لیبر عدالتیں اور تارکین ِ وطن کے حقوق،ڈاکٹر علی الغامدی

روزنامہ عکاظ نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سعودی عرب کی وزارتِ انصاف نے لیبر عدالتوں میں کام کے لیے اٹھاون جج صاحبان کا انتخاب کرلیا ہے اور انھیں تربیت بھی دے دی ہے۔یہ عدالتیں آیندہ سال سے کام شروع کردیں گی۔ وزارت نے ان جج صاحبان کی پیشہ ورانہ تربیت کا بھی اہتمام کیا ہے تاکہ اس سے انھیں پیشہ ورانہ فرائض کی مناسب طریقے سے انجام دہی میں مدد مل سکے اور وہ اپنی مہارتوں کا قانونی ماحول میں اطلاق کرسکیں۔
ان ججوں کو مزدوروں سے متعلق قانونی معاملات کے بارے میں تربیت کی گئی ہے،ان امور میں ان کے تقرر ناموں یا ملازمت کے معاہدوں کی شرائط ،ملازمت کے دوران میں خطرات اور زخمی ہونے کی صورت میں معاوضوں کی ادائی،وزارت کے قواعد وضوابط کا اطلاق ، لیبر اور سماجی انشورنس کے قوانین سے متعلق سرکاری حکم ناموں اور فیصلوں کا نفاذ وغیرہ شامل ہیں۔ان ججوں کو قانون اور قواعدو ضوابط پر عمل درآمد اور مزدوری کے تنازعات میں شہادتوں کی تصدیق کے طریق کار ،ان تنازعات میں مصالحت اور متعلقہ فریقوں کے درمیان باہمی افہام وتفہیم کے ذریعے تنازعات کے حل کے بارے میں بھی ہدایات دی گئی ہیں ۔اس کے علاوہ انتظامی فیصلوں کی تنسیخ کے لیے کیس دائر کرنے سے متعلق بھی انھیں بتایا گیا تھا۔
تربیتی پروگراموں میں لیبر عدالتوں کے دائرہ اختیار ، لیبر عدالتوں کے بین الاقوامی عدالتی اصول ،دلائل دینے کی مہارت اور لیبر سے متعلق کیسوں کے قانونی مواد کی تشریح ،پیشہ ورانہ اخلاقیات اور لیبر مارکیٹ کے انداز فکر کی تربیت وغیرہ پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ججوں کا انتخاب بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا گیا ہے اور ہر جج کی قانونی قابلیت کی جانچ پرکھ کی گئی ہے اور صرف اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے جج صاحبان کا انتخاب کیا گیا یا پھر ان جج صاحبان کو ترجیح دی گئی ہے جنھوں نے لیبر قوانین اور بین الاقوامی لیبر معاہدوں اور سمجھوتوں پر تحقیقی کام کیا تھا یا جنھوں نے لیبر قوانین پر خصوصی تربیتی پروگراموں میں شرکت کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرایا تھا۔
مزید برآں عدالتی مقدمات کی سماعت کا طویل تجربہ رکھنے والے ججوں کا لیبر عدالتوں میں تعیناتی کے لیے انتخاب کیا گیا ہے۔وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ لیبر عدالتوں کے قیام کا مقصد سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے مواقع کو تقویت بہم پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ لیبر قوانین کے نفاذ میں شفافیت لانا،قانونی چارہ جوئی اور مقدمات کی سماعت کے وقت میں کمی اور عدالتوں اور رقوم کی منتقلی کو ڈیجیٹل بنانا ہے۔یہ تمام تفصیل خبری رپورٹ میں شامل ہے۔تاہم مجھے اس بات کا یقین نہیں کہ وزارتِ انصاف لیبر عدالتوں سے متعلق ان وعدوں کو پورا کرسکتی ہے۔خصوصی تعلیمی اہلیت اور پیشہ ورانہ قابلیت کے حامل جج صاحبان ان کیسوں اور امور کو نمٹانے کے لیے بالکل تیار ہوں گے جو عام عدالتوں میں فیصل کیے جانے والے کیسوں سے بالکل مختلف ہیں۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جج صاحبان لیبر امور سے متعلق جن کیسوں یا تنازعات کی سماعت کریں گے، وہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن دائر کریں گے۔ان کا تعلق مختلف خطوں اور ثقافتوں سے ہوگا اور جو مختلف زبانیں بولتے ہوں گے۔یہ تارکینِ وطن اپنے ملازمتوں کے معاہدوں یا تقرر ناموں پر عربی میں دستخط کرتے ہیں اور غالب امکان یہ ہے کہ وہ اس زبان کو کماحقہ نہیں جانتے ہیں ۔صرف اس ایک معاملے ہی کو لیجیے ۔وہ عربی زبان بول تو ضرور سکتے ہیں لیکن انھیں تحریری زبان سے اتنی زیادہ واقفیت نہیں ہوتی ۔اس لیے انھیں کچھ علم نہیں ہوتا کہ وہ جس تحریری معاہدے پر دستخط کررہے ہیں،اس میں لکھا ہوا کیا ہے۔انھیں معاہدے پر دستخط کے وقت دھوکا بھی دیا جاسکتا ہے ۔ان سے سعودی عرب میں آمد کے وقت بہت سے وعدے وعید کیے گئے ہوں گے لیکن انھیں درحقیقت ان میں سے بہت سی چیزیں نہیں دی گئی ہوں گی۔
لیبر عدالت میں قانونی چارہ جوئی کے عمل میں ایک تارکِ وطن ورکر کمزور فریق ہوگا کیونکہ وہ لیبر عدالت میں اپنے کیس کا زبان اور ثقافتی رکاوٹوں کی بنا پر دفاع نہیں کرسکتا۔وہ کسی وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں کرسکتا۔کیا ان امور کو لیبر عدالتوں کے کا م کے طریق کار میں ملحوظ رکھا گیا ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جو فریق قانونی چارہ جوئی کی لاگت ادا کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا،انصاف صرف اسی کو ملے گا؟
عدالتوں میں تارک ِ وطن ورکروں کی قانونی امداد کے لیے اہل اور سند یافتہ مترجمین اور رضا کار وکلا ء کا تقرر کیا جانا چاہیے ۔ججوں کو تمام فریقوں کے لیے قانونی طریق کار کو آسان بنانا چاہیے،بالخصوص ان تارکِ وطن ورکروں کے لیے جو عربی نہیں بول سکتے اور عدالت کے روبرو اپنے کیس یا کفیل سے تنازع کی بالکل واضح انداز میں وضاحت بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
مجھے امید ہے کہ لیبر عدالتیں بھی لیبر دفاتر ایسا روپ اختیار نہیں کریں گی۔یہ دفاتر تنازعات کے حل میں تو اچھا کردار ادا کررہے ہیں لیکن وہ اتنا اطمینان بخش نہیں ہوتا جتنا ہونا چاہیے اور بعض اوقات تو بالکل بھی منصفانہ نہیں ہوتا۔مجھے قارئین کی بہت سے ای میلز موصول ہوتی ہیں ،ان میں ان سے ناروا سلوک روا رکھنے والے کفیلوں کی شکایات درج ہوتی ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کو انصاف نہیں ملتا۔اس تناظر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس کی اُجرت دے دو‘‘۔