غیر ملکیوں کو یورپی یونین کی شہریت کم دی جائے، یورپی کمیشن

یورپی یونین کی انصاف سے متعلقہ امور کی نگران کمشنر ویرا ژُورووا نے یونین کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بلاک سے باہر کی ریاستوں کے باشندوں کو یورپی شہریت کم دیں اور اس عمل میں بہت احتیاط کا مظاہرہ کریں۔جرمن دارالحکومت برلن اور بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے منگل سات اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ویرا ژُورووا نے کہا ہے کہ یونین کی رکن ریاستوں کو اپنے ہاں ایسے غیر ملکیوں کو مقامی شہریت دینے کے عمل میں بہت زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جو یونین سے باہر کے ممالک کے شہری ہوتے ہیں۔
جرمن جریدے ’دی وَیلٹ‘ میں آج منگل کے روز شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں ویرا ژُورووا نے کہا کہ یورپی یونین اور یورپی کمیشن کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ یورپ میں ’گولڈن پاسپورٹ‘ کا اجراء زور پکڑتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی کمیشن کی طرف سے اس بارے میں نئے ضوابط کا اعلان اسی سال موسم خزاں میں کر دیا جائے گا۔یورپی یونین کی کمشنر برائے انصاف ژُورووا نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں اس بلاک کی رکن ایسی ریاستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جنہوں نے یہ طریقہ اپنا رکھا ہے کہ وہ اپنے ہاں بڑی سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں مقامی شہریت دینے لگی ہیں۔ویرا ژُورووا نے اس سلسلے میں اس بلاک سے باہر کے ممالک سے آنے والے غیر ملکیوں کی طرف سے رکن ممالک میں بہت مہنگی جائیدادیں خریدنے کے عمل کو مقامی شہریت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے جانے پر بھی تنقید کی۔

’دی وَیلٹ‘ کی آج شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ویرا ژُورووا کے اس انٹرویو کے ساتھ ہی ان حقائق کی نشان دہی بھی کی گئی ہے کہ یونین کے قبرص، مالٹا اور یونان جیسے ممالک میں ایسا ہوتا ہے کہ وہاں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو طویل المدتی رہائشی ویزے یا مقامی شہری حقوق بھی دے دیے جاتے ہیں۔ عرف عام میں ایسے ویزوں کو ’گولڈن ویزے‘ اور ایسے پاسپورٹوں کو ’گولڈن پاسپورٹ‘ کہا جاتا ہے۔ان یورپی ممالک میں ایسے نام نہاد ’گولڈن ویزے‘ یا ’گولڈن پاسپورٹ‘ حاصل کرنے والے غیر ملکی اکثر ایسے چینی، روسی یا سابق سوویت یونین کی ریاستوں کے شہری ہوتے ہیں، جو اس طرح کے حقوق حاصل کرنے کے بعد پوری یورپی یونین میں آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔

اس بارے میں یورپی کمشنر برائے انصاف نے اپنے انٹرویو میں کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ ایسے غیر ملکیوں کی صورت میں یورپ میں ممکنہ طور پر بہت خطرناک افراد بھی آزادانہ گھومتے پھرتے رہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’چند یورپی ریاستوں کو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ اس طرح دیے جانے والے طویل المدتی رہائشی ویزے یا شہریت ممکنہ مجرموں کو نہ دیے جائیں، خاص طور پر ایسے غیر ملکیوں کو جو یورپی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیں یا منی لانڈرنگ میں ملوث ہوں۔‘‘ویرا ژُورووا نے اپنے اس موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو مجرموں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ، بدعنوانی کا مرکز یا ناجائز رقوم کی کوئی ذخیرہ گاہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔