خواتین ڈپریشن سے کیسے بچ سکتی ہیں

کراچی: ہم جس دور میں جی رہے ہیں، یہ دور ترقی یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت تیز رفتار بھی ہے جس میں ہم سب خواتین کا گھر کی ذمے داریوں کو نبھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی پرورش اور ان کی دیکھ بھال کرنے کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ بھی شامل ہے۔وہ یہ ہے کہ جب خواتین ملازمت اختیار کرتی ہیں تو اس وقت ان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ وقت کا توازن قائم کرتے ہوئے اپنے پورے وقت کو کنٹرول کرتے ہوئے احسن طریقے سے انجام دینا ہے۔ ایسے میں ہماری خواتین کچھ حد تک یا کافی حد تک ڈپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ایسی خواتین اپنی تمام ذمے داریوں کو نبھاتے ہوئے اپنے آپ کو وقت نہیں دے پاتیں اور تھکن کا شکار ہوجاتی ہیں۔
اس کے علاوہ چڑچڑا پن، بے خوابی اور کام سے دل اچاٹ ہوجانا ان کی نمایاں علامات ہیں۔ ایسے بہت سے طریقے ہیں جن پر اگر خواتین عمل کریں تو انہیں نہ صرف ڈپریشن سے نجات مل جائے گی، بلکہ وہ اپنے آپ کو زیادہ پرسکون اور توانا محسوس کریں گی۔خواتین کو چاہیے کہ اپنے کاموں کو ترتیب دینے سے پہلے ایک ٹائم ٹیبل مرتب کرلیں جس میں اپنے لیے بھی کچھ وقت مختص کریں۔ یہ نہیں کہ اپنی ذمے داریوں کو انجام دیتے ہوئے ایک مشین کی طرح زندگی گزاریں، بلکہ اپنے اوپر بھی توجہ دیں اور اپنے لیے بھی وقت نکالیں۔ اپنے دن کا آغاز ہلکی پھلکی ورزش سے کریں۔ بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں۔ متوازن غذا کو اپنی خوراک کا حصہ بناکر آپ خود بھی صحت مند رہ سکتی ہیں اور اپنے بچوں کی صحت کا بھی خیال رکھ سکتی ہیں۔
ذہن کو پرسکون رکھنے کے لیے اچھی کتاب کا مطالعہ بھی ضروری ہے ۔ دن کا تھوڑا وقت یا رات کو سونے سے پہلے پندرہ یا بیس منٹ اچھی کتاب کا مطالعہ آپ کو پرسکون نیند دینے میں مدد دے سکتا ہے۔رات 8 بجے کے بعد موبائل فون کا استعمال نیند میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے اور حد سے زیادہ استعمال بے خوابی کا باعث بنتا ہے، اس لیے خواتین خود بھی موبائل کے استعمال میں محتاط رہیں اور اپنے بچوں کو بھی اس کا پابند بنائیں کہ وہ بلا ضرورت موبائل فون کا استعمال نہ کریں، جب کہ اسکول جانے والے بچوں کے لیے موبائل فون کا استعمال انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ ہفتے یا پندرہ دن میں اپنے دوستوں کے لیے بھی وقت نکالیں یا اپنے بچوں کے ساتھ تفریح کا پروگرام بنائیں یا گھر میں ہی اپنے اہل خانہ کے ساتھ چھوٹی سی پارٹی کرلیں۔
اس طرح کی چھوٹی چھوٹی چیزیں آپ کو پرسکون کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔ روٹین کی زندگی سے ہٹ کر اپنے دن کو منفرد بناکر آپ نہ صرف لطف اٹھائیں گی بلکہ اپنے تمام روزمرہ کے کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دیں گی۔مثبت سوچ اپنا کر نہ صرف آپ خود کو ڈپریشن سے بچا سکتی ہیں بلکہ معاشرے کا مفید شہری بھی بن سکتی ہیں۔ مثبت سوچ انسان کو وسوسوں، وہم اور ذہنی الجھنوں سے بچاتی ہے اور یہی تمام چیزیں جب بڑھ جائیں تو ڈپریشن میں مبتلا کردیتی ہیں۔مثبت سوچ تعمیری کام میں اہم پیش رفت ثابت ہوتی ہے اس لیے خواتین کو چاہیے کہ منفی خیالات سے دور رہ کر مثبت انداز سے اپنے کام انجام دیں اور پرسکون زندگی کا لطف اٹھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے روزمرہ کے معاملات کے بارے میں اپنے شریک حیات ، دوستوں یا اپنے بچوں سے ہلکی پھلکی گفت گو کیجیے۔
اہم معاملات میں مشاورت اور دوستوں کی رائے آپ کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ ہلکی پھلکی گفت گو آپ کو اکیلے پن کا شکار ہونے نہیں دیتی، دوسرے یہ کہ آپ کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ آپ صحیح سمت میں بڑھ رہی ہیں۔ اس طرح آپ ڈپریشن سے بھی بچ سکتی ہیں اور اگر آپ کسی الجھن کا شکار ہیں تو آپ کے دوست اور گھر والے آپ کو اس مسئلے سے نکلنے میں مدد بھی فراہم کرسکتے ہیں۔کوشش کیجیے کہ آپ جو غلطیاں پہلے کرچکی ہیں وہ ہرگز نہ دہرائیں اور دوسروں کی غلطیوں سے بھی سیکھنے کی کوشش کیجیے، اس طرح آپ غلط فیصلے کرنے سے بچ سکتی ہیں اور اپنی زندگی کو پہلے سے بہتر انداز سے سنوار سکتی ہیں۔ اپنے آپ سے عہد کریں کہ آپ خود بھی اچھی زندگی گزاریں گی اور اپنے آپ سے وابستہ دوسرے لوگوں کو بھی اچھی زندگی گزارنے میں مدد فراہم کریں گی