’جامعہ الازھر‘ کے ترجمان میگزین نے ’حجاب‘ اتار دیا!

مصر کی سب سے بڑی اور معتبر دینی درس گاہ ’جامعہ الازھر‘ کے ترجمان جریدے ’صوت الازھر‘ کے سرورق پر حال ہی میں شائع ہونے والی خواتین کی غیر حجب تصاویر نے ملک کے عوامی اور مذہبی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ ’جامعہ الازھر‘ نے یہ کہہ کر ان تصاویر کی اشاعت کا دفاع کیا ہے کہ ایسا جامعہ کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب کی خواتین کی ہراسانی کےخلاف جاری بیان کی حمایت میں کیا گیا ہے جب کہ مذہبی حلقوں کا کہنا ہےکہ جامعہ الازھر ضرورت سے زیادہ ’لبرلزم‘ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ جامعہ الازھر کے ترجمان میگزین ’صوت الازھر‘ کے سروق پر حال ہی میں 30 خواتین کی تصاویر شائع کی گئی تھیں۔ ان میں سماجی کارکنان، انسانی حقوق کی کارکنوں، ہراسانی کے خلاف کام کرنے اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دینے والی معتبر خواتین کی تصایر شائع کی گئی تھیں۔ان میں سے بعض تصاویر میں خواتین کے سرکے بال ننگے ہیں اور بعض نے حجاب پہن رکھا ہے۔جریدے کےادارتی نوٹ میں ’امام السند‘ کے الفاظ کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ تصاویر ادارے کے سربراہ الشیخ الازھر کے اس بیان کی حمایت میں شائع کی گئی ہیں جس میں انہوں نے ملک میں خواتین کی جنسی ہراسانی کی مذمت کی تھی۔
معاملے کا اپنی طور پر کھوج لگایا تو پتا چلا کہ جب سے جریدے کی ادارت صحافی احمد الصاوی کو سپرد کی گئی ہے جریدے کا ’انداز‘ تبدیل ہوگیا ہے۔ اس کے سروق اور اندرونی صفحات پر تصاویر پہلے سے مختلف انداز میں شائع ہو رہی ہیں۔ اس سے قبل جریدہ مصر کی خواتین وزیروں کی تصاویر اس لیے شائع نہیں کرتا تھا کہ وہ غیر محجب ہوتی تھیں مگر اب یہ پالیسی تبدیل ہوگئی ہے۔جریدے کے چیف ایڈیٹر احمد الصاوی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی غیرمحجب تصاویر کی اشاعت جامع الازھر کے سربراہ کے خواتین کی جنسی ہراسانی کے خلاف جاری کردہ ایک بیان کی حمایت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیخ الازھر کے بیان میں خواتین کے کسی مخصوص لباس پر اصرار نہیں کیا گیا اور نہ ہی مذہب کی بنیاد پر اس کی کوئی تفریق کی گئی ہے۔جامعہ الازھر کے ترجمان جریدے کی طرف سے متنازع تصاویر کی اشاعت پر سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل دیکھا جا رہا ہے۔ بعض شہریوں نے دینی درسگاہ کے جریدے پر غیرمحجب خواتین کی تصویروں کی اشاعت کو جامعہ کی پالیسی پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔