اس طرف جا نے سے اجتنا ب کر یں صا حب..ضیغم سہیل وارثی (لا حا صل )

بار بار باری لگی تھی تب عوام کچھ امید لگا تی تھی تو سا تھ میں یہ ذہن میں رکھتی تھی کہ انہوں نے ما ضی میں کیا کیا جو اب کر یں گے ،مگر ، مگر خاں صا حب کے ٹا ئم صو رت حال مختلف ہے ، لوگ ان سے امید لگا کر ان کو ووٹ اس لیے دے گئے، کیونکہ، عوام چا ہتے با ری ختم ہو ، کو ئی ئنا سا منے آ ئے ،مگر خاں صا حب کے ایک وز یرفواد چو ہد ری صا حب غلط اندازے لگا کر بیٹھے گے ہیں ، ایک دوسرے سے لو گ کہیں گے جیسے فیض نے کہا تھا
اور کیا دیکھنے کو با قی ہے
مشر ف کے بعد عوام نے پیپلز پا رٹی اور ن لیگ کو چا نس دینے کے بعد خیال کیا کہ یہ دو نوں پا رٹیا ں عوامی تو قعا ت پر پو را نہیں اتری ہیں ، کیو نکہ یہ سب امیر طبقہ تو ان کو غریب کے دکھ کا احسا س کیسے ہو سکتا ہے ،اور یہ تمام سیا ست دان نا م شہر ت ، پر وٹو کو ل کو پسند کر تے ہیں ، دنیا میں نمبر ون کی لسٹ میں آ نا چا ہتے ہیں ، اس مقصد کے لیے یہ کچھ بھی کر تے آ ئے ہیں اور کر تے رہیں گے ،جیسے شر یف فیملی حکو مت میں ہو تے عوامی وسا ئل کو استعمال میں لا کر بز نس بڑ ھا یا ، اور بھی بہت کچھ ، جو سب کے سا منے ہے، یہ تما م سیا ست دان وی آ ئی پی پر و ٹوکو ل پسند کر تے ہیں ، اور یہ جہاں سے گز رتے میں دور تک سڑ کیں بند کر دی جا تی ہیں ، اس دوران مر یض کی سا نس رک جا ئے ، یا نو جوان نسل ایجو کیشن کے ادارے نہ پہنچ سکے ، اور مز دوری دیہا ڑ ی لگا نے ٹھکا نے دیر سے پہنچے ،ان سیاست دانوں کو ان تما م معاملا ت سے دلچسپی نہیں نظر آ تی تھی ، کیو نکہ ان کی آمد سے پہلے سڑ کیں بند کر دی جا تی تھیں ، تو عمل سے ظا ہر ہو تا کو ن کیا چا ہتا ہے ، اس دوران ایک کا میا ب کھلا ڑی کی آ واز بلند ہو ئی ، اس نے کہا کہ یہ امیر غر یب کا احسا س کیا کر یں گے ،اس نے کہا یہ پیسے کے بھو کے کر پشن کے چا نس کیوں مس کر یں گے ،اس نے کہا مجھے اربوں کا پیسہ ملنا تھا اپنی بیو ی کی طلا ق کے بعد وہ چھوڑ کر آ یا تو اب دولت جمع کر نے کی سو چ کیا آ ئے گی ، اس نے کہا عوام کا پیسہ سر کا ری خزا نے کو بے در یغ استعمال کیا جا تا ہے اور سیا ست دان عیا شی کر تے ہیں ، اس نے کہا میں سب یہ نظا م بد لوں گا، وی آ ئی پی پر و ٹو کو ل ختم کر وں گا ، اس نے کہا قا نون سب کے لیے بر ابر ہو گا ،اس نے کہا سیا ست دان سر کا ری خزا نے سے عیا شی نہیں کر یں گے ،اس نے کہا ہم سا دگی کے انداز سے حکو مت کر کے دکھا ئیں گے ،اس نے کہا ہم عوام کا پیسہ عوامی امنگو ں کے مطا بق خر چ کر یں گے ، اس نے کہا ما ضی کے سیا سے دانوں کا طرز سیا ست ہم میں نظر نہیں آ ئے گا ،پھر عوام نے اس سے کہا تم کی ٹیم تم کی اپنی نہیں ہے ،یہ پر انے کھلا ڑی ہیں ، ان کو کیسے کنٹرول کر و گے، یہ تما م عوام کو صرف خو ا ب دکھا کر وقت گزا رنے والے ہیں ، یہ تمام عیا شی اور پر و ٹو کو ل کے بھو کے ہیں ، یہ تما م نز لے زکام پر بھی بیر ون ممالک علا ج کر وا نے کے خو اہش مند ہو تے ہیں ، یہ تما م منسٹر بن کر اپنے گھر وں کی خو بصو رتی بڑ ھا نے کے لیے کھل کر سر کا ری فنڈ ز لیتے ہیں ،تم کپتان ہو ، لیکن اکیلے ان سب پر کیسے کنٹر ول کر و گے ،اس نے کہا اوپر بند نیک نیت والا ہو ایما ن دار ہو تو نیچے تک تمام لو گ ٹھیک ہو جا تے ہیں ،پھر کو ئی کر پشن نہیں کر سکے گا ، پھر عوام نے کہا ، اوکے ، اس با ر باری با ری آ نے والوں کو چھو ڑ کر ، تم کو ووٹ دیتے ہیں ، اب عوام ووٹ کے ذریعے خاں صا حب کو حکو مت میں لا چکی ہے، وز یر اعظم صا حب نے اپنے وز یر بھی رکھ لیے ہیں ، ان میں زیا دہ تر کی تعد اد پر انے کھلا ڑ یوں کی ہے ، جو مختلف پا رٹیوں میں ان وزار توں کے مز لے لو ٹ چکے ہیں ،تو کیا یہ وز یر خاں کے پلان کے مطا بق خاں کا سا تھ دیں گے ،ایسا نظر نہیں آ رہا ، فواد چو ہد ری نے جس انداز میں عوامی سوال کا جو اب دیا ، اس سے وا ضع لگتا ہے کہ ، فواد چو ہد ری صا حب نے پا رٹی نیو جو ائن کر لی مگر ان کی سو چ وہی پر انی جو بیا ن ما ضی میں دیتے آ ئے ہیں اب بھی وہی انداز ، فر ما یا ، وز یر اعظم کے پا س سر کا ری ہیلی کا پٹر وہ کیوں استعما ل نہ کر یں، سا تھ کہا ، با ئے رو ڈ جا نے سے بہتر ہیلی کا پٹر یو ز کر یں کیو نکہ اس کا خر چ انتہا ئی کم ہے ،صحا فی نے کہا اس کا مطلب عوام میڑو چھو ڑ کر کم خر چ والے ہیلی کا پٹر استعمال کر لیں تو چو ہد ری صا حب نے اپنا ظر ف دکھا دیا ، اور فر ما یا کہ اگر ان کے پا س اپنا ہیلی کا پٹر ہو تو، چو ہد ری صا حب آ پ کے وز یرا عظم اور وز یرا علی کے پا س جو ہیلی کا پٹر وہ سب اسی عوام کے ٹیکس کے ہیں ،اس عوام کے ، جس کو آ پ کہہ رہے کہ اگر عوام اپنا ہیلی کا پٹر رکھتی تو اس کو یو ز کر ئے ،افسو س اس با ت کا ، کہ ، یہ وز یر بھی پر انی طر ز کی سیا ست کر رہے ، ان کو یقین ہو گیا کہ عوام کی بے و قو ف بنا تے آ ؤ اور عوام بنتی آ ئے گی ، عوامی سوال کا یہ بھی جو اب ہو سکتا تھا کہ ، اگر وز یر اعظم صا حب با ئے رو ڈ جا تے تو سٹر کیں بلا ک ہو تیں تو ہم عوام کو تکلیف نہیں دینا چاہتے اور جو ہیلی کا پٹر کا خر چ وہ پا رٹی فنڈ ز سے ہم سر کا ری خزا نے کو نہیں استعمال کر رہے ، مگر سا دگی کے دعوے کرنے والے خاں صا حب بھی اتنے گھنٹے گز رنے کے بعد عوام کو پیغا م نہیں سکے ،کہ ، ان کے وز یر پرا نی سو چ کے ہیں اور یہ خو د عوام سے معذ رت کر تے ہیں ، خاں صا حب کو عز ت ملی ، ایک کھلا ڑی سے ملک کے وز یر اعظن بنے ہیں، ہم ان سیا ست دانوں سے نہیں بلکے خاں صا حب سے ریکو سٹ کر یں گے ،کہ خاں صا حب یہ سیا ست دان جیسے دو سری پا رٹیاں چھو ڑ کر آ پ کی طر ف آ ئے ہیں ، کل مشکل وقت میں آ پ کو بھی چھو ڑ کر جا سکتے ہیں اور جا ئیں گے بھی ، لہذا آ پ نے عوام سے جو سا دگی کے خو اب دکھا ئے ہیں اس طر ح کا عملی مظا ہر ہ بھی کر یں اور اپنے وز یروں سے بھی کر وائیں ، شیخ صا حب کی گا ڑی کے آ گے کچھ مو ٹر سا ئیکل کھڑ ے ہو ئے تو گا ڑ ی کو گز رتے مشکل پیش آ ئے تو شیخ صا حب بو لے کے میں یہ سب صا ف کر و سکتا ہوں ، شیخ صا حب آ پ کی گا ڑی تو ایک بار یہاں سے گز ری اور آ پ سے رکا وٹ بر داشت نہیں ہو ئی ، آ پ نے کبھی سو چا کے پورا دن یہاں سے گز رنے والے شہر یوں کو کتنی مشکلا ت کا سا منا کر نا پڑ تا ہو گا ،پہلے سیا ست دان صر ف خو د کا سو چتے تھے تب مو لا نا جیسے لو گ آ ج گیم سے با ہر ، کل کو آ پ بھی ہو سکتے ہیں ،تو تھو ڑی اختیا ط صا حب
بار بار باری لگی تھی تب عوام کچھ امید لگا تی تھی تو سا تھ میں یہ ذہن میں رکھتی تھی کہ انہوں نے ما ضی میں کیا کیا جو اب کر یں گے ،مگر ، مگر خاں صا حب کے ٹا ئم صو رت حال مختلف ہے ، لوگ ان سے امید لگا کر ان کو ووٹ اس لیے دے گئے، کیونکہ، عوام چا ہتے با ری ختم ہو ، کو ئی ئنا سا منے آ ئے ،مگر خاں صا حب کے ایک وز یرفواد چو ہد ری صا حب غلط اندازے لگا کر بیٹھے گے ہیں ، ایک دوسرے سے لو گ کہیں گے جیسے فیض نے کہا تھا