قائداعظم، پاکستان کی ترقی اور نوجوان۔۔وجیہہ تمثیل مرزا

آج بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 70 ویں برسی ہے اور آج کے نوجوانوں کےلیے یہ ایک خاص موقعہ ہے کہ جب وہ پاکستان کی ترقی میں اپنی اہمیت اور ضرورت کو سمجھیں۔ قائداعظمؒ نے اپنی تقاریر میں متعدد بار یہ فرمایا کہ پاکستان کی ترقی کا دارومدار نوجوان نسل پر ہے؛ جبکہ انہوں نے نوجوانوں کو ’’قوم کے معمار‘‘ کا شاندار لقب بھی عطا کیا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی تقریبات اور تقریری مقابلے رکھے گئے ہیں جن میں شرکت کرنے والے افراد، بشمول نوجوان، قائداعظمؒ کے اقوال فرمان، تقریر کوئی سنہری جملہ ذہن نشین کرکے دہرا رہے ہیں۔اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیز، ہر جگہ ہم قائدؒ اور اقبالؒ کی مثالیں دیتے ہیں۔ ضرور دیجیے لیکن اگر آپ اپنی نوجوان نسل اور بچوں کو قائد کے ہر فرمان پر چلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کی بہتر طریقے سے اصلاح بھی بہت ضروری ہے۔
قیام پاکستان سے لے کر اب تک قائدؒ کے جتنے بھی فرمان اور خطابات سننے یا پڑھنے میں آئے ہیں، ان میں جگہ جگہ نوجوان نسل کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کا درس دیا گیا ہے۔ قائدؒ کا فرمان یہی تھا کہ نوجوان ہی پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔’’پاکستان کی ترقی کی ڈور صرف نوجوانوں کی محنت پر منحصر ہے،‘‘ پشاور یونیورسٹی میں 1948 کے ایک جلسے میں قائداعظمؒ نے جو امید نوجوان نسل سے باندھی تھی، اگر صرف اسی پر عمل کرلیا جائے تو نہ صرف نوجوان اپنی ترقی کی راہ بہ آسانی طے کرسکیں گے بلکہ ان کے ساتھ یہ ملک بھی ترقی کی منزلیں تیز رفتاری سے طے کرنے لگے گا۔
جوانوں کے نام اپنے پیغام میں قائداعظمؒ نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو اصل پاکستان بنانے والوں اور جدوجہد کرنے والوں کے ایک اتحاد کی حیثیت سے دیکھ رہا ہوں۔ گمراہی اختیار نہ کرنا، نہیں تو ڈوب جاؤ گے۔ اپنے آپ کو مکمل طور پر متحد رکھنا۔ لوگوں کےلیے ایسی مثال قائم کرنا کہ اس ملک کے نوجوان کیا کرسکتے ہیں اور یہ پوری دنیا دیکھے۔ تمہاری بنیادی ذمہ داری اپنے اپ کو پاک کردار اور مستحکم رکھنا ہے۔ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کرنا ہے۔ ریاست کو ہر برائی سے بچانا ہے۔ اپنی تمام تر توجہ تعلیم کی طرف راغب کرو۔ اگر تم نے اس وقت اپنی تمام تر قوت کھو دی تو کچھ نہ پاؤ گے۔ قومی خدمت اور احساس ذمہ داری کے شعور کی نشوونما ہمارا فرض ہے، اس طرح کہ ہم آنے والی نسلوں کو پورے طور پر اس قابل بنا دیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں پاکستان کےلیے باعث عزت ہوں۔
کہنے کو تو یہ صرف چند الفاظ ہیں لیکن اگر ان پر غور کیا جائے تو صرف ایک بات سامنے آئے گی کہ قائدؒ کا مقصد نوجوان نسل کو بہتری، محنت، اتحاد، ایمان اور جدوجہد سمیت تمام اچھے کاموں میں ہمہ تن مصروف دیکھنا تھا۔لیکن جب بھی آج کے اس دور میں اپنے ملک کی نوجوان نسل کی طرف نظر جاتی ہے تو سوائے افسوس اور غم کے کچھ ذہن میں نہیں آتا کہ کیا قائداعظمؒ نے پاکستان کی نوجوان نسل کو ایسا دیکھنا چاہا تھا؟ جس انڈین کلچر کو ہماری نوجوان نسل ساتھ لے کر چل رہی ہے، کیا ایسا قائد نے چاہا تھا؟ ہاتھ پاؤں کی سلامتی کے ساتھ سڑکوں پر بھیک مانگتا دیکھا تھا یا ہاسٹلز جہاں والدین تعلیم کی غرض سے اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں وہاں بری صحبت اختیار کرنا اور نشہ آور مواد کو اپنا اثاثہ حیات زندگی بنانا، کیا ایسے بنے گا قائدؒ کا پاکستان؟
قائدؒ کا پیغام یہی تھا کہ پاکستان کی ترقی صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہوگی کہ جب قوم اتحاد اور امن کو اوّلین ترجیح رکھے گی۔ نوجوان اپنے اور ملک کے مستقبل کو سنوارنے کےلیے یک جان ہوں گے۔ہر نوجوان اور بچے کو، جو اس ملک کا سرمایہ ہے، یہ سوچنا چاہیے کہ قائدؒ نے آپ کےلیے ایسا پاکستان نہیں بنایا تھا جیسا آج قائم ہے۔قائداعظمؒ کے حقیقی پیغام کو پہچاننا، آج کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اپنے اعمال اور زندگی کے ہر فعل کو دین کے حوالے سے عملی اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے مثالی بنائیے۔ برائی سے بچنے والی قومیں ہی فلاح پاتی ہیں۔تو چاہے قائداعظمؒ کا یوم پیدائش منائیے یا یوم وفات، اپنے آپ کو پہلے قائدؒ کے ہر فرمان پر پورا اترنے والا بنائیے، ایسا کہ جیسے انہوں نے اس قوم کے بچوں سے چاہا تھا۔ قائداعظمؒ کےلیے اس سے بڑھ کر کوئی اور خراجِ عقیدت ہو ہی نہیں سکتا۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

نوٹ:دوست نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔