پاکستانیوں کے ایک ہزار ارب باہرپڑے ہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق مقدمے میں ریمارکس دیے کہ دستیاب معلومات کے مطابق پاکستانیوں کے ایک ہزار ارب روپے بیرون ملک پڑے ہیں، کوشش ہے کہ اس میں سے 600 ارب روپے واپس آجائیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی تو گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے پیش ہوکر کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے بینک کھاتوں اور جائیدادوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی ہیں لیکن ان کو خفیہ رکھا جارہا ہے، طریقہ کار طے کیا جارہا ہے، کچھ وقت دیا جائے، لائحہ عمل دیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا بہت زیادہ پیسہ باہرچلا گیا، پاکستانیوں نے دبئی، سوئٹزرلینڈاوردیگر ممالک میں اکاؤنٹس اور جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ کیا عدالت اتنی مجبور ہوگئی ہے کہ ملک سے باہر جو پیسہ چلا گیا ہے اس کا پوچھ نہ سکے؟ملک کی ٹاپ بیوروکریسی عدالت میں آکر اپنی مجبوری کا اظہار کرتی ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ایسا نہیں ہونے دیں گے، ملک کا پیسہ واپس لائیں گے۔ایف آئی اے نے جن لوگوں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک ہزار لوگوں کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، پتہ چل جائے گا کہ ایمنسٹی اسکیم سے کس نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ جس نے فائدہ نہیں اٹھایا اس نے کوئی گڑبڑ کی ہے، ان ہزار لوگوں کے لئے ہم بیان حلفی کی شرط رکھ لیتے ہیں جیسے ہم نے انتخابی امیدواروں کے لئے رکھی تھی، ڈیٹا ہمیں ملا ہے، اس سے کافی امید ملی ہے۔عدالت نے طارق باجوہ کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت3 ستمبر تک ملتوی کر دی۔