ٹیکسی سیکٹر ہڑتال ۔احتجاج دھرنا،سید شیراز

کیا کھویا ، کیا پایا۔ اور کیا پانے کی امید ہے۔ماضی سے حال تک کے کچھ واقعات کی کہانی۔
قارئین اکرام ۔جو دوست بارسلونا ٹیکسی سیکٹر سے وابستہ ہیں انہیں اوبر۔ کابی فائی اور ریگولر ٹیکسی کے اس دیرینہ مسئلہ کی خاصی حد تک خبر ہو گی۔کچھ تفصیل ضروری ہے کہ 2012 کے اوائل میں وارد ہونے والی امریکن کمپنی اوبر کو پہلے دن سے ہی بارسلونا میں سخت مقابلہ کی فضاء دیکھنے کو ملی ۔شدید ہڑتالوں کے بعد فیصلے مقامی عدالتوں اور پھر یورپین عدالتوں سے ٹیکسی سیکٹر کے حق میں آئے اور اوبر کو پرانے طریقہ کار کے مطابق کام کی اجازت نا ملی۔اسی اثناء میں اومنی بس کے قوانین میں ترامیم کے باعث قانونی سقم کو دیکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے وابستہ پرانے اور گھاگ کھلاڑیوں نے ہزاروں کی تعداد میں لگژری گاڑیوں کے لائسنس اپلائی کیے جنہیں جنرالیتات اور منسٹری کی طرف سے ریجیکٹ کر دیا گیا۔ اور ان لوگوں نے اپنی درخواستیں عدالت میں جمع کروا دیں۔ عدالتوں میں وکلاء نے قانونی پیچیدگیوں کے باعث عدالتوں سے فیصلے اپنے حق میں کروانے شروع کر دیئے جسکے نتیجہ میں ان کمپنیز کو لائسنس جاری ہونا شروع ہوئے ۔اور ان نئ کمپنیز کے ساتھ کام کرنے کیلئے اوبر اپنی ایپ کے ساتھ پشت پر آن کھڑی ہوئی۔
ایسے میں ٹیکسی سیکٹر سے وابستہ تنظیمیں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں۔اور اس نا انصافی کیخلاف آواز بلند کی اور تمام تر توجہ ان قوانین پر مرکوز کی جو ریگولر ٹیکسی اور لگژری گاڑیوں کے بیچ توازن اور فرق کو برقرار رکھتا تھا۔ جسے Rott اور Lott کا نام دیا گیا تھا۔ آگے چل کر اسی قانون کی ایک شق1/30 کے اطلاق کا مطالبہ زور پکڑ گیا جسکے مطابق ہر 30 ریگولر ٹیکسی کے مقابلے میں ایک لگژری گاڑی کا لائسنس جاری ہونا تھا۔
بارسلونا سے شروع ہونے والی ہڑتالیں۔پارلیمنٹ، جنرالیتات ، اجنتامنتو، مئیر آفس۔سب دیلیگاسیوں ،آریا میتروپولیٹین سے ہوتی ہوئی دارالخلافہ میڈرڈ میں منسٹری اف ٹرانسپورٹ تک پہنچ گئیں۔راقم الحروف کو خود بھی ان میٹنگز میں جانے کا اتفاق ہوا اور بیوروکریسی کی ہیرا پھیریوں اور بال کو ایک کورٹ سے دوسرے کورٹ میں اچھالنے اور خود کو اس معاملے میں بے بس اور دوسرے ڈیپارٹمنٹ کو ذمہ دار ٹھہرانے کا عملی مظاہرہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
اس دوران بہت سے ذمہ داروں کو ذمہ اپنے سر سے دوسرے کے سر پر ڈالتے دیکھا۔
معاملہ کی سمت اس وقت درست جاتی دکھائی دی جب اگروپاسیوں ٹیکسی کمپاینز کے صدر سنیور پیدرو نے ایک عدالتی فیصلہ کی کاپی جنرالیتات کے ڈایریکٹر جنرل “پیرے پیدروسا” کو پیش کی جس میں سپین کی ایک میونسپیلیٹی کو یہ حق دیا گیا کہ مئیر پبلک ٹرانسپورٹ کی تعداد کا تعین اپنی ضرورت کے مطابق کرئے گا۔ اس دن پاک ٹیکسی کی طرف سے مجھے بھی اس میٹنگ میں جانے کا اتفاق ہوا گو کہ آلیتے ٹیکسی اور موراکی نژاد تنظیم نے اس دن میٹنگ شروع ہوتے ہی بائیکاٹ کر دیا لیکن اگروپاسیوں اور پاک ٹیکسی نے میٹنگ میں رہنا مناسب سمجھا۔ اس دن میٹنگ روم سے نکلتے ہوئے ڈاریکٹر پیدروسا نے عقبی دروازے سے نکلنے کی آفر کی تاکہ آلیتے والوں کے بایئکاٹ کے باوجود میٹنگ جاری رکھنے پر کوئی ناخوشگوار واقع پیش نا آئے لیکن ہم نے اسی دروازے سے جانا مناسب سمجھا جس سے ہم داخل ہوئے اور پہلی دفعہ لفظ “غدار” سننے کو ملا جسکی شدت اور رخ میری طرف بطور پاکستانی کم اور اپنے سپینش ہم نسل اگروپاسیون کے پیدرو اور لوئس کی جانب زیادہ تھا۔ لیکن بوڑھے پیدرو کی دور اندیشی کام آئی اور اگلی ple de council کے اجلاس میں پھر تمام تنظیموں کو بلایا گیا اور غدار کہنے والے بھی وہیں موجود تھے۔ اس اجلاس میں پاک ٹیکسی کی طرف سے صدر محمد اقبال اور مجھے جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک اہم پیش رفت ہوئی وی ٹی سی لایسنس ہولڈر کے کام کے طریقہ کار کو کنٹرول کرنے کیلیئے ایک ویب کنٹرول پیج کے اجراء پر اتفاق کیا گیا۔ پولیس کو جدید TAB اور APP کے زریعے گاڑیوں کی سروس اور کلائنٹ کے ڈیٹا تک ایکسیس دینے کی بات ہوئی اور چور بازاری کرنے والی گاڑیوں کے لیے بھاری جرمانوں کا اعلان کیا گیا جن کی رقم چھ ہزار یورو کے جرمانے تک کی تھی۔ اور ٹھیک ایک ہفتہ بعد ایک گاڑی کو نا صرف یہ جرمانہ ہوا وہ گاڑی بند بھی ہوئی اور رقم کی باقاعدہ آدائیگی کے بعد گاڑی واپس کی گئ۔
یہ سیکٹر کی ایک بڑی کامیابی تھی کہ وہ کابی فائی اور اوبر کے ورکنگ سٹائل کو روکنے میں کامیاب ہو گئے لیکن 1/30 کے قانون پر جنرالیتات نے ہاتھ کھڑے کر دیئے اور معاملہ کو وفاقی حکومت اور منسٹری کی طرف موڑ دیا۔
ایسے میں آلیتے ٹیکسی جو اپنی سٹریٹ پاور میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے اس نے دیگر تنظیموں کے ہمراہ میڈرڈ میں صدائے احتجاج بلند کرنے کی ٹھانی اور یوں بارسلونا سے ایک بہت بڑا قافلہ میڈرڈ روانہ ہوا جس میں 50 کے قریب پاکستانی گاڑیاں اور 200 سے زائد پاکستانیوں کے علاوہ ہزاروں لوگوں نے ملک بھر سے شرکت کی اور دونوں بڑے شہر بارسلونا اور میڈرڈ نا صرف جام رہے بلکہ اونو ۔ترینتا کے نعروں سے گونجتے رہے۔ پارلیمنٹ میں ہلچل ہوئی اور اس معاملے پر ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں بحث چل نکلی ۔پاکستانیوں نے ہراآول دستہ کا کام کیا اور اگلے دن ملک کے بڑے نیوز پیپر” ال پائس” میں پاکستانی احتجاجیوں کی تصاویر شائع کی گئیں۔اور ملکی سطح پر ہماری موجودگی اور کردار کو نوٹس کیا جانے لگا۔
ہڑتال کے مرکزی کرداروں کو پارلیمنٹ میں طلب کر کے مذکرات کے بعد اس مسئلہ کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئ۔ اس ہڑتال کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ 1/30 کا قانون جسے ختم اور ناپید سمجھ لیا گیا تھا۔ اب وہ مرکز گفتگو بن گیا تھا۔ مجھے اچھی طرح سے بارسلونا کی ایک زور آور تنظیم کا یاد ہے جس کے ہیڈ نے مجھے بذات خود کہا تھا کہ یہ قانون چونکہ ختم ہو چکا ہے لہذا اب بات کام کے طریقہ کار پر کی جائے ناکہ ایک ناپید قانون پر۔ وہ قانون دوبارہ زندہ ہو کر تحریک کا نعرہ بن چکا تھا۔ اور میں بوڑھے پیدرو کی زہانت اور دور اندیشی کا مذید قائل ہو گیا تھا۔
اس ہڑتال کے بعد میڈرڈ میں ایک آل ٹیکسی ایسوسی ایشن کی نیشنل کانفرنس ہوئی جس میں پاک ٹیکسی کی طرف سے اتحادی جماعت کے رکن لوئس لوپیز نے شرکت کی اس کانفرس میں مسئلہ کے حل تک احتجاج ہڑتال اور اور جدوجہد جاری رکھنے کا اعلامیہ جاری ہوا۔ اور کسی بھی موقع پر بیک وقت نیشنل ہڑتال کی تجاویز اور غیر معینہ مدت کی ہڑتالوں پر بھی غور کیا گیا۔ اس بڑے فورم پر آلیتے ٹیکسی کو ملک بھر سے آنے والی تنظیموں کے سرکردہ ممبران سے ملنے کا موقع ملا ۔شہرت کی بلندیوں کو چھوتے آلیتے ٹیکسی کے” تیتو الواریز” مرکز نگاہ رہے جسکا فائدہ یہ ہوا کے چند ہفتوں بعد آلیتے بارسلونا سے آلیتے باداخوز اور آلیتے پایس باسکو وجود میں آ گئیں۔ تنظیم مذید فعال ہو گئ اور سڑیٹ پاور بارسلونا سے نکل کر ملک کے طول و عرض میں زور پکڑنا شروع ہو گئ اور آلیتے کے تیتو الواریز کے بڑے شہروں کے دورے سیکٹر کو گراونڈ لیول پر مظبوط کرتے چلے گئے۔اسی اثناء میں منسٹری کی طرف سے خاموشی پر ایک اور احتجاج کی کال دی گئ یہ احتجاج بھی میڈرڈ میں ہونا تھا۔اب کی مرتبہ آلیتے نے بارسلونا رہنا مناسب سمجھا اور اگروپاسیوں ٹیکسی کمپاینز نے میڈرڈ جانے کا ارادہ کیا۔اگرپاسیوں ٹیکسی کمپایئنز کے سٹریٹ پاور کم تھی لیکن موراکی ۔لاطین اور سب سے بڑھ کر پاکستانی تنظیم پاک ٹیکسی اور دیگر گروپس کے سبھی پاکستانیوں نے ساتھ دیا۔ اور بارسلونا سے 4 بسیس میڈرڈ کے لیے روانہ ہوئیں ۔بلاشبہ پاکستانی بس کھچاکھچ بھری تھی۔ پاکستانی دوستوں نے بھرپور موٹیویشن دلای تھی ۔ یہ ہڑتال بھی نمبرز کی حد تک کامیاب رہی لیکن بیوراکسی اور سیاستدانوں نے روایتی لفاظی سے پیٹ بھر دیا دوسری جانب آلیتے ٹیکسی نے بارسلونا شہر کو جام رکھا۔ لیکن میڈرڈ منسڑی ۔پارلیمنٹ اور نیشنل اور انٹر نیشنل میڈیا میں اونو ترینتا کا نعرہ اور قانون زبان زد عام ہو گیا۔ ایسے میں مئیرادا کولاوو بھی تمام معاملات کو بغور دیکھ رہی تھیں۔ اور بار بار فیڈرل گورنمنٹ اور دیگر اداروں کی جانب سے مئیر آفس کی جانب رخ موڑے جانے پر اب کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا ہی مناسب سمجھ رہیں تھیں۔ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والا معاملہ تھا۔ ایسے میں پودیموس اور اسکیرا ریپبلیکا کی حمایت حاصل تھی لیکن کاتالونیا کی آزادی کی تحریک شروع ہو گئ۔ اور گورنر راج لگنے کے بعد معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔اس دوران سیزن ختم ہوتا گیا۔ اور تمام تنظیمیں بھی اونٹ کے کروٹ لینے کا انتظار کرنے لگیں۔ آخر کار الیکشن کے بعد معاملات جب نارمل ہوئے تو پھر انہی مسائل کو وہی سے شروع کیا گیا۔ اواز بلند کرنے کے لیے احتجاج ضروری تھا۔ ایسے میں ایک احتجاج سب دیلگاسیوں کے آفس کے باہر کیا گیا۔ مئیر کے ساتھ میٹنگز ہوئیں اور مئیر ادا کولاو نے معاملہ کو حل کرانے کا یقین دلایا اور دیگر مئیرز کے ساتھ میٹنگز کرنے کے بعد لایئسنسیا اربانا کی تجویز دی تاکہ جنرالیتات اور منسٹری سے ایشو شدہ لائسنس کو بارسلونا کی حد تک مئیر خود کنٹرول کرئے اور ایک ایسا لائسنس ایشو کرئے جو وی ٹی سی کی مقررہ تعداد کو بارسلونا میں ایک حد میں رکھ سکے اور یہ حد 1/30 مقرر کی گئ۔ لیکن اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا کہ نیشنل سطح پر 1/30 کا قانون پاس ہو رہا تھا ایسا صرف مقامی سطح پر تھا۔ اور باقی مئیرز کو بھی اگے چل کر یہی ماڈل اپنانا تھا۔ اس ضمن میں مئیر نے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت کی اور 26 جون کو یہ بل آریا کے اجلاس میں پیش ہونا تھا اس سے قبل عبوری بات چیت میں سیودادانس پارٹی اور PP نے اس کی مخالفت کی تھی۔آریا کے سالانہ اجلاس میں جہاں دوسرے بل پیش ہونا تھے وہاں لائیسن اربانا پر بھی بات چیت ہونا تھی اس ضمن میں اجلاس سے پہلے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے ٹیکسی سیکٹر کی تنظیموں نے مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی تاکہ 26 جون کو ہونے والے اجلاس میں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جاسکیں۔پاک ٹیکسی سے وابستہ اور فاونڈر شہزاد اکبر نے اسکیرا ریپبلیکا سے میٹنگ کا انتظام کیا جو پہلے سے ہی سیکٹر کے حق میں تھی لیکن انہوں نے مذید اطمینان دلوایا۔ سیاسی جماعت سیودادانس نے باوجود اسکے کہ اگروپاسیوں ٹیکسی کمپان نے ملنے کی خواہش پر دو مرتبہ ٹائم مانگا لیکن ٹال مٹول سے کام لیا ۔ ایسے میں سیودادانس سے منسلک سیاسی رہنماء طاہر رفیع نے انچارج پبلک ٹرانسپورٹ سے ملاقات کا وقت لیا اور ATC کے سیکرٹری لوئس لوپیز ۔طاہر رفیع ۔عاصم گوندل اور اس ناچیز نے 2 گھنٹے پر مشتمل طویل مذکرات کیے ۔جو بلاشبہ لویس لوپیز کی معاملہ پر گرفت اور قانونی پیچیدگیوں کی جانکاری کی وجہ سے ممکن ہوئے۔ جس میں لوئس نے یہی مطالبہ کیا کہ اگر آپ ہمارے حق میں ووٹ نہیں دے سکتے تو مخالفت میں بھی ووٹ نا دیں۔
چھبیس جون کو اس سلسلہ میں ایک اہم اجلاس آریا آفس بارسلونا میں ہوا جس میں کاتالونیا کے مئیرز اور سیاسی پارٹیز کے نمایندے شامل ہوئے ۔ابزرور روم میں دیگر تنظیموں کے نمایئندگان کے علاوہ پاک ٹیکسی سے سلمان رانجھا ، اقبال کھوکھر اور ناچیز کو شرکت کا موقع ملا۔ اور پھر شق نمبر 29 پر لایسنسیا اربانا پر ووٹنگ ہوئی جسے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا اور سیودادانس نے مخالفت کے بجائے ووٹ نا دینا مناسب سمجھا۔
اجلاس کے باقی نقاط ہمارے لیے غیر اہم ہو چکے تھے۔باہر ٹیکسی ڈرائیورز کا ایک جم غفیر انتظار کر رہا تھا۔ فیصلہ حق میں آ جانے کے بعد خوشی کے نعرے لگائے جا رہے جہاں سپینش لوگ شمپائن کی جھاگ سے اپنی خوشی منا رہے تھے وہاں پاکستانی روایتی انداذ میں ایک دوسرے کو مبارکباد اور مٹھائی کھانے اور کھلانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اور پھر ایئرپورٹ پر سب ایک دوسرے کو مٹھائیاں بانٹتے نظر آئے۔
دوسری جانب وی ٹی سی مالکان سراپا احتجاج نظر آئے ۔اخبارات میںLEY COLOAU کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ فومینتو جو کل تک مئیر پر ذمہ داری ڈال رہی تھی وہ اور ( CNMC) (کامیسیون ناسیونال دل مرکادو دی کموپےتنسیا) فیصلہ کیخلاف نظر آ رہے تھے۔ٹیکسی ڈرائیورز خوش تھے۔ دیگر شہروں کے ٹیکسی ڈرایئورز اپنے مئیرز کا منہ دیھ رہے تھے کے دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کیخلاف اپیل دائر کر دی گئ۔ابھی عشق کے امتحان باقی دے۔ اور پاکستانیوں کو ڈی چوک کی تاریخ دھرانا تھی
ٹیکسی سیکٹر کو ملٹی نیشنل کمپنیز پر تحفظات تو تھے ہی لیکن غم وغصہ کی لہر اس وقت دوڑ گئ جب منسٹری دی فومینتو اور CNMC کا ڈیپارٹمنٹ خود مئیر کے بنائے گئے قانون کے خلاف ہو گیا۔ جلتی پر تیل کا کام PP اور سیودادانس کے سیاسی لیڈر ڈال رہے تھے۔مذید ستم یہ کہ عدالت میں اس قانون کو چیلنج کر دیا گیا اور کمال پھرتی کا مظاہرہ کیا گیا اور نا صرف فوری تاریخ رکھ دی گئ بلکہ جنرالیتات میں مذید 2000 اپلیکیشن کی اپروول کی درخواست کر دی گئ اور نا صرف یہ بلکہ اپروول سے قبل ہی KIA اور SKODA کمپنیز کی تیار شدہ گاڑیاں بارسلونا پورٹ پر منگوا لی گئیں۔ جبکہ 398 لگژری گاڑیوں کو 1/30 کے قانون کے مطابق اجازت تھی اور شہر میں 1750 گاڑیاں پہلے سے موجود تھیں ایسے میں سیکٹر کی تنظیموں کے لیے خطرہ کی گھنٹی بج چکی تھی ، آلیتے کے آفس میں ایک ہنگامی میٹنگ کال کی گئ جس میں تمام تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی اور صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے بعد عدالتی فیصلہ سے قبل 24 اور 25 جولائ کو 48 گھنٹے کی ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا گیا تاکہ عدالت معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کوئی ایسا فیصلہ نہ دے جو 10 ہزار سے زائد ٹیکسی ڈرائیورز اور ان کی فیملیز کی زندگی کو اجیرن کر دے۔ پریس ریلیز اور سوشل میڈیا کے زریعے تمام سیکٹر کو اطلاع دی گئ۔لوگ جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے سکھ کا سانس لیا تھا ایک دفعہ پھر بے یقینی کی کیفیت سے دوچار تھے۔ خود پاکستانیوں کی 12 ارب روپے کی رقم اس سیکٹر میں لگ چکی تھی اور 1600 پاکستانی ڈرائیورز اور انکی فیمیلیز کا روزگار اس سیکٹر سے وابستہ تھا۔ تمام تنظیموں کے اراکین اپنی اپنی قومیت کےدوستوں کو حالات سے اگاہ کر رہے تھے۔ پاکستانیوں کے فعال گروپ۔فاسٹ ۔پاک گوندل۔پاک بی سی این۔ فرینڈز ٹیکسی۔پی کے پلیئرز۔یونائیٹیڈ گروپ اوردیگر بے شمار گروپس کے فعال اراکین پاک ٹیکسی کے پلیٹ فارم سےاحتجاج میں شرکت کی تیاریاں کر رھے تھے ۔پاک ٹیکسی کے جنرل سیکرٹری سید جنید اپنے جذباتی اور جارحانہ انداز کی وجہ سے اگر ٹیکسی سیکٹر کی آنکھ کا تارا ہیں تو دوسری جانب اسی جارحیت کی وجہ سے اوبر اور کابی فائی کے ڈرائیورز کی آنکھ میں کھٹکتے بھی ہیں۔ایمپار گروپس کو وہ اور شمشیر سرلہ صاحب ہینڈل کر رہے تھے۔ دوسری جانب شہباز بھائی۔ تجاوز وڑائچ۔محمد اقبال۔پار گروپس کو چارج کر رہے تھے۔ اور پھر 24 جولائی کو پارک سیوتادیلا سے سب دیلیگاسیوں تک خوب احتجاج ہوا ۔ائیرپورٹ۔ ریلوے سٹیشن ۔بس سٹیشن اور شہر بھر میں ٹیکسی کی کامیاب ہڑتال ہوئی۔ مذکرات اور ہڑتال دونوں جاری تھے 25 جولائی کو سست روی سے رنگ روڈ کو ڈسٹرب کیا گیا اور اس سے قبل آپریشن کاراکول کی یاد کو تازہ کیا گیا۔ دوستوں کو جرمانے ہوئے لیکن عزم و حوصلہ میں کمی نا آئی۔48 گھنٹے گزر گئے جمعہ کے روز فیصلہ آنا تھا لیکن یہ فیصلہ جمعہ کے روز نواز گورنمنٹ کیخلاف آنے کے بجائے سیکٹر کیخلاف ہو گیا۔ عدالت نے مختصر فیصلہ میں مئیر کے قانون کو سسپینڈ کر کے سپریم کورٹ کے فیصلہ سے مشروط کر دیا۔اب جنرالیتات کو اپروول کے لیے جمع شدہ درخواستوں پر عمل کرنا تھا۔ دو ہزار گاڑی سڑک پر آنا سیکٹر کی موت ثابت ہونا تھا۔
دن 11:30 بجے کے قریب فیصلہ آیا اور 12 بجے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ مئیر اس معاملہ میں سیکٹر کا ساتھ دے رہی تھی تو ہڑتال کا رخ فیڈرل گورنمنٹ کی بلڈنگ کی طرف موڑا گیا۔ یہ ایک ایمرجنسی ہڑتال تھی جو بغیر کسی پلاننگ کے تحت اور لمحہ بہ لمحہ حالات کے رحم وکرم پر اپنے فیصلے خود کر رہی تھی۔بہت سے لوگ ہڑتال سے بے خبر جمعہ کی نماز پڑھ کر نکلے اور بہت سے لوگ پاکستان میں انتخابات میں پی ٹی ائی کی جیت می خوشی منانے مونجیک پر اکھٹے ہو رہے تھے۔ دوستوں کی ایک کثیر تعداد مونجیک۔ دوسری جمعہ کی وجہ سے مساجد اور تیسری ہڑتال میں شہر کی مرکزی شاہراہ گران ویا پر تھی ۔شرکاء نے سڑک بلاک کرنے کا اعلان کیا اور ایک گھنٹے میں 4 کلومیٹر تک کا ایریا 1700 گاڑیوں کی مدد سے بلاک کیا جا چکا تھا۔جب ہم مونجیک سے ہڑتال کے مرکز پر پہنچے تو ہڑتال دھرنے کے شکل اختیار کر گئ تھی اور کائیے بروک اور گران ویا پر عارضی خیمے لگائے جا رہے تھے۔ بارسلونا کی تاریخ میں یہ پہلی ہڑتال تھی جو یہ صورت اختیار کرنے جارہی تھی۔ ائیرپورٹ کے نزدیک ٹائر جلانے کی وجہ سے ائیر ٹریفک متاثر ہو رہی تھی۔ پولیس کی گاڑیاں چاروں طرف سے گھیر رہی تھیں۔اور فضا میں ہیلی کاپٹر سے نگرانی معاملہ کو مذید سنگین بنا رہی تھی۔ یہ ہڑتال بغیر کسی اجازت کے تھی اور افواہیں گردش کر رہیں تھیں کہ ہڑتالیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ پولیس مئیر کے حکم کا انتظار کر رہی تھی۔لیکن جہا ندیدہ اور سیاسی طور پر میچور مئیر آنے والے الیکشن میں کیے کرائے پر پانی نہیں پھیرنا چاہتی تھی۔ پولیس کو پر سکون رہنے کا کہا گیا۔ اور تمام تنظیموں کے نمایئندگان کو مذاکرات کیلیے طلب کر لیا گیا۔
جتنی دیر نمائندگان مذاکرات میں مصروف رہے باہر عوام کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ میڈیا پر ہڑتال کی ہیڈ لاینز چل رہی تھیں۔ شام 7 بجے اسمبلی ہونا تھی جو غالبا آٹھ ساڑھے آٹھ کے قریب ہوئی مئیر نے بھر پور ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔معاملات کو ڈائیلاگ کے زریعے حل کرنے کی بات کی گئ لیکن پبلک نے کسی بھی زبانی وعدے کو مسترد کرتے ہوئے ۔نی اون پاسو اتراس۔ (ایک قدم بھی پیچھے نا ہٹنے) کا نعرہ لگایا۔ رات وہیں گزارنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ چہ مگوئیاں زور پکڑ گیں تھیں کہ دھرنا لمبا ہو گا اور بستر تکیہ کا انتظام کر لیا جائے۔ ہفتہ کو بارسلونا سے سیکٹر کے نمایئندوں کو مذاکرات کے لیے میڈرڈ طلب کیا گیا۔ ATC سے لوئس لوپیز اور ELITE سے تیتو الواریز میڈرڈ روانہ ہو گئے۔ہفتہ کی شام 7:30 بجے اسمبلی کال کی گئ ۔اس وقت تک دھرنے میں سبھی قومیتوں کے لوگ اپنی اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے۔ ہارون کیانی نے راجہ ناصر کی طرف سے دیا جانے والا 60 فٹ لمبا قالین پاسیج دی گراسیا کی سروس روڈ پر بچھا دیا تھا۔ کچھ دوستوں نے پہلی دوہزار پانی کی بوتلوں کی کھیپ دھرنا کیمپ میں پہنچا دی تھی۔ ڈی چوک پر میدان سج چکا تھا۔
دوپہر کے وقت بریانی کی دیگیں دھرنا شرکاء کے لیے پہنچ چکی تھیں۔ سب کام اللہ کی مدد سے ایک طے شدہ پروگرام کے تحت ہوتے نظر آ رہے تھے۔بہت سے دوست ان انتظامات سے بے خبر تھے۔ لیکن میں اپنے بھائیوں ضیغم۔ سلمان۔عاصم۔اقبال۔شمشیر۔یاسر ۔تجاوز۔رزاق۔زوالفقار۔ابرار اور بہت سے دوسرے دوستوں کو ا نتظامات کے لیے فکر مند دیکھ کر مطمئن ہو گیا تھا۔مجھے ان دوستوں کی انتظامی صلاحیتوں پر بھر پور یقین تھا۔ اور اسی یقین نے آگے چل کر ملکی اخبارات میں شہہ سرخیوں میں جگہ لینی تھی۔ سوشل میڈیا اور TV کے زریعے بات ہر طرف پھیل گئ تھی لوکل پاکستانی کمیونٹی بھی بڑی سنجیدگی سے سارے معاملہ کو دیکھ رہی تھی ۔دوسری جانب پاکستانی میڈیا اور سفارتخانے کی دلچسپی بھی اس معاملہ میں بڑھ گئ تھی۔
شام ساڑھے سات بجے اسمبلی میں نمایئندگان پہنچ گئے تھے۔ اور تمام شرکاء کی نظریں ان پر گڑی تھیں۔تیتو نے مختصر خطاب میں یہی بتایا کہ منسڑی اس صورتحال سے پریشان ہے اور کوئی مثبت حل پیش کرئے گی جو سیکٹر کا قابل قبول ہو۔اور تمام شرائط مانے گی۔ کچھ ایسا ہی خطاب پیدرو نے بھی کیا لیکن جانے کیوں انکے چہرے انکے لہجہ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ پیدرو نے دھرنہ ختم کرنے کی بات کی اور کہا کہ اگست کی چھٹیوں کی وجہ سے فیالحال قانون کا تحریری شکل میں ملنا ممکن نہیں اور ستمبر کے دوسرے ہفتہ تک ا نتظار کرنا ہو گا۔ ہر طرف سے ناں ناں کی آوازئیں بلند ہوئیں۔ اور نی ان پاسو اتراس کا نعرہ بلند ہوا۔ باوجود کہ تنظیمیں دھرنا ختم کرنا چاہتیں تھیں لوگوں کے انکار پر معاملات کو بغیر کسی ٹھوس کاغذی کاروائی کے مسترد کر دیا گیا۔ میڈرڈ میں وہاں کے ٹیکسی ڈرئیوار بھی جزوی ہڑتال پر تھے لیکن اس جوش اور ولولہ کو دیکھتے ہوئے میڈرڈ کی شاہراہوں پر بھی گاڑیاں کھڑی کر دی گئیں۔تیتو نے نیشنل کانفرنس میں بننے والے اتحادیوں سے رابطہ کیا اسکے دورے اب کارآمد ثابت ہونا تھے۔ نتیجہ یہ کہ میڈرڈ ۔ زاراگوسا۔ بل باو۔ والینسیا۔ آلی کانتے۔سی وی یا۔سبادیل ۔تراسا اور دیگر بڑے شہروں میں اظہار یکجہتی کے لیے ٹیکسی ڈرائیورز نے ہڑتال کر دی۔معاملہ یہاں تک نہیں ۔پیرس میں ایک دن اور لندن میں ہسپانوی سفارتخانہ کے سامنے لندن کیب نے احتجاج ریکارڈ کروایا۔پرتگال سے اظہار یکجہتی کے لیے ٹییکسیاں میڈرڈ پہنچ گئیں۔صورتحال وفاقی حکومت کے حق میں بہتر نہیں تھی۔ اتوار کو چھٹی تھی اور سوموار کو فومینتو نے دوبارہ مذاکرات کی دعوت دے دی۔دوسری جانب اتوار کو پودیموس پارٹی کے منسٹر رافا مائیورال جو کیبنٹ میں سیکٹر کے سب بڑے حامی ہیں نے بارسلونا دھرنے کا دورہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ہفتہ کی شب ہمیں پھر دھرنا میں گزارنی تھی۔ کھانا پینا اور پانی کی تقسیم اسی طرح جاری تھی۔پاکستانی میڈیا 92۔سما۔دنیا نیوز۔ڈیلی نیوز۔ نیوز ون۔جیو ۔ہم۔ اور دیگر ویب چینلز کے نمایئندگان نے دھرنے کا رخ کیا۔ اور پاکستانی چینلز پر یہ خبریں چلنا شروع ہوئیں۔کچھ مقامی سپینش لوگوں کے انٹرویو لیے گئے تو مقامی سپینش میڈیا اور لوگوں کی توجہ پاکستانیوں کی طرف ہو گئ۔اور ہمارے اس کردار کو سراہا جانا شروع ہوا۔ سخت گرمی میں بلاتفریق پانی اور کھانے کی مفت تقسیم نے مقامی آبادی کے دل موہ لیے تھے۔اور وہی لوگ جو چند سالوں پہلے ہم پر تنقید کرتے تھے اب اپنی ویب سایٹس اور اخبارات میں ہماری تعریفیں کر رہے تھے۔
ہم بطور ٹیکسی ڈرائیورز منفی صورتحال کا سامنا کر رہے تھے لیکن بحثیت پاکستانی ہم اس دھرنے سے سب مثبت حاصل کر رہے تھے۔ مقامی بزنس کمیونٹی ۔سیاسی اور سوشل ایکٹیوسٹ کی آمد نے کمیونٹی کے اتحاد کو مذید اجاگر کیا تھا ۔ مذید اتوار والے دن ہمیں شام تک رافا مائیورال کا انتظار کرنا تھا۔ایسے میں صوفی گائیک قدیر خان صاحب نے اتوار کو محفل کو گرما دیا۔ دل دل پاکستان سے لیکر صوفی کلام اور بھنگڑا نے احتجاجی شرکاء کو محظوظ اور دھرنے کے مرکز سے جوڑے رکھنے میں مثبت کردار ادا کیا۔ کمیونٹی کے سب مقامی آبادی کے کیمروں میں ریکارڈ ہو رہے تھے۔ نماز ۔آرام۔ طعام۔قیام ۔تاش لڈو اور سیاسی بحث و مباحثہ سب تاریخ کا حصہ بن رہے تھے۔ دھرنا حکومتی اداروں کے لیے اب سر درد اور ہمارے لیے فیسٹیول کی شکل اختیار کیے تھا۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود سب اپنے اولین مقصد سے آگاہ تھے۔
اتوار کی شب رافا مائیورال کی دھوں دار تقریر میں۔منسڑی اور CNMCکو حالات کا زمہ دار ٹھہرایا گیا۔اور DECRETO LEY کے لینے تک دھرنا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔کراوڈ فلی چارج تھا اور نی ان پاسو اتراس کا نعرہ فضاوں میں گونجتا رہا۔ تقریر ختم ہوتے ہی لوگ سینکٹروں کی تعداد میں پاکستانی ایریا کی طرف بڑھے اور آن کی آن میں ہزاروں پانی کی بوتلیں فری میں تقسیم ہو گئیں۔
عشاء کی باجماعت نماز کی آدائیگی کے بعد کھانا تقسیم ہوا ۔اور لوگ ٹیکسی معاملات ۔پاکستانی سیاست اور دیگر باتوں میں مصروف ہوگئے۔کچھ لوگ گاڑیوں اور کچھ قالین پر سو گئے میرے جیسوں نے رات جاگ کر گزار دی۔ سوموار کو فومینتو اور دیگر اداروں کے ساتھ اہم میٹنگز طے تھیں۔ اور سوموار کو طے کیے جانے والے معاملات منگل کو کیبنٹ اور بدھ کو ہماری تنظیموں کے ساتھ پھر ڈسکس ہونا تھے۔
سوموار کو صبح کے ناشتہ کے بعد اسپانش کمیونٹی کے لوگ پہنچنا شروع ہوگئے اور سپہر کو پاکستانیوں کی بڑی تعداد پہنچ گئ۔ معاملات اسی روٹین۔ کھانا پینا۔ پریس انٹرویوز اور اسمبلی کے انتظار اور مذید خبروں تک اپڈیٹ اور میڈیا تبصرے سننے میں گزرتے رہےشام کو یہی بتایا گیا کہ دو ٹوک الفاظ میں تمام مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔اور بغیر کسی ٹھوس اقدام کے دھرنا نا اٹھانے کی بات واضح کی گئ ہے۔جس پر منگل کا ٹائم لینے کے بعد ٹرانسپورٹ منسٹری بدھ کو بتائے گی ۔لہزا شرکاء نے بدھ تک بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
منگل کا دن دھرنے کی باقاعدہ روٹین میں گزرا البتہ بیمار لوگوں کو ہوسپٹلز لانے لیجانے کے لیے فری سروس مہیا کی گئ جس میں پاکستانی ڈاریئورز نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے مقامی TV نے باقاعدہ کوریج بھی دی۔
اور پھر بدھ کا دن بھی آ گیا۔ ہڑتال کا آٹھواں دن تھا ۔لیکن شرکاء ابھی بھی پر عزم تھے۔ رات کو ہونے والی اسمبلی میں تمام شرکاء کے سامنے حالات رکھے گئے انہیں بتایا گیا کہ
جنرالیتات نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بھی لائسنس جاری نا کرنے کا فیصلہ اس وقت تک کیا ہے جب تک باقاعدہ قانون سامنے نا آ جائے۔
دوسرئ جانب منسڑی نے ہر اجنتامینو کو اپنی ٹیری توری (علاقہ) کے بارے فیصلہ کرنے کے حق کو تسلیم کیا ہے۔ اور مئیر کو اختیارات کا حق دیا یے۔
جسکے بعد قانون آنے سے پہلے یہ واضح ہو گیا یے کہ بارسلونا میں اوبر یا کابی فائی مکمل آزادی حاصل نہیں ہوگی۔
انکے کام کے طریقہ کار ۔ویب کنٹرول پیج۔ اور نقل حمل کے طریقہ کار کو بھی کنٹرول کیا جاے گا۔
اور جمعہ کے روز مذید نقاط سامنے آئیں گے اور 6 اگست کو ان نقاط پر عمل درامد کے متعلق بریفنگ دی جاے گی۔
۔DECRETO LEY پاس کرنے سے پہلے تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
ان تمام باتوں کا زکر کرنے کے بعد دھرنا ختم کرنے کی آپشن پر اوپن ووٹنگ کی گئ جسے اکثریتی رائے سے اس شرط پر منظور کیا گیا کہ اگر سرکار نے پھر سے کوئی ہیرا پھیری کرنے کی کوشش کی تو متاثرین پہلے سے زیادہ تعداد اور شدت سے باہر نکلیں گے۔
جس وقت میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں جمعہ کا دن شروع ہو چکا ہے مذید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ لیکن کیا کھویا تو ملکی سطح پر 90 ملین یورو کا نقصان ہوا۔
اور انفرادی سطح پر فی کس 3000 یورو کا۔اگر پائے جانے کی طرف دیکھا جائے تو پچھلے جمعہ کے بعد اب معاملات بہتر ہیں۔اور فوری خطرہ ٹل گیا ہے۔اور امید کی ایک کرن نظر آ رہی ہے۔دوسرا کم از کم ہم اس صف میں نہیں کھڑے جس نے حقوق کی اس جنگ میں حصہ نا لیا ہو۔
بحثیت پاکستانی کمیونٹی آپ نے اور میں نے صرف پایا ہے۔ اعتماد۔ محبت۔ایثار۔یکجہتی ۔اور مقامی آبادی اور ٹیکسی سیکٹر میں ایک قابل فخر اور باعزت مقام۔
پاکستان زندہ باد۔ پاک ٹیکسی پائیندہ باد