فرانس میں چائلڈ ریپ اور جنسی ہراسیت کے خلاف سخت قوانین منظور

فرانسیسی پارلیمان نے بچوں کے ساتھ سیکس اور خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت ضوابط پر مبنی کے ایک قانونی مسودہ منظور کر لیا ہے۔ اب پندرہ برس سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی عمل ریپ تصور کیا جائے گا۔فرانسیسی پارلیمان نے بچوں کے ساتھ جنسی عمل اور خواتین کو ہراساں کیے جانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہونے کے بعد ایک سخت قانون منظور کر لیا ہے۔ فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کی منظوری ایک پیغام ہے کہ اس یورپی ملک میں سماجی سطح پر ایک تبدیلی لائی جا رہی ہے۔
پیرس حکومت کے مطابق جو کوئی بھی بچوں کے ساتھ جنسی عمل یا خواتین کو ہراساں کرنے کا مرتکب ہو گا، اسے سخت سزائیں دی جا سکیں گی۔اس نئے قانون کے مطابق پندرہ برس سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ جنسی عمل جنسی زیادتی کے زمرے میں آئے گا۔ یہ قانون ایک ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے، جب فرانس میں دو ایسے افراد کے خلاف عدالتی کارروائی بھی کی گئی، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے گیارہ گیارہ سال کی دو لڑکیوں کے ساتھ جنسی عمل سر انجام دیا تھا۔
فرانس کے پرانے قوانین کے مطابق بھی پندرہ برس یا اس سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی عمل کو ایک جرم قرار دیا جا سکتا ہے تاہم استغاثہ کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ بالغ نے بچے کے ساتھ زبردستی کی تاکہ اسے ریپ کے زمرے میں لاتے ہوئے عدالتی کارروائی کی جا سکے۔گزشتہ برس نومبر میں ایک ایسے ہی مقدمے میں ایک تیس سالہ شخص کو باعزت بری کر دیا گیا تھا، جس نے گیارہ برس کی لڑکی کے ساتھ جنسی عمل کیا تھا۔ تب یہ بچی عدالت میں یہ ثابت نہیں کر سکی تھی کہ اس کے ساتھ زبردستی سیکس کیا گیا تھا۔گزشتہ برس فروری میں بھی فرانس میں ایک اٹھائیس سالہ مرد نے ایک گیارہ سالہ لڑکی کے ساتھ سیکس کیا تھا، جس پر عوام سطح پر ایک غم وغصہ دیکھا گیا تھا۔اس نئے قانون کے تحت ایسے افراد کو موقع پر ہی جرمانہ کیا جائے گا، جو عوامی مقامات یا پبلک ٹرانسپورٹ میں کسی خاتون کو ہراساں کرنے کے مرتکب پائے جائیں گے۔اس جرم کی پاداش میں کم از کم جرمانہ نوے یورو اور زیادہ سے زیادہ ساڑھے سات سو یورو رکھا گیا ہے۔ اس نئے قانون پر رواں برس ستمبر سے عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا