فرانس اور اسپین کی سرحد، مہاجرین کی نقل و حرکت میں اضافہ

جوں جوں شمالی افریقہ سے بحیرہء روم عبور کر کے اسپین پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کے ساتھ ہی اسپین سے سرحد عبور کر کے فرانس میں داخل ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔فرانسیسی اور ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ فرانسیسی سرحد کے قریب واقع ہسپانوی قصبہ ایرون ان دنوں تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ دیکھ رہا ہے، جو اس قصبے میں ٹھہرنے کی بعد شمال کی جانب بڑھ جاتے ہیں۔اس قصبے کے رہائشیوں اور مقامی تنظیموں نے مل کر گزشتہ ماہ سے ایک غیر رسمی سا نیٹ ورک بنا لیا ہے، جس کا کام ان تارکین وطن کو خوراک اور کپڑے پہنچانا ہے۔ مہاجرین دوست کارکن بی بی لیراس کے مطابق اس علاقے میں تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کے بعد اس جانب توجہ مبذول کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس علاقے سے لوگ پہلے بھی فرانس میں داخل ہوتے تھے، تاہم اب ماضی کے مقابلے میں ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ سے اس قصبے کے ذریعے تارکین وطن کی فرانس کی جانب ہجرت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ’’یہ ایک غیرعمومی بات تھی کہ مہاجرین یکایک یہاں ٹرین اسٹیشن اور دیگر مقامات پر سوتے دکھائی دیتے لگے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ اب قریب 40 تارکین وطن روزانہ کی بنا پر اس قصبے میں دکھائی دینے لگے ہیں، جب کہ ماضی میں یہ تعداد چار یا پانچ ہوتی تھی۔
امدادی تنظیم ریڈکراس کے مطابق اس قصبے میں اب ایک مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں 24 افراد ٹھہر سکتے ہیں، جب کہ فرانسیسی سرحد کے قریبی اس انداز کے دیگر تین مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں، تاکہ اسپین سے فرانس کی جانب بڑھنے والے ان تارکین وطن کو قیام میں کچھ معاونت ہو پائے۔ ریڈ کراس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ فرانسیسی سرحد کے قریب قائم کیے گئے ان مراکز میں مجموعی طور پر 177 افراد کے ٹھہرے کی گنجائش ہے، جہاں ان تارکین وطن کو تین یا چار راتوں تک کے قیام کی اجازت دی جاتی ہے۔ ریڈ کراس کے مطابق حالیہ دو ماہ میں ان مراکز میں مجموعی طور پر 16 سو تارکین وطن قیام کر چکے ہیں۔ایرون قصبے میں جن تارکین وطن کو ریڈ کراس کے مراکز میں ٹھہرے کی جگہ نہیں ملتی، مقامی رضا کار ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھال لیتے ہیں اور انہیں خوراک اور لباس مہیا کرتے ہیں۔