وہی تما م چیلنجز کا سا منا کر نا پڑ ئے گا ، جو تمام سیا سی جما عتوں کو الیکشن کے با ت سا منا کر نا پڑ تا ہے ، پہلے تما م اہم اور ضر ورت کے مظا بق سیاسی جما عتوں سے اتحا د ، ان کی حما یت حا صل کر نا ، پھر جو نا راض جما عتیں ان کے دبا ئو کو کیسے ہنڈل کر نا ہے ،کیو نکہ ابھی سے کچھ جما عتیں آ پس میں اتحا د کر کے اعلا ن کر چکے ہیں کہ الیکشن میں دھا ند لی اور وہ اس الیکشن کو مستر د کر تے ہیں ، مو لا نا صا حب اور ان کے سا تھیوں کا رونا دھو نا بنتا تو نہیں تھا ، مگر سیاست میں وہ پا ئوں پیچھے نہیں کر نا چا ہتے ، ان سب کو سمجھ لینا چا ہیے کہ ان کی پر انی طر ز کی سیا ست کو عوام نے مستر د کر دیا ہے ، ،مشر ف کے دور کا اتحا د اب کی بار نہیں چلنا تھا ، مگر ایک پھر کو شش کی گئی، بہت پہلے لکھ چکا ہو ں ، کہ ملک کے اندر جب مذ ہبی جما عتیں اسلام کے نا م پر عوام کو کا ل دیتے تھے تو بہت ہجوم اکٹھا کر لیتے تھے ۔ اور ان کو ووٹ بھی جا تی تھی ، اب کے رزلٹ یہ دیکھ چکے ہیں ، لہذا ، ان کو سو چنا چا ہیے کہ عوام میں شعو ر آ چکا ہے ۔ اب پر انی طر ز کی سیا ست کی جگہ ختم ہو چکی ہے ، اب عوام اسی کی طر ف جا ئے گی ، جو عوام کی بھلا ئی چا ہے گا ،
ایک طبقے کا کہنا یہ ہے کہ ، خاں صا حب نے حکو مت بنا لی ، اس کے سا تھ اپو زیشن والے تھو ڑت سے مضبو ط ہو ئے تو خاںصا حب کو کھل کر مو قع نہیں ملے گا کہ تر قیا ت پر وجیکٹ ہو سکیں ، اور اسی جنگ میں وقت گز رتا جا ئے گا ،اور آ خر پر خاں صا حب با قی سیا سی قیا دت کی طر ح کہیں گے کہ ہم کو منا سب حا لات نہیں دیے گے ،یا کہا جا ئے گا کہ ہما ری ٹیم نا تجر بہ کا ر تھی ، کچھ غلطیا ں ہو ئی ہیں ، عوام دوبا رہ ہم کو چا نس دے ، یہ سیا سی طر ز کی با تیں ہیں ، مگر خاں صا حب اسی ملک میں کا فی سا لوں سے سیا ست کر رہے ہیں ، خاں صا حب بہت اچھے سے جا نتے ہیں کہ عوام سیا سی وعد وں سے بہت تنگ آ چکے ہیں ، اب عوام صر ف ایکشن دیکھنے کے انتظا ر میں ، عوام نے ووٹ کے ذریع خاں صا حب کو پیغام دیا ہے کہ ہم کو آپ پر بہت امید یں ہیں ، کیونکہ آ پ اس ملک میں وہ نظا لا نا چا ہیے ہیں جو تر قی یا فتہ ممالک میں ہے ، وہاں قا نو ں امیر غر یب سب کے لیے برابر ہے ، خاں صا حب نے جو کہا کہ ایسے ادارے بنا ئیں گے جو تما م منصب والوں پر نظر رکھیں کہ کہیں کو ئی کر پشن نہیں کر رہا ،اگر کو ئی ملو ث ہو ا تو اس کے سا تھ نر می نہیں بر تی جا ئے گی ، یہ تما م با تیں وہ ہیں جن سے عوام کو محسو س ہو ا کہ ہم ایسی قیا دت کے انتظا ر میں تھے ، صر ف ، ایک نہیں ، سب چا ہتے ہیں ، کہ ، ہما ری قیا دت وہ کر ئے ، جس کی بات غر یب سے شروع ہو ،اور غریب پر ختم ہو ، خا ں صا حب کو کا میا بی ملی ،کچھ سو چتے تھے کہ خاں صا حب آ تے سا تھ سیاسی ایسی غلطیا ں کر یں گے جس سے لگے کو جو شیلا انداز ہو ، مگر پہلے خطا ب میں ، عوام کی آ واز بنے ، اور لو گ کہہ اٹھے اس آواز کا انتظا ر تھا ، میر تقی میر نے کہا تھا کہ
دیر سے انتظا ر ہے اپنا ،