بھارت میں ہم جنس پرستی سے پابندی ختم کر دی گئی

بھارتی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں کہا ہے کہ اس جنوب ایشیائی ملک میں ہم جنس پرستی اب قابل سزا جرم نہیں ہے۔ بھارت میں مختلف جنسی میلانات کے حامل افراد کے تحفظ حقوق کی خاطر یہ پیشرفت انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے آج جمعرات چھ ستمبر کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ہم جنس پرستی اب جرم نہیں ہے۔ یوں اس عدالت نے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 377 کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
سیکشن 377 میں واضح کیا گیا ہے کہ مردوں کا آپس میں جنسی عمل یا عورتوں کا آپس میں جسمانی ملاپ اور جانوروں کے ساتھ ایسا کوئی بھی عمل ممنوعہ اور قابل سزا جرم ہے۔ بھارت میں یہ قانون دراصل سن 1861میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں نے متعارف کرایا تھا۔اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی میں ایسا قانون لاگو کرنا نا مناسب عمل ہے کیونکہ کسی بھی جدید معاشرے میں اس قانون کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پانچ ہم جنس پسند افراد نے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس پرانے قانون کو ختم کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے وہ خوف میں زندگی بسر کرنے پر مبجور ہیں۔
جمعرات کے دن بھارتی چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ سیکشن 377 ’غیر منطقی، ناقابل دفاع اور غیر واضح‘ ہے۔ اس پیشرفت کو بھارتی ہم جنس پسندوں کی ایک جیت قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے لیے ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر مینا کشی گنگولی نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ عدالتی فیصلہ انتہائی اہم ہے کیونکہ بھارت میں ہم جنس افراد کی بڑی تعداد آباد ہے، جو ایک خوف میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہم جنس پرستوں کو معاشرے کا حصہ تسلیم کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ بالی وڈ میں کئی فلمیں ہم جنس پرستی کے موضوع پر بن چکی ہیں جبکہ مختلف جنسی میلانات اور رحجانات رکھنے والے افراد مختلف اجتماعات کا انعقاد بھی کرتے رہتے ہیں۔ تاہم بھارت کے اکثریتی طور پر قدامت پسند معاشرے میں ہم جنس پرستی کو تاحال شرم ناک عمل تصور کیا جاتا ہے۔