برقعہ اور نقاب کن یورپی ممالک میں ممنوع ہے؟

ڈنمارک میں یکم اگست سے چہرے کے مکمل نقاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دیگر یورپی ممالک پہلے ہی اسی طرح کے اقدامات اٹھا چکے ہیں۔ ایک نظر یورپ کے اُن ممالک پر جہاں برقعے اور نقاب کے استعمال پر پابندی ہے۔
فرانس، نقاب پر پابندی لگانے والا پہلا ملک
فرانس وہ پہلا یورپی ملک ہے جس نے عوامی مقامات پر خواتین کے برقعہ پہننے اور نقاب کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ پیرس حکومت نے یہ بین اپریل سن 2011 سے لگا رکھا ہے۔ اس پابندی سے پردہ کرنے والی قریب دو ہزار مسلم خواتین متاثر ہوئی تھیں۔
بیلجیم میں بھی پردہ ممنوع
فرانس کے نقاب اور برقعے کی ممانعت کے صرف تین ماہ بعد جولائی سن 2011 میں بیلجیم نے بھی پردے کے ذریعے چہرہ چھپانے پر پابندی لگا دی۔ بیلجیم کے قانون میں چہرہ چھپانے والی خواتین کو نقد جرمانے سمیت سات دن تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
آسٹریا میں نقاب پر پابندی کے قانون کی منظوری
خواتین کے نقاب پر پابندی کا قانون آسٹریا میں سن 2017 اکتوبر میں منظور کیا گیا۔ اس قانون کی رُو سے عوامی مقامات میں چہرے کو ٹھوڑی سے لے کر ماتھے کی بالائی سطح تک واضح طور پر نظر آنا چاہیے۔
ہالینڈ کی پارلیمان بھی میدان میں
ہالینڈ کی پارلیمنٹ نے برقعے اور نقاب پر پابندی سن 2016 میں عائد کی تھی۔ تاہم اس پابندی کا اطلاق تمام ملک میں نہیں بلکہ صرف سرکاری عمارات، پبلک ٹرانسپورٹ، اسکولوں اور ہسپتالوں میں ہو گا۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو چار سو یورو تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
پردے پر پابندی بلغاریہ میں بھی لیکن استثنا کے ساتھ
ہالینڈ کی طرح بلغاریہ نے بھی چہرہ چھپانے پر پابندی سن 2016 میں عائد کی تھی۔ خلاف ورزی کرنے والی خاتون کو ساڑھے سات سو یورو تک کا جرمانہ بھرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم عبادت گاہوں، کھیل کے مقامات اور دفاتر میں اس پابندی سے استثنا حاصل ہے۔
اور اب ڈنمارک بھی
ڈنمارک میں چہرہ چھپانے اور برقعے پر پابندی یکم اگست سن 2018 سے نافذالعمل ہو رہی ہے۔ رواں برس مئی میں ڈینش پارلیمان نے اس قانون کو اکثریت سے منظور کیا تھا۔ اس قانونی مسودے کی منظوری کے بعد ڈینش حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اس پابندی کا ہدف کوئی مذہب نہیں ہے۔