مدینہ منورہ کی فلاحی ریاست.. سید عاصم محمود

نبی کریم ﷺ کی عمر مبارک چالیس برس تھی جب آپؐ نے مکہ مکرمہ میں تبلیغ اسلام کا آغاز کیا۔ آپؐ کا جہاد بالادست اور سرمایہ دارانہ طبقے کے خلاف شروع ہواجس نے کمزوروں اور غریبوں کو اپنا غلام بنا رکھا تھارحمت للعالمینؐ اسی کمزور و ناتواں طبقے کا سب سے بڑا سہارا بن گئے۔آپؐ بارہ سال (610 ء تا 622ء) طاقتور سرداران مکہ سے نبرد آزما رہے اور ان کے مظالم برداشت کیے۔ آپؐ پھر مدینہ منورہ تشریف لے گئے تاکہ اسے اپنا مرکز بنا کر خیروحق کی قوت پائیں اور بالادست ظالم طبقے کو شکست دے سکیں۔ مکہ مکرمہ امیر کبیر تجار کا شہر تھا تو مدینہ میں زراعت سے وابستہ عرب آباد تھے۔ تاہم باہمی اختلافات اور خانہ جنگی نے مدینہ کے قبائل کو کمزور کررکھا تھا۔ مدینہ کا تیسرا بڑا طبقہ، یہود بھی عرب قبائل کے مابین اختلافات کی آگ بھڑکاتا رہتا۔ گویا نئے شہر میں بھی مختلف مسائل نبی کریمؐ کے منتظر تھے۔

رسول اللہؐ نے مگر خوش تدبیری، معاملہ فہمی اور محبت آمیزی سے سبھی مسائل نہ صرف حل کیے بلکہ مدینہ منورہ میں ایسی فلاحی و انسان دوست مملکت کی بنیاد رکھی جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ مدینہ منورہ کی فلاحی ریاست کئی خوبیوں کے باعث انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال بن گئی۔ایک انسانی معاشرے میں بالادست طاقتوں کو ظالم بننے سے روکنے اور کمزوروں کو بچانے کی کوششیں پہلے بھی ہوتی رہیں مگر وہ کوئی معین شکل اختیار نہ کرسکیں۔ تقریباً ایک ہزار سال پہلے ہندوستان میں اشوک اعظم غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم رہا تھا لیکن وہ فلاحی مملکت کا باقاعدہ ڈھانچا ترتیب نہیں دے سکا۔ یہ اعزاز رحمت اللعالمینﷺ کو حاصل ہوا کہ آپؐ نے باقاعدہ طور پر دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی۔

مدینہ منورہ پہنچ کر نبی کریمؐ نے شہریوں کے باہمی اختلافات دور کرنے اور اچھے حکومتی انتظام (گڈگورنس) کی خاطر ایک قسم کا ریاستی آئین تشکیل دیا جو ’’میثاق مدینہ‘‘ کہلاتا ہے۔ ماضی میں وادی دجلہ و فرات، مصر اور یونان کی شہری ریاستیں بھی آئین بنا چکی تھیں مگر ’’میثاق مدینہ‘‘ جیسی فصیح و بلیغ آئینی دستاویز ہمیں پہلے نظر نہیں آتی۔ اس آئین ہی نے مدینہ منورہ میں فلاحی ریاست کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس میں درج ہے :’’ریاست کا ہر شہری ظلم، ناانصافی اور کرپشن کے خلاف جدوجہد کرے گا۔‘‘

مدینہ منورہ کا انتظام سنبھال کر رسول مقبولﷺؐ کئی انقلابی اقدامات عمل میں لائے تاہم آپؐ کی زیادہ توجہ کمزور و غریب طبقے کے مسائل حل کرنے پر مرکوز رہی۔ آپؐ نے انصار و مہاجرین کے مابین مواخات یا بھائی چارہ کروایا تاکہ غریب مہاجروں کے معاشی مسائل حل ہوسکیں۔ جلد ہی زکوۃ کو ’’فرض‘‘ قرار دے دیا گیا۔ مقصد یہی تھا کہ دولت مندوں سے سرمایہ لے کر غریب غربا کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔ کمزور و ناتواں طبقے کی بحالی کے لیے ہی بعد ازاں زکوۃ کو ارکان اسلام میں شامل کردیا گیا۔

نبی کریمؐ نے ہر محلے کے دس افراد پر ایک سربراہ مقرر کیا جو ’’نقیب‘‘ کہلاتا تھا۔ دس نقیبوں کے سربراہ کو ’’عریف‘‘ کہا جاتا۔اس کے بعد ایک سو عرفا پر مشتمل ریاست مدینہ کی پارلیمنٹ تشکیل دی گئی۔ یوں نبی کریمؐ نے بہترین گڈگورنس کا مظاہرہ فرماتے ہوئے حکومتی اختیارات معاشرے کی نچلی سطح تک منتقل فرما دیئے۔ہر نقیب کی پہلی ذمے داری یہ تھی کہ وہ دیکھے، اس کے محلے میں کوئی بوڑھا، بیوہ، یتیم، بیروزگار، معذور، فقیر،بیمار وغیرہ مالی مسائل کا شکار تو نہیں! وجہ یہ کہ تاریخ انسانی میں شاید پہلی بار کسی حکمران نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ ضرورت مند شہری کی مدد کرنا حکومت کا ’’فرض‘‘ ہے۔ ورنہ پہلے یہی رواج تھا کہ کبھی کوئی انسان دوست حکمران آجاتا تو صرف وہی غریبوں کی مدد پر کمربستہ رہتا تھا۔ لیکن رسول مقبولؐﷺ نے ریاست کے غریب و مسکین طبقے کی دیکھ بھال اور مدد کرنا حکومت کی ذمے داری بنا دیا۔ یہ وہ تاریخ ساز اور انسانیت پسند معاشرتی و معاشی انقلاب تھا جو مدینہ منورہ کی فلاحی مملکت میں رونما ہوا۔

چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ اوائل میں بیت المال میں کم رقم ہوتی تھی پھر بھی مدینہ منورہ کے غربا کو خوراک اور ملبوسات عطا ہونے لگے۔ ان کے ٹھکانے کا بھی بندوبست کیا گیا۔ بیمار کے پاس پیسہ نہ ہوتا تو اس کاعلاج کرایا جاتا۔ غریب مقروضوں کا قرضہ اتارا جاتا۔ غرض نبی کریمؐ نے مدینہ منورہ میں دنیا کا پہلا سوشل سکیورٹی نظام متعارف فرمایا جو آج کئی مغربی ممالک میں رائج ہے۔ اس نظام کے تحت معاشرے کے غریب و کمزور طبقے کی ضروریات پوری کرنے کی ذمے داری حکومت نے اپنے سر لے لی۔

سنت نبوی ﷺ پہ عمل کرتے ہوئے خلفائے راشدین نے اپنی حکومتوں میں غریب و کمزور طبقے کو نہایت سہارا دیئے رکھا۔ حضرت ابو بکر صدیقؐ نے تو ان امیر کبیر سرداروں سے جنگ فرمائی جو زکوۃ دینے سے منحرف ہوگئے تھے۔ یہ قدم غربا کو تحفظ دینے کی خاطر ہی اٹھایا گیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اجتہاد سے کام لیتے ہوئے غریب اور ضرورت مند غیر مسلموں کو بھی ’’صدقہ‘‘ دینے کا حق دار بنا دیا۔ انہوں نے حکم جاری فرمایا کہ بیت المال سے غریب غیر مسلموں کی بھی ساری ضروریات پوری کی جائیں۔

نبی کریمؐ نے مدینہ منورہ کی فلاحی ریاست تشکیل دیتے ہوئے انسانی تاریخ میں پہلی بار مزید یکتا اقدامات فرمائے۔آپ ﷺ نے مسجد نبوی میں اپنا سیکرٹریٹ یا انتظامی مرکز قائم کیا۔یوں اسلامی معاشرے میں مسجد مذہبی،سیاسی اور معاشرتی مرکز بن گئی۔بہترین داخلی اور خارجہ پالیسیاں وضع فرمائیں۔معیاری نظام تعلیم کی بنیاد رکھی۔میرٹ پر حکومتی افسر مقرر فرمائے اور اقربا پروری پر لعنت فرمائی۔حکومتی افسروں پہ چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی خاطر احتساب کا عمل جاری فرمایا۔ان تمام اہم اقدامات کے ساتھ ساتھ کمزور اور پسے طبقوں کی مدد کرنا آپؐ کی ترجیح رہی۔ وجہ یہ کہ آپؐ کی دعوت و اشاعت اسلام کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ بالادست اور طاقت ور طبقے کو ظالم بننے سے روکا جائے اور اس کی قوتوں پر پابندیاں لگائی جائیں۔ صرف اسی صورت معاشرے کا کمزور طبقہ بھی کسی حد تک خوشحال و اطمینان بخش زندگی گزار سکتا ہے۔

وطن عزیز کے متوقع نئے حکمران، عمران خان نے الیکشن جیت کر جو پہلی تقریر کی، اس میں انہوں نے اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی فلاحی مملکت کا روپ دینا چاہتے ہیں اور یہ کہ ان کی توجہ معاشرے کے پسے غریب طبقات کی بحالی و تعمیر پر مرکوز رہے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک اپنے دعویٰ اور وعدوں پر پورا اترتے ہیں؟

یاد رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آنے کے بعد آٹھ دس سال کی قلیل مدت میں عرب کے طاقتور و بااثر سرداروں کو اس لیے بھی سرنگوں کرنے میں کامیاب رہے کہ آپؐ نے انسانی تاریخ میں پہلی بار اپنی ریاست میں قرار دیا: ’’قانون کے سامنے سبھی امیر غریب، مسلم غیر مسلم، کالا گورا برابر ہیں۔‘‘ ریاست مدینہ میں قانون کی حکمرانی کا بول بالا رہا۔ ایک بار امیر گھرانے کی لڑکی جرم کر بیٹھی۔ امرا نے چاہا کہ اسے معافی مل جائے یا کم سزا ملے تو رسول مقبولﷺؐ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا ’’اگر میری بیٹی جرم کرتی تو اسے بھی یہی سزا ملتی۔‘‘