پاکستانی کمیونٹی اسپین اپنی شناخت ڈھونڈ رہی ہے۔۔خالد شہباز چوہان

‎آج جب فیس بک کھولی تو ڈیم کے لئے دیئےگئے پیسے دیکھ کر جہاں دل خوش ہوتا ہے وہاں ایک دکھ بھی ہے بارسلوناکے گزرے دن آنگھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح گزرتے رہے ! مجھے یاد ہے جب 2005 میں پاکستان پر زلزلے کی صورت میں ایک قیامت کی گھڑی گزری تھی حکومت پاکستاُن نے اوورسیز پاکستانیز سے مدد کی اپیل کی ،ہمارے پاس اس وقت ایک پلیٹ فارم تھا جس کا نام “پاک فیڈریشن اسپین”تھا تمام دوست اور سماجی مذہبی ،سیاسی تنظیمات اس کا حصہ تھیں ۔جو ایک جمہوری عمل کے ساتھ چل رہی تھی جس میں اپوزیشن بھی ہوتی تھی جو ایگزیکٹیو کو کام کرنے میں ایک کردار ادا کرتی تھی زلزلہ میں اپنے بھائیوں کی مدد بڑھ چڑھ کرکی گئی اس کے لئے مختلف جگہوں پر کیمپ بھی لگائے گورنمنٹ کاتالونیا اور سپین تک بات پہنچائی گئی اور حکومت کی سطح پر مدد بھی کی گئی ایک جوش اور جذبہ تھا جو اپنے بھائیوں کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔پھر وہ وقت آیا جب پاکستاُن اپنی تاریخ کے بد ترین سیلاب سے گزرا اور قوم کو ہماری ایک دفعہ پھر ضرورت پڑ ی “پاک فیڈریشن “نے پھر ایک دفعہ اپنا کردار ادا کیا اور کمیونٹی میں ایک مکمل اتحاد کے ساتھ جوش جذبہ نظر آیا ۔کیمپ لگے پاکستان کے لئے ادویات اور صاف پانی ،خیمے ایک بہت بڑ ی مدد سپین سے پاکستان پہنچی اور حکومتی سطح تک بھی بہت کچھ کیا گیا ! میں یہاں کسی ایک بندے کی تعریف نہیں بلکہ ایک ادارہ کی بات کر رہا ہوں جو کیمونٹی کا ایک چہرہ تھا پھر اس کو کسی کی نظر لگ گئی حالات ایسے پیدا کر دئیے گئے اس میں سے “کاتالان فیڈرئشن “ایک الگ ادارہ بن گیا اور “پاک فیڈریشن”جو ایک ر جسٹرڈ ادارہ تھا وہ ہوا میں معلق ہو گیا جہاں ان کاوشوں کو نقصان پہنچا وہاں جشن آزادی کا مرکزی پروگرامُ 23مارچ کا پروگرام وہ سب ہوا میں چلے گئے۔پاک فیڈریشن اسپین جو ایک رجسٹرڈ اور مضبوط ادارہ تھا وہ مخصوص لوگوں کے ہاتھ چلا گیا اور آج یہ رجسڑرڈ بھی نہیں رہا اور نہ جمہوری رہا۔بس نام رہ گیا ہے ! اس کا مطلب یہ نہیں وہ لوگ کام نہیں کر رہے لیکن اندازہ لگائیں ایک اتحاد کے لئے بنایا گیا ادراہ اپنی کئی بانی تنظیموں کو نیچا دکھانے میں لگ گیا ! ایک ہی دن میں دو دو پروگرام اور منفی مقابلہ کے رجحان کو فروغ دیا گیا ! بات دور نکل گئی اس پر پھر کبھی تفصیل سے بات کروں گا۔آج پھر پاکستان سے مدد کی اپیل آئی اور حالات دیکھ لیں! ٹیکسی سیکٹر ایک فابلُ ستائش ادارہ کے طور پر سامنے آیا ان کی کوشش سب کے سامنے ہے۔لیکن وہ ایک پروفیشنل پلیٹ فارم ان لوگوں کا جو اپنے کام کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں۔اس وقت ایک قوت جو ہم بن سکتے تھے ایک ایسے سوشل پلیٹ فارم کی صورت میں اس کی کمی کھل کے سامنے آگئی نہ صر ف ان موقعوں پر بلکہ جب پاکستاُن کا حکومتی عہدیدار آتا تھاتو ایک پلیٹ فارم نظر آتا تھا مہمان کسی کا بھی ہوتا تھا تو مرکزی پروگرام ادارہ کے تحت ہوتا تھا اس اتحاد میں سپین اور اٹلی کا ایک نام تھا لیلن افسوس صد افسوس وہ ادراہ وہُ اتحاد کچھ لوگوں کو پسند نہیں تھا آج بارسلونا کی کمیونٹی یتیموں کی طرح سڑک پر کھڑی رو رہی ہے روتی ہوئی کیمونٹی کبھی ٹیکسی سیکٹر والے دودھ پلا جاتے ہیں کبھی کوئی چھوٹی فیڈریشن یا کوئی مذہبی تنظیم اس کو لولی پاپ دے جاتی ہے۔بچہ وقتی طور پر خوش ہوجاتا ہے لیکن کیا بچے کو ایسے ہی لولی پاپ دے کر آگے نکلتے جائیں گے! کاش آج پلیٹ فارم زندہ ہوتا تو پاکستان گورنمنٹ کے سامنے ایک مثال بنتا اور پھر ہم سینہ تان کروہاں جا کر کہتے ہمیں سکول کی ضرورت ہے ہمیں دوہری شہریت کی ضرورت ہے ہمارے یہ مسائل ہیں ان کاحل نکالے ! قصور ہم سب کا ہے میں بھی انُ قصور واروں میں شامل ہوں! لیکن کیا کبھی اس کا حل نکلے گا !!!!!