چوہدری نثار: اصول پرست یا مفاد پرست؟ آصف ملک

نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان سرد جنگ اسی دن شروع ہوگئی تھی جب عمران خان نے دھرنے کے دوران چوہدری نثار کو اپنی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی مگر ’مریم نواز کے نیچے کام نہیں کرسکتا’، شاید وہ بیان تھا جس نے 35 سال کی رفاقت کو توڑنے میں آخری وار کا کام کیا۔2013ء سے 2018ء کے درمیان 126 دن کا دھرنا ہوا، ماڈل ٹاؤن کا واقعہ پیش آیا، ڈان لیکس کا معاملہ اٹھا، حتیٰ کہ عین الیکشن 2018ء سے چند ماہ پہلے تک بارہا ایسے مواقع بھی آئے جب چوہدری صاحب کی طرف سے براہِ راست شریف برادران کے خلاف بیان بھی آئے، مگر ان کا نقصان اتنا نہیں تھا، تاہم ان سب باتوں کے باجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے چوہدری نثار کو آخری موقع اس وقت دیا جب الیکشن 2018ء کے لیے ٹکٹس کی تقسیم کا فیصلہ سامنے آیا۔ چوہدری نثار علی خان نے پارلیمانی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کو اپنی توہین قرار دیا جس میں کافی حد تک ان کا مطالبہ جائز بھی تھا کہ ’جب 34 سال تک ٹکٹ کی بھیک نہیں مانگی تو اب کیوں مانگوں‘؟
خیر ان سب اہم باتوں سے اہم یہ سوال ہے کہ 8 بار رکنِ قومی اسمبلی رہنے والے چوہدری نثار علی خان حالیہ انتخابات میں کیوں ہارے؟
اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن میری کوشش ہوگی کہ اہم ترین اسباب کو ہی زیرِ بحث لایا جائے مگر اس سے پہلے چوہدری نثار کا مختصر تعارف کروانا چاہوں گا۔

چوہدری نثار علی خان کون ہیں؟
چوہدری نثار علی خان 31 جولائی 1954ء کو راولپنڈی کے علاقے چکری وکیلاں میں پیدا ہوئے۔ ایچی سن اور آرمی برن ہال کالج سے تعلیم حاصل کی، وہ پرویز خٹک اور عمران خان کے کلاس فیلو رہ چکے ہیں۔
چوہدری نثار 1988ء سے مختلف عہدوں کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر بھی رہے۔ 1988ء میں وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر رہے، 1997ء سے 1999ء کے دوران وزیرِ پٹرولیم اور قدرتی وسائل اور وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ کا عہدہ سنبھالا۔ 29 مارچ 2008ء سے 13 مئی 2008ء کے درمیان یوسف رضا گیلانی کی کابینہ کے دوران وہ سینئر وزیر ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر برائے خوراک، زراعت اور مویشی/لائیو اسٹاک رہے اور وزیرِ مواصلات کی وزارت کا قلمدان بھی انہی کے سپرد تھا۔17 ستمبر 2008ء سے 7 جون 2013ء تک قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف رہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حالیہ حکومت میں جون 2013ء سے 28 جولائی 2017ء تک وزیرِ داخلہ رہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اس قدر اہم ترین وزیر تھے کہ ان کی مرضی کے بغیر میاں نواز شریف کوئی اہم فیصلہ نہیں لیتے تھے۔یہ بات بھی کسی سے چھپی نہیں کہ پرویز مشرف کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ بھی نواز شریف نے چوہدری نثار علی خان کے مشورے کے بعد ہی کیا تھا جس کے مستقبل میں کچھ اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) کا شکوہ ہے کہ 2013ء کے بعد بھی کئی ایسے اہم واقعات ہوئے جب وزیرِ داخلہ منظرِ عام پر کہیں نظر نہیں آئے اور یہی وجوہات آہستہ آہستہ چوہدری نثار کو پارٹی قیادت سے دور کرتی رہیں۔

چوہدری نثار کا انتخابی معرکہ
جب انہیں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ٹکٹ نہیں دیا گیا اور انہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں ’جیپ‘ کا نشان الاٹ کیا گیا تو ایک نئی تھیوری گردش کرنے لگی۔ مریم نواز نے جیپ کو خلائی مخلوق کے ساتھ نتھی کردیا اور کہا کہ جیپ کا ووٹ بنیادی طور پر خلائی مخلوق کو پڑے گا، یوں اس طرح کے بیانات نے معاملے کو حل کرنے کے بجائے مزید تلخ کردیا۔چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کے 2 حلقوں این اے 59 اور این اے 63 اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 12 سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اسے چوہدری صاحب کی بدقسمتی کہیں یا پھر خوش قسمتی کہ این اے 59 سے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے راجا قمر الاسلام کو ٹکٹ سے نوازے ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے ہوں گے کہ انہیں صاف پانی اسکینڈل میں نیب کے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا۔
یوں ان کے الیکشن پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا جس کا اظہار چوہدری صاحب نے خود بھی کیا مگر یہاں ستم ظریفی یہ ہوئی کہ کچھ عرصہ قبل ’بچوں کے نیچے سیاست‘ نہ کرنے کا کہنے والے چوہدری نثار علی خان کو راجا قمر الاسلام کے بچوں کے خلاف الیکشن لڑنا پڑگیا، جبکہ دوسری جانب تحریکِ انصاف کے غلام سرور خان بھی ان کے مقابلے پر اتر آئے۔ یہاں یاد رہے کہ راجا قمر الاسلام نے 2013ء الیکشن میں پورے پاکستان کے تمام صوبائی حلقوں میں سب سے زیادہ مارجن سے اپنے حریف کو ہرایا تھا۔حلقہ این اے 59 میں چوہدری نثار کا مقابلہ پاکستان تحریکِ انصاف کے غلام سرور خان سے تھا، یہ ٹیکسلا کا وہ حلقہ ہے جہاں زیادہ تر ووٹرز شہری علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ غلام سرور خان نے چوہدری نثار کو شکست سے دوچار کردیا مگر اسی حلقے سے چوہدری نثار کے مقابلے میں کھڑے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار قمر الاسلام کو بھی شکست ہوگئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ چوہدری نثار کو این اے 63 میں بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔راولپنڈی اور پاکستان کی سیاست کے اہم ترین سیاسی رہنما کو ایک نہیں بلکہ 2 نشستوں پر شکست کیوں ہوئی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے۔

چوہدری نثار کو شکست کیوں ہوئی؟
میری نظر میں اس کی 4 بنیادی وجوہات ہیں،
ووٹ کی تقسیم،
غلام سرور فیکٹر،
تبدیلی کی لہر اور
نئی حلقہ بندیاں۔
اگر ہم الیکشن 2013ء اور 2018ء کے نتائج کو ان پیمانوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کریں تو چوہدری نثار کی شکست کی وجوہات سمجھ آجائیں گی۔

ووٹ کی تقیسم
حلقہ این اے 59 سے تحریکِ انصاف کے غلام سرور نے 89 ہزار 55 ووٹ حاصل کیے جبکہ چوہدری نثار کو 66 ہزار 369 ووٹ ملے۔ اسی حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجا قمرالاسلام نے 21 ہزار 754 ووٹ حاصل کیے جبکہ تحریکِ لبیک پاکستان نے 14 ہزار 320 ووٹ حاصل کیے۔اگر چوہدری نثار، راجا قمرالاسلام اور تحریکِ لبیک کے ووٹوں کو جمع کیا جائے تو وہ غلام سرور خان کے ووٹوں سے زیادہ یعنی 1 لاکھ 2 ہزار 443 ووٹ بنتے ہیں۔ جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ تحریکِ لبیک بنیادی طور پر مذہبی ووٹر ہے جو ماضی کے انتخابات میں عام طور پر مسلم لیگ (ن) کو ہی ووٹ دیتا رہا ہے لہٰذا یہ نواز لیگ کا ٹوٹا ہوا ووٹ بینک ہے۔این اے 63 سے تحریکِ انصاف کے غلام سرور نے 1 لاکھ 986 ووٹ حاصل کیے جبکہ چوہدری نثار کو 65 ہزار 767 ووٹ ملے۔ اسی حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ممتاز خان نے 22 ہزار 966 ووٹ حاصل کیے جبکہ تحریکِ لبیک پاکستان نے 9 ہزار 744 ووٹ حاصل کیے۔ اگر چوہدری نثار، ممتاز خان اور تحریکِ لبیک کے ووٹس کو جمع کیا جائے تو غلام سرور خان کے ووٹس (یعنی 1 لاکھ 986 ووٹ) سے تقریباً 2500 ووٹ کم بنتے ہیں جو اتنا بڑا مارجن نہیں ہے۔یوں این اے 59 سے چوہدری نثار باآسانی جیت جاتے جبکہ این اے 63 سے اگر ہارتے بھی تو انتہائی کانٹے کا مقابلہ ہوتا۔ ابھی میں نے اس حلقے میں اس ناراض ووٹر کو شامل نہیں کیا جو مسلم لیگ (ن) اور چوہدری نثار کی لڑائی کی وجہ سے گھر سے نہیں نکلا اور اگر نکلا تو اس نے دیگر امیدواروں کو ووٹ دے دیا۔

غلام سرور خان فیکٹر
غلام سرور خان بھی 1985ء سے راولپنڈی کی سیاست کے اہم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 2002ء اور 2013ء کے الیکشن میں بھی چوہدری نثار کو شکست دی تھی۔ تحریکِ انصاف نے چوہدری نثار کے خلاف ایک حلقے میں غلام سرور خان جبکہ دوسرے حلقے میں اجمل صابر راجا کو ٹکٹ دینے کا عندیہ دیا تو غلام سرور خان نے تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کہا تھا کہ’اگر ٹکٹ دینا ہے تو دونوں حلقوں سے دیں ورنہ نہ دیں، میں آزاد حیثیت میں چوہدری نثار کا مقابلہ کروں گا اور چوہدری نثار کو ہرا دوں گا‘۔ان دونوں حلقوں میں غلام سرور خان کا اپنا کافی ووٹ ہے جس کی وجہ سے چوہدری نثار کے خلاف ہر دوسری پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں ہی امیدوار کھڑا کیا جائے۔پیپلزپارٹی سے تعلق ہونے کی وجہ سے اس پارٹی کا اکثر ووٹر اگر ووٹ ڈالتا ہے تو چوہدری سرور کو ہی ڈالتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں پیپلزپارٹی کے ووٹ کی وجہ سے بھی زیادہ نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی ان کا ووٹ تقسیم ہوا ہے۔

تبدیلی کی لہر
2013ء اور 2018ء کے انتخابات میں عمران خان کی کرشماتی شخصیت اور تبدیلی کا نعرہ وہ 2 فیکٹرز تھے جنہوں نے ہر حلقے میں بڑے بڑے برجوں کو زمین بوس کیا۔ چوہدری سرور کا اپنا ووٹ بینک بھی تھا اور ساتھ ہی عمران خان کے تبدیلی فیکٹر نے بھی اپنا کام دکھایا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ امیدواروں پر دباؤ بھی اسی تبدیلی کا ایک حصہ ہے جس کے نتیجے میں یہ سارا کام ہوا ہے۔

نئی حلقہ بندیاں
نئی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں حلقے کا بہت بڑا حصہ دیگر حلقوں کے ساتھ ملا دیا گیا جس کی وجہ سے چوہدری نثار علی خان کے پاور بیس کو کافی نقصان پہنچا۔ کلر سیداں کا علاقہ چوہدری نثار علی خان کے گڑھ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، چوہدری نثار کو چکری کے بعد یہیں سے ہی سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوتے تھے۔ اس علاقے میں چوہدری نثار کی رشتہ داریاں بھی ہیں اور وہ کافی اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں۔ چوہدری نثار نے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (پی او ایف) کی ایک تقریب میں بطور وزیر داخلہ مقامی لوگوں کو نوکریاں اور مراعات دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ذاتی رائے میں یہی وہ اعلان ہے جس کی وجہ سے چوہدری نثار کو اچھا ووٹ ملا اگر ان ووٹوں کو شمار نہ کیا جائے تو ووٹوں میں مزید کمی ہوجائے۔لیکن کچھ لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ اگر چوہدری نثار علی خان اتنے ہی کمزور تھے تو پھر وہ صوبائی نشست پر کیسے کامیاب ہوگئے؟تو اس سوال کا جواب سیدھا سا ہے کہ غلام سرور خان نے صوبائی نشست کے لیے بھی ٹکٹ اپلائی کیا تھا مگر تحریکِ انصاف نے ٹکٹ ایوارڈ کرنے سے معذرت کرلی جس کی وجہ خواتین کوٹہ ٹھہرا۔چوہدری نثار کو صوبائی حلقے پی پی 10 سے فتح ملی۔ صوبائی حلقہ پی پی 10 سے چوہدری نثار نے 53 ہزار 145 ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف کی نوید سلطانہ نے 22 ہزار 253 ووٹ حاصل کیے۔ یاد رہے کہ چوہدری نثار علی خان راولپنڈی ڈویژن سے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے واحد لیڈر ہے جو کامیاب ہوئے باقی تمام 14 نشستوں پر تحریکِ انصاف کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور یوں مسلم لیگ نواز کا صفایا ہونے سے بچ گیا۔

سیاست ممکنات کا نام ہے یہاں سب کچھ ممکن ہے مگر ایک بات ضرور ہے کہ چوہدری نثار کو مسلم لیگ (ن) جیسی پارٹی نہیں ملے گی اور نواز لیگ کو چوہدری نثار جیسا سیاست دان۔
چوہدری نثار علی خان اور مسلم لیگ (ن) دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں نشستوں سے ہارنے کے بعد چوہدری نثار کی سیاست ختم ہوگئی ہے مگر میری ناقص رائے میں ایسا نہیں کیونکہ چوہدری نثار حلقے میں مشہور ہیں اور اپنے لوگوں کے لیے اسٹینڈ بھی لیتے ہیں، جبکہ اس شکست کے باوجود بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے ہیں جس کا وہ بارہا اظہار بھی کرچکے ہیں۔ان کی سیاست ختم تو نہیں ہوئی ہاں مگر نقصان بہت پہنچا ہے اور اگر اب انہیں دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شامل کیا گیا تو وہ بات نہیں ہوگی جو پہلے تھی۔ اب ان کے لیے سیاست مشکل ہوگی کیونکہ کہا جائے گا کہ جب نواز شریف اور مریم نواز پر مشکل وقت تھا تب چوہدری نثار الیکشن میں کہیں نہیں تھے۔

چوہدری نثار مفاد پرست یا اصول پسند
چوہدری نثار کو مفاد پرست نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اگر انہیں مفاد عزیز ہوتا تو پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے اور جیت جاتے، لیکن انہیں اصول پسند بھی نہیں جاسکتا کیونکہ اگر وہ اصول پسند ہوتے تو پارٹی کو اس مشکل وقت میں نہ چھوڑتے جب شاید سب سے زیادہ ضرورت تھی۔سیاست میں لچک وہ واحد چیز ہے جو جمہوریت کے پہیے کو آگے لے کر چلتی ہے۔ ناراض ہوکر بیٹھنے سے حالات مزید کشیدگی کی جانب جاتے ہیں۔ جب اصول اور انا آمنے سامنے آجائے تو پھر جیت ہمیشہ انا کی ہوتی ہے کیونکہ جب ’میں‘ آجاتی ہے تو انسان اپنی ذات سے آگے نہیں دیکھ سکتا، شاید یہی چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ہوا ہے۔لہٰذا اوپر بیان کے گئے تمام تر حقائق، حالات اور وفاداری کے باوجود دل کی بات یہ ہے کہ چوہدری نثار علی خان کو کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے اپنے ہی سحر نے ہرایا ہے ورنہ وہ ہارنے والے نہیں تھے‘