سپین نے سعودی عرب کو بموں کی فروخت روک دی

سپین نے سعودی عرب کو بموں کی ترسیل روک دی ہے۔ ہسپانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ بموں کی فراہمی اس خدشے کے تحت روکی گئی ہے کہ ریاض حکومت انہیں یمن جنگ میں استعمال کرے گی۔ سابق ہسپانوی حکومت نے سن 2015 میں سعودی عرب کو 400 لیزر گائیڈڈ بموں کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا۔ ہسپانوی میڈیا کے مطابق میڈرڈ حکومت نے اس معاہدے کی تنسیخ کے لیے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی عالمی ادارے سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرنے پر مغربی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
ہسپانوی حکومت نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو چار سو لیزر گائیڈڈ بم فراہم کرنے کی ڈیل کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ بم فروخت کرنے کی ڈیل سن 2015 میں طے پائی تھی۔ ہسپانوی وزارت دفاع کے مطابق موجودہ سوشلسٹ حکومت نے ڈیل کے تحت ادا کی گئی 9.2 ملین یورو (10.6 امریکی ڈالر) کی رقم واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان نے ڈیل کی منسوخی کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کی یہ ڈیل اسپین کی سابقہ قدامت پسند حکومت کے دور میں طے پائی تھی۔