خاں صاحب کی ریا ست تبد یلی نظر آ رہی ہے ۔۔ضیغم سہیل وارثی

عدلیہ کام کر ئے تو ملک کا میا بی کی رہ پر چلتا ہے اور کا میا ب رہتا ہے ، چر چل نے کہا تھا عدلیہ آزاد پھر فکر کی بات نہیں ،عام الیکشن سے نئی پا رٹی حکو مت میں آ چکی ہے، مگر سیاسی دبا ؤ سے وہ کچھ نہیں ہو سکتا جس کی امید یں وا بستہ ہیں ، مگر ، مگر ایک صو رت اگر سپر یم کو رٹ سر پر رہے تو سب ممکن ، سپر یم کو رٹ کے چیف جسٹس صا حب نے فر ما یا ہے کہ ان کے ہو تے انصا ف ہو گا ،اب کی کا روائی سے لگتا ہے کہ ، جیسے شا عر نے کہا تھا ،،،
لیکن وہ تیرا وعد ہ جھو ٹا بھی نہیں لگتا
مثا ل بنتی ہے تو معا شر ے میں بہتری آ تی ، آ ج سے پہلے ،آ گے بھی ایسا ہوتا آ ئے گا جیسے ایک ایم پی اے نے عا م شہری کی سر عام سڑ ک پر پٹا ئی کی ، مگر جس طر ح اس کے خلا ف اسی کی اپنی جما عت اور ہما ری عدالت نے ایکشن لیا ہے ، اس سے ان طا قت میں مست لو گوں کو ہو ش میں آ نے میں آ سا نی ہو گی ، کیو نکہ پہلے نہ ہی ان سیا سی پا رٹیوں کی جانب سے اس طر ح کا ایکشن لیا گیا اور نہ ہی عدالتی کا روائی اتنی سخت نظر آ ئی ، خاں صا حب نے کہا تھا مد ینے جیسی ریا ست بنا ئیں گے ،تو عدالت نے جو ایک ایم پی اے کو سزا ء دی اس سے لگتا ہے کہ ہما رے ملک میں ایسے فیصلے ہوں گے جیسے حضر ت عمر فا روق کے دور سے با تیں مشہو ر ہو ئی تھیں ، ایم پی اے کو جر مانہ بھی کیا گیاہے اور سا تھ بلکل اسی طر ح کی شر مند گی کا سامنا بھی کر نا پڑ ئے گا جیسے ایک عام شہر ی کو کو ئی طا قت ور آ کر مارنا شر وع کر دے اور وہ بے چا رہ شر مند ہ ہو تا ہے اور اپنی بے بسی کا رونا روتا ہے ، ایک ایم پی اے کو سر عا م چا ر تھپڑ ما ریں جا ئیں یہ سزا ء دی گئی ہے ، اس پر عمل ہو گا تو ہو گا ،مگر اس طر ح کی سزاء ہما رے ملک کی عد لیہ دے گی ، جہاں طا قت کا را ج چلتا ہے ،تو یقین کر یں اس ملک میں بہت بڑی تبد یلی آ نے والی ہے ، یہ تبد یلی کی نشا نیا ں نہیں ہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طا قت وار سیا ست دان کے آ رام میں دخل دے کر وہاں کیا عیا شی کر تا ہے اس کو سر عام میڈ یا پر دکھا یا جا تا ہے ، اب سے پہلے ایسے ممکن نہیں تھا ، بڑ ے سے بڑ ے سر کا ری عہد ے رکھنے والوں میں اتنی ہمت ہو تی تھی کہ وہ اس طر ح کی کا روائیاں کر یں ، نہیں ، نہیں ، بلکل بھی نہیں ، چیف جسٹس صا حب کے الفا ظ یا د آ تے ہیں کہ اب میں جس اہم سیٹ پر ہوں اس سے زیا دہ قد رت مجھے کیا عز ت دے گی ، مر نا تو ہے ہی، تو کیوں نہ ملک اور عوام کے لیے اچھے کا م کیے جا ئیں ، عوام عد لیہ سے کچھ بیز ار ہو تی جا رہی تھی مگر ایک چیف جسٹس صا حب کی وجہ سے اور ان کے بعد ان کی با قی ٹیم کی کار کر دگی کے بعد عوام میں عد لیہ پر اعتما د بحال ہو نا شر وع ہو چکا ہے، ایک لیبل لگ چکا تھا کہ ہما رے ہاں قانون صرف غر یب کے لیے ہے اور امیر اور طا قت وار پر کو ئی ہا تھ نہیں ڈالتا تو شر جیل میمن کے کمر ے سے زیتون اور شہد کا بر آ مد کر نا اور مکمل چھپا ما رنا اس بات کا اشا رہ ہے کہ اب قا نو ن سب کے لیے برابر ہو گا ، عا م عوام جو سو چتی تھی کہ طا قت وار سیاست دان صرف عیا شی کر تے ہیں ، تو اب صو رت حال بدل رہی ہے ،لہذا پا کستان میں وہ سیا ست دان جو جیل جا نے کے بعد بھی زیتون اور شہد کو پسند کر تے تھے اب ان کے راز فا ش ہو ں گے اور ان کے بس میں اب نہیں رہے گا وہ سزا ء یا فتہ بھی ہو ں اور عیا شی بھی کر یں ۔ملک میں تبد یل صرف اس طر ح نہیں آ سکتی کہ صرف وزیر اعظم آپ کی پسند کا آ گیا تو ملک کی تقد یر بد ل جا ئے گی ، عوام کو ان اداروں کے ہا تھ مضبو ط کر نے چا ہیے جو مشکل اقداما ت کر کے عوام کی بھلا ئی کے لیے کا م کر تے ہیں، انڈ یا کی فلموں میں جو سین دکھا ئے جا تے ہیں کہ اچھے کا م کر نے والوں کو ان کے بچوں کی تصو یر دکھا کر بتا یا جا تا ہے کہ ہم جا نتے ہیں تمہا رے بچے کس وقت سکول آ تے جا تے ہیں ، اس پیغام کے ملنے کے بعد اما نت دار لو گ بھی قد م پیچھے کر لیتے ہیں ، ہما رے معا شر ے میں بھی یہ سب کچھ ہو تا ہے ، کچھ منظر پر آ تا ہے ، اس سا ری صو رت حال میں جو اچھے کا م کر تے ہیں عوام کو چا ہیے کہ ان کی طر ف سے اچھے اقداما ت کو سہرا یا جا ئے ، اس مقصد کے لیے سو شل میڈ یا کا سہا را لینا چا ہیے ، عد لیہ نے ہسپتا ل میں چھپا ما را تو معلو م پڑا کہ ہما رے سیا ست دان شہد اور زیتون استعما ل کر تے ہیں ، زیتون کے فوا ئد تو سن رکھے ہیں ، خا کسا ر کی خوا ہش ہے کہ شر جیل میمن زیتون اور شہد کے استعمال کے فوا ئد پر ایک کتا ب لکھیں تو عوام کا حق اداہو جا ئے گا اور جب قید سے آزاد ہوں گے تو میمن صاحب فخر سے کہیں گے کہ قید ی رہ کر بھی عوام کے فا ئد ے کے لیے قلم کا سہا ر لیتے رہے ہیں ، اب سوا ل پید ا ہو تا ہے کہ ، ان سیا ست دانوں کے بارے ان کے قا ئد محتر م کیا ایکشن لیں گے جن کے کا رکن شہد اور زیتو ن استعما ل کر تے ہیں ، مگر میڈ یا پر یہ لو گ آ تے ہیں تو اس طر ح کے سوالا ت پر ہنسی کے انداز میں با توں کو گول کر دیا جا تا ہے ، سیا ست دانوں کو اب اتنا معلوم پڑا چکا ہے کہ جو سر کا ری ادارے اچھے کا م کر تے ہیں تو عا م عوام سو شل میڈ یا کے ذریعے سہر اتی ہے اور غلط کا م ہو ں تو تنقید بھی کھل کر ہو تی ہے ،شر جیل میمن کے کمر ے سے شر اب بر آ مد ہو ئی تو وہاں پر مو جو د عملے پر سوالات اٹھتے ہیں کہ شر اب وہاں پہنچی کیسے ، اور جن لو گوں نے ان شر اب کی بو تلوں کو زیتون کا تیل اور شہد قرار دیا ان کو ایسی سزا دی جا ئے تا کہ سیاست دان تو سزا کے بعد جیلوں سے ہسپتالوں میں جا تے رہیں گے مگر ان کو وہاں کو ئی شراب اس سو چ میں نہ سپلا ئی کر تا ر ہے کے پکڑ ئے جا نے پر زیتون اور شہد بنا دیا جا ئے گا ، یہ تو سر عام کہا جا تا تھا کہ جیلوں میں جو چا ہیں دستیا ب ہو تا ہے اب ہسپتال میں بھی سب مل جا تا ہے ، عدلیہ کام کر ئے تو ملک کا میا بی کی رہ پر چلتا ہے اور کا میا ب رہتا ہے ، چر چل نے کہا تھا عدلیہ آزاد پھر فکر کی بات نہیں ،عام الیکشن سے نئی پا رٹی حکو مت میں آ چکی ہے، مگر سیاسی دبا ؤ سے وہ کچھ نہیں ہو سکتا جس کی امید یں وا بستہ ہیں ، مگر ، مگر ایک صو رت اگر سپر یم کو رٹ سر پر رہے تو سب ممکن ، سپر یم کو رٹ کے چیف جسٹس صا حب نے فر ما یا ہے کہ ان کے ہو تے انصا ف ہو گا ،اب کی کا روائی سے لگتا ہے کہ ، جیسے شا عر نے کہا تھا ،،،
لیکن وہ تیرا وعد ہ جھو ٹا بھی نہیں لگتا